| |
Home Page
اتوار 3؍ جمادی الاوّل 1439ھ 21 ؍ جنوری2018ء
منصور آفاق
January 12, 2018 | 12:00 am
کچھ ہونے سے پہلے

Before Anything Happens

معروف شاعرہ ناز بٹ نے چائے پر بلایا تھا چائے عامر بن علی کو پلائی گئی اسی کے صدقے ہمیں بھی مل گئی وہاں بہت سے احباب تھے،علامہ فاروق عالم انصاری سے لیکر شعیب بن عزیز تک بڑی بڑی شخصیات کا ایک جم غفیر تھا۔مجیب الرحمن شامی بھی موجود تھے بلکہ چائے کی اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے اور امجد اسلام امجد تقریب کے ممنون حسین تھے ۔افسوس کہ میں ان کی غزل سنے بغیر اس کی پارٹی سے نکل آیا ۔پی ٹی وی پہنچنا تھا گرتی ہوئی عمارت کی چھت سے لوگوں کو بچانے کے لئے دو چار ستون کھڑےکرنے تھے جیسے ہی پی ٹی وی لاہور سینٹر میں پہنچا تو نیوز کے ایک پروڈیوسر سے ملاقات ہوئی وہ خبررساں شخصیت کہنے لگی ’’تمہیں معلوم ہے مجیب الرحمن شامی اپنی فیملی سمیت ملک سے چلے گئے ہیں یعنی فرار ہو گئے ہیں۔ میں نے ہنس کر کہا ’’بے شک وہ بہت بڑی روحانی شخصیت ہیں ایک ہی وقت کئی جگہ موجود ہوسکتے ہیں ابھی میں جس تقریب سے آیا ہوں وہاں بھی موجود تھے اور ہاں عامر بن علی سے جاپان کے بارے میں بھی کچھ معلومات حاصل کر رہےتھے ممکن ہے لندن کے بعد جاپان میں بھی خیالی جلاوطنی کے کچھ دن گزارنے ہوں، ویسے اور تو نواز شریف کی ساری باتیں اچھی ہیں مگر اس حوالے سے وہ خودغرض واقع ہو گئے ہیں کہ جلاوطنی کا معاملہ صرف اپنے خاندان تک محدود رکھتے ہیں کسی اور کو ساتھ لیکر نہیں جاتے ۔ہمارے غوث علی شاہ آج تک یہی کہتے پھر رہے ہیں کہ کیا سعودیہ سے آنے والے جہاز میں ایک سیٹ میرے لئے نہیں تھی انہیں کون سمجھائے کہ وہ جلاوطنی جس میں میزبان بادشاہ وقت ہوں ان کے معاملات کچھ اور ہوتے ہیں یہ جلاوطنی قطعاً غریب الوطنی نہیں ہوتی۔
(بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھائوں گھنی ہوتی ہے ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے) ویسے اس مرتبہ نواز شریف کے لئے میرا مشورہ ہے کہ جلاوطنی کی کوئی صورت نکل آئے تو بہت سے’’نمک حلالوں ‘‘ کو ضرور ساتھ لے کر جائیے گا ۔ وگرنہ یہ لوگ پیچھے آپ کے خلاف بغیر وجہ کے باتیں کرتے رہتے ہیں الٹی سیدھی باتیں ....گول مٹول بچوں جیسی باتیں ۔میرے ایک دوست کا خیال ہے وہ لوگ جو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سڑکوں پر چوراہوں پر پھول بکھیرتے پھرتے ہیں ان کے خلاف کارروائی ضرور ہو گی ’’فرشتوں ‘‘نے آسمانوں پر بیٹھ کر پلان نمبر تین فائنل کرلیا ہے اور وہ لوگ بھی ملک چھوڑنے کے لئے تیار بیٹھے ہوئے ہیں اس فہرست میں بڑے بڑے نام موجود تھے۔ عطاءالحق قاسمی کا نام بھی فہرست سے نکالا نہیں گیا حالانکہ وزارت اطلاعات و نشریات کے خلاف کالم لکھنے والے اور مستعفی ہونے والے عطاء الحق قاسمی گزشتہ روز نواز شریف کے ساتھ لنچ کرنے گئے ہوئے تھے ۔اس لنچ میں مریم نواز شریف بھی موجود تھیںپرویز رشید بھی تھا مگر مریم اورنگزیب تھی وہ جسے ہونا چاہئے تھا وہ نہیں تھی۔
نون لیگ کے سوشل میڈیا اور غیر سوشل میڈیا دونوں کے لئے ان دنوں کچھ اچھی خبریں نہیں گردش کر رہیں۔جو کچھ احمد نورانی کے ساتھ ہوا تھا ویسا ہی کچھ اس کے کچھ اور دوستوں کے ساتھ بھی ہونے جا رہا ہے ۔دوسری طرف عطاءالحق قاسمی کے لنچ کے بعد ابصار عالم اپنے ڈنر کے انتظار میں بے چینی کے ساتھ جاتی امرا کے فٹ پاتھ پر چل رہا ہے ابھی ابھی یہ جو کچھ طلحہ صدیقی کے ساتھ ہوا ہے یہ سب کے ساتھ ہوسکتا ہے ۔’’عامر میر ‘‘ کے نام کے ارد گرد بھی سرخ دائرہ لگا دیا گیا ہے اس کے علاوہ وہ تمام صحافی جون لیگ کی کچن کیبنٹ میں شامل ہیں انہیں پرائیویٹ گارڈز کی اشد ضرورت ہے کیونکہ سرکاری بقول عامر بن علی، حسن اور حکومت سے کون جیت سکتا ہے یہ بتائو دونوں کی عمر کتنی ہے۔
ن لیگ کی خبررساں ایجنسیوں نے ابھی ابھی اطلاع دی ہے کہ قصور کے واقعات میں ڈاکٹر طاہر القادری ملوث ہیں وہ معصوم بچی جس پر ظلم کی انتہا ہوئی ہے اس کا والد ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنوں میں جایا کرتا تھا وہ دو لوگ جو پولیس کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں وہ بھی منہاج القرآن میں شامل تھے یعنی کہ پاکستان عوامی تحریک کے شہیدوں کی تعداد 14سے بڑھ کر 16ہو گئی ہے اور ڈاکٹر طاہر القادری کی اس تحریک کا آغاز ہو گیا ہے جو کہ 17جنوری کو شروع ہونی تھی قصور میں ہونے والے احتجاج کا سلسلہ کراچی تک پہنچ چکا ہے لگتا ہے ایک دو روز میں نظام ظلم کے خلاف یہ احتجاج پورے ملک پر محیط ہو جائے گا امکان ہے اس احتجاج کی قیادت ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ عمران خان بھی کریں گے اور جیسے انہوں نے بڑے میاں صاحب کو ’’اسلام آباد نکالا‘‘ دیا اسی طرح شہباز شریف کو ’’پنجاب نکالا‘‘ دیں گے۔ن لیگ کے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تمام احتجاج مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات کو روکنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ بلوچستان کی صورتحال بھی اسی سے وابستہ ہے پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ بلوچستان اسمبلی ٹوٹ جائے اور سینیٹ کے انتخابات ملتوی ہو جائیں اس میں آصف علی زرداری بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔
سچ تو یہ ہے کہ کوئی بھی نہیں جانتا کہ کیا ہونے والا ہے نہ عمران خان کو سامنے کوئی صاف منظر دکھائی دے رہا ہے نواز شریف کے سامنے تو خیر دور دور تک اندھیرا ہے۔ آصف علی زرداری بھی گوادر کے پانیوں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اور بلاول انہیں ڈوبنے سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے ۔
ایسی صورتحال میں کوئی یقینی بات کرنا مجھے اچھا نہیں لگتا اگرچہ کچھ براہمن زادے چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ بس حکومت گئی، دو سال کیلئے ٹیکنوکریٹس آ رہے ہیں انتہائی سخت احتساب کا طبل بج چکا ہے ۔کرپشن کی ذلت ختم ہونے والی ہے سچائی اور ایمانداری کا سورج طلوع ہونے والا ہے مگر میں کیا کروں میں تو ہر مارشل لاء سے پہلے ہی جملے سنتے آ رہا ہوں۔