| |
Home Page
اتوار 3؍ جمادی الاوّل 1439ھ 21 ؍ جنوری2018ء
January 13, 2018 | 12:00 am
قومی اسمبلی، سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کادائرہ فاٹا تک بڑھانے کا بل منظور، جے یو آئی کا واک آئوٹ

Todays Print

قومی اسمبلی، سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کادائرہ فاٹا تک بڑھانے کا بل منظور، جے یو آئی کا واک آئوٹ

اسلام آباد (نمائندہ جنگ)قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ اور پشاور ہا ئیکورٹ کا د ائرہ کار فا ٹاتک توسیع دینے کا بل( عدالت عظمیٰ اور عدالت عا لیہ ( وفاق کے زیر انتظام قبائلی علا قہ جات تک اختیار سماعت کی وسعت ) بل 2017 )بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے۔ صرف ایک رکن اسمبلی جے یو آئی (ف ) کی نعیمہ کشمور نے بل کی مخالفت کی۔بل کی منظوری سے حکومت اور اپوزیشن کے در میان گزشتہ سیشن سے چلی آنے والی کشیدگی اور تنائو ختم ہو گیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق فاٹا کے ارکان اسمبلی نے بل کی منظوری کے بعد کہا کہ آج کا دن قبائلیوں کے لئے خوشی کا دن ہے۔ا سپیکر سردار ایاز صا دق نے اجلاس کی صدارت کی‘بل ایجنڈے پر نہیں تھا لیکن اپوزیشن کے مطالبے پر ترمیمی ایجنڈا جاری کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی اس بل سے متعلق رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق بل میں تجویز کیا گیا تھا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات تک سپریم کورٹ اور اسلام آ باد ہا ئیکورٹ کے اختیار سماعت کو وسعت دی جا ئےلیکن کمیٹی نے اس میں یہ ترمیم کی کہ اسلام آ باد ہائیکورٹ کی بجائے پشاور ہائیکورٹ کا اختیار سماعت بڑھا یا جا ئے۔ا سپیکر نے رپورٹ پیش کرنے کی ایوان سے منظوری مانگی تو جے یوآئی (ف ) کی ایم این اے نعیمہ کشور نے نو کا نعرہ لگا یا۔ نعیمہ کشور نے کورم کی نشاندہی کردی جس پر ایک رکن نے شیم کانعرہ لگا یا۔ا سپیکر نے گنتی کرائی تو کورم پورا تھاجس پر ڈیسک بجائے گئے۔وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف چوہدری بشیر محمود ورک نے بل پیش کیا۔ نعیمہ کشور نے کلاز ٹو میں ترمیم پیش کی کہ پشاور ہائیکورٹ کی بجائے اسلام آ باد ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار کو وسعت دی جا ئے۔ نعیمہ کشور نے بل پیش کرنے کی اجاز ت دینے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بل ایجنڈے پر نہیں تھا ‘یہ غلط طر یقہ کار ہے‘ انہوں نے اسپیکر سے کہا کہ آپ بل ڈوز کر رہے ہیں۔ا سپیکر نے وضاحت کی کہ جب ممبران کی اکثریت کو ئی ایشو لینے کا مطالبہ کرے تو اسپیکر کو اختیار ہے کہ اسے ایجنڈے میں شامل کرے۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف چوہدری بشیر محمود ورک نے ترمیم کی مخالفت کی ۔ ترمیم ایوان میں پیش کی گئی جسے بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا گیا۔ نعیمہ کشور نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175کے تحت ہا ئیکورٹ صرف صوبے کیلئے ہوتی ہے۔ فا ٹا کے پی کا حصہ نہیں ہے۔پشاور ہا ئیکورٹ کو کیسے فا ٹا تک توسیع دی جا سکتی ہے۔ فا ٹا میں کوئی سیٹ اپ نہیں ہے۔ نہ پولیس سسٹم ہے نہ ریونیو سسٹم ہے۔ کیا جرگہ کے خلاف لوگ ہا ئیکورٹ میں جائیں گے۔یہ آئین کے آرٹیکل 247 کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ بل پر بحث کیلئے دو دن ملنے چائیں۔نعیمہ کشور نے کلاز تھری میں بھی ترمیم پیش کی لیکن پھر انہوں نے بطور احتجاج یہ ترمیم واپس لے لی اور ایوان سے واک آئوٹ کر دیا۔وفاقی وزیر قانون نے وضاحت کی کہ پشاور ہائیکورٹ چونکہ فا ٹا کے قریب ہے اسلئے یہ ترمیم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر رٹ کیلئے ہا ئیکورٹ تک فا ٹا کی رسائی ضروری ہے۔ نعیمہ کشور دو بارہ ایوان میں واپس آگئیں اور کہنے لگیں کہ ہم بھی ایف سی آر کا خا تمہ چا ہتے ہیں لیکن ابھی فا ٹا میں کوئی سسٹم نہیں ہے۔وفاقی وزیر نے اس کے بعد بل منظوری کیلئے پیش کیا اور ایوان نے بھاری اکثریت سے وفاق کے زیر انتظام قبا ئلی علا قہ جات تک عدالت عظمیٰ پاکستان اور عدالت عالیہ پشاور کے اختیار سماعت میں توسیع کا بل منظور کر لیا۔منظوری کے بعد ممبران نے ڈیسک بجائے۔بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ فا ٹا کے لوگوں کو ان کی خوا ہشات اور امنگوں کی مطابقت میں مرکزی دھارے میں لانے کیلئے ضروری ہے کہ عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ پشاور کے اختیار سماعت کو مذکورہ علاقہ جات تک توسیع دی جائےتاکہ ان کے حقوق کا تحفظ ہوسکے اور انہیں دستور کی مطابقت میں انصاف کے صحیح انصرام کا اہتمام کیا جا سکے۔