| |
Home Page
ہفتہ 2؍ جمادی الاوّل 1439ھ 20 ؍ جنوری2018ء
یاسر پیر زادہ
January 14, 2018 | 12:00 am
پتھر کے زمانے کے درندے

The Beasts Of Stone Age

زینب کا قاتل گرفتار ہو جائے گا اور اسے سزا بھی ہو جائے گی۔ مسئلہ مگر ختم نہیں ہوگا ۔کیوں؟
انسان بنیادی طور پر درندہ ہے، اس نے فقط تہذیب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ پتھر کے دور میں انسان جانوروں کے ساتھ رہتا تھا، انہی کی طرح شکار کرکے کھاتا تھا، انہی کے ساتھ اٹھتا، بیٹھتا اور سوتا تھا، عورت کا استعمال بھی اسی طر ح کرتا تھا جس طرح جانور اپنی مادہ کا کرتے ہیں، کسی رشتے کا پاس نہ کسی عمر کا لحاظ۔ پھر دھیر ے دھیرے اس نے عقل و شعور کی منازل طے کیں، مختلف علوم سے آگاہی حاصل کی، خود کو جانوروں سے ممتاز جانا، تہذیب سیکھی، جنگل سے باہر آکر انسانوں کی دنیا بسائی، معاشرہ تشکیل دیا، خاندانی نظام وجود میں آیا، رہنے سہنے کے لئے قوانین بنائے گئے اور یوں کئی ہزار برس بعد موجودہ سماج کی ایک شکل بنی جس میں آج ہم بطور انسان بجا طور پر خود کو باقی تمام مخلوق سے برتر اور افضل سمجھتے ہیں۔ انسان کی جبلت مگر وہی ہے اور اس میں وہ تمام خصلتیں پائی جاتی ہیں جو آج سے ایک لاکھ برس پہلے کے انسان میں پائی جاتی تھیں اسی لئے جہاں بھی اسے موقع ملتا ہے، تنہائی میں یا کسی ایسی جگہ جہاں اسے اپنی شناخت کے ظاہر ہونے کا ڈر نہ ہو، وہاں انسان کے اندر کا درندہ باہر آ جاتا ہے اور پھر وہی کچھ کرتا ہے جو پتھر کے دور کا انسان کرتا تھا۔ ایک پرانی کہاوت ہے کہ کسی انسان کا اگر اصل چہرہ دیکھنا ہو تو اسے اوڑھنے کے لئے ایک نقاب دے دو، باطن آشکار ہو جائے گا۔ اب اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تمام انسان موقع ملنے پر انہی گھناؤنی حرکتوں کا ارتکاب کرتے ہیں کیونکہ لاکھوں برس گزرنے کے بعد اب انسان نے اپنے لئے کچھ قوانین اور اخلاقی حدود ایسی متعین کر لی ہیں جن کے بارے میں پوری دنیا میں اتفاق پایا جاتا ہے اور جنہیں ایک طرح سے آفاقی سمجھا جاتا ہے۔ انسانوں کی اکثریت ہزاروں لاکھوں برس گزرنے کے بعد اب مہذب ہو چکی ہے، اب عورت کو محض جنس نہیں سمجھا جاتا، بچوں یا بالغوں کو بھی غلام نہیں بنایا جاتا، اب نسل پرستی کو برا سمجھا جاتا ہے اور کسی کو مذہب، عقیدے، رنگ، قومیت، زبان یا معذوری کی بنیاد پر کمتر نہیں سمجھا جا سکتا۔ لیکن بے شمار انسان ہم میں آج بھی موجود ہیں جو اسی طرح درندہ صفت ہیں جس طرح پہلے دور کے انسان ہوا کرتے تھے یا یوں کہئے کہ ہر انسان میں تمام اچھائیوں کے باوجود درندگی کے کچھ نہ کچھ جراثیم پنپتے رہتے ہیں، بعض انسانوں میں یہ جراثیم غیرفعال ہو چکے ہیں، کچھ میں یہ صرف اُس وقت فعال ہوتے ہیں جب انہیں اپنے پہچانے جانے کا خوف نہیں ہوتا اور کچھ انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں درندگی کے یہ وائرس ہمہ وقت فعال رہتے ہیں۔ ایسے ہی کسی درندے نے، جو اِس قسم کے وائرس کا کیرئیر تھا، زینب کا قتل کیا ہے۔ہم لوگ چونکہ شارٹ کٹ پر یقین رکھتے ہیں سو ہمارا خیال ہے کہ زینب یا ایسے ہی دیگرمعصوم بچوں کے قاتل کو اگرپھانسی ہو جائے تو معاشرے سے یہ درندگی ختم ہو جائے گی ۔اس مسئلے کا حل سادہ ہے نہ آسان ، اس کے تین پہلو ہیں ، انتظامی ، تعلیمی اور اخلاقی ۔
جب بھی کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے ہماری توپوں کا رُخ انتظامیہ کی طرف ہو جاتاہے ، ڈی پی او تبدیل کردیا جاتا ہے ، لوگ ڈی سی کے دفتر پر حملہ آور ہوتے ہیں ، حکمرانوں پر تبرّیٰ کیا جاتا ہے ، مقامی ایم این اے کے ڈیرے پر دھاوا بولا جاتا ہے اور اگر اس سے بھی دل کی بھڑاس نہ نکلے تو شہر میں مظاہرین ٹائر جلا کر ماحول کا جنازہ نکال دیتے ہیں ۔ مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ ایسے کسی واقعے میں پولیس کو گالیاں دینے کا کیا جواز ہے ، کیا عوام یہ چاہتے ہیں کہ ہر شہر کے ہر بچے کے ساتھ ایک پولیس والا بندوق لے کر سائے کی طرح اس کے ساتھ رہے یا اُن کا خیال ہے کہ پولیس اور انتظامیہ کی ملی بھگت سے ایسے واقعات ہوتے ہیں !جلتی پر تیل کا کام خود حکومت کرتی ہے جب متعلقہ ڈی پی او یا ڈی ایس پی کو فوراًعہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے تو اس یہ تاثر مزید پختہ ہو جاتا ہے جیسے یہ واقعہ پولیس کی نا اہلی سے ہی پیش آیا ۔ چرس کے مبینہ سُوٹے لگانے والی ایک اداکارہ (ماہرہ خان نہیں ) نے اپنے اکاؤنٹ سے قصور کے ایم این اے اور ایم پی اے کے نام اور نمبر لکھ کر ٹویٹ کیا کہ اگر آپ زینب کے لئے انصاف چاہتے ہیں تو اپنا فون اٹھائیں اور ان ناکارہ سیاست دانوں کو بتائیں کہ آپ کا ان کے بارے میں کیا خیال ہے !ان محترمہ سے بندہ پوچھے کہ قصور سے قومی یا صوبائی اسمبلی کا منتخب نمائندہ اس گھناؤنے جرم کا ذمہ دار کس طرح ہو گیا۔۔۔یہ ٹویٹ شاید ان محترمہ نے ہوش میں نہیں کی اور اگر وہ با ہوش تھیں تو پھر انہیں اپنے دماغ کا علاج کروانے کی ضرورت ہے۔تشدد کے بھوکے معاشرے میں ہم سطحی جذباتیت بیچتے ہیں اور ایک بچی کی لاش پرسیاست کا بازار چمکاتے ہیں اور رتی برابر ہمیں شرم نہیں آتی ۔ یہ بات درست ہے کہ انتظامی اعتبار سے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر ہم ایسے جرائم کا تدارک تو شاید نہیں کر سکتے مگر ایسے درندوں کو زینب جیسی بچیوں کے قتل سے پہلے پکڑا جا سکتا ہے مگر جدید ٹیکنالوجی کا یہ استعمال اتنا آسان نہیں ۔
جی ہاں بچوں کو اس بات کی تعلیم دی جانی چاہیے کہ کیسے انہیں اپنی حفاظت کرنی ہے اور کن حالات میں انہیں کس طر ح کے رد عمل کا اظہار کرناہے،دوسری طرف والدین کو بھی بچوں پر کیسے نظر رکھنی ہے ،اگر وہ اُن کے رویے میں کسی قسم کی غیر متوقع تبدیلی دیکھیں تو انہیں کیا کرنا چاہئے ، ا سکول میں بھی بچوں کو اِس بارے میں آگاہی دینی چاہئے ۔۔۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ’’اڈاری ‘‘ جیسے ڈرامے یہ خدمت انجام دے رہے تھے ، اس ڈرامے میں کہیں سے بھی بچوں کے لئے ایسی کسی تربیت کا شائبہ بھی نہیں ملتا تھا اور رہی بات بچوں کے خلاف جنسی ہراسگی کے معاملے کو ’’اجاگر‘‘ کرنے کی تو اڈاری نے فقط اسے گلیمرائز کیا اجاگر نہیں کیا۔اسی طرح جو لوگ بچو ں کو آگہی دینے کی غرض سے اسکولوں میں سیکس ایجوکیشن دینے کی بات کرتے ہیں میں ان سے ادب سے اختلاف کرنے کی جسارت کرتا ہوں، یہ مغرب کا ایشو ہے جہاں اسکولوں کالجوں میں نو عمر لڑکیاں چودہ پندرہ سال کی عمر میں تعلقات قائم کرکے ماں بن جاتی ہیں ، انہیں یہ سکھانا اور بتانا ضروری ہوگا کہ اس کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں ، اپنی حفاظت کیسے کرنی ہے ، ایک دوسرے سے فاصلہ کیسے برقرار رکھنا ہے کہ معاملات بہت زیادہ آگے نہ بڑھ جائیں وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اپنے ہاں جو بھی ہے ابھی اتنی لو ٹ نہیں مچی ، ہمارے بچے معصوم ہیں ، ان کی عمر سے پہلے انہیں سیکس ایجوکیشن دے کر ان کی معصومیت ختم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ممکن ہے بعض لوگوں کے خیال میں یہ ایک دقیانوسی قسم کی بات ہو مگر کیا کروں میں شاید اندر سے ایسا ہی دقیانوسی ہوں۔
اخلاقی اعتبار سے ہمارا معاشرہ تقسیم شدہ ہے ، زینب جیسے واقعے کے بعد بھی یہ حال ہے کہ مذہبی خیالات کے حامل لوگ موم بتی مافیا کی پھبتیاں کسنے سے باز نہیں آتے اور ادھر ہمارے لبرل لوگ یہ طعنہ دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ زینب تو بچی تھی ، اس نے کن مذہبی شعائر کی خلاف ورزی کرکے کسی مرد کے جذبات بھڑکائے کہ اس معصوم کو جنسی درندگی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا۔زینب او ر اس جیسے سینکڑوں دوسرے بچوں کے ساتھ پیش آنے واقعات کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں نہ صرف پتھر کے زمانے کے درندے موجود ہیں بلکہ بطو ر اس ملک کے شہری ہم اخلاقی اعتبار سے ابھی تک تہذیب کے اس مقام تک نہیں پہنچے جہاں دوسرے ممالک ، جن میں ایسے واقعات کم ہوتے ہیں ، پہنچ چکے ہیں ۔ ان ممالک نے یہ مقام، قانون کی کڑی پاسداری اوربہتر طرز حکمرانی کے ساتھ ساتھ ، عورت کو برابری ، احترام اور اختیار دے کر حاصل کیا ہے ۔زینب پر ماتم کرنے والے خود سے یہ سوال پوچھ کر دیکھیں کیا وہ اپنی عورتوںکوویسے ہی برابری ، احترام اور اختیار دیتے ہیں ! ان کے جواب سے ہی اس مسئلے کی گرہیں کھل جائیں گی۔