| |
Home Page
جمعرات18؍ ربیع الثانی 1439ھ 18 ؍ جنوری2018ء
منصور آفاق
January 14, 2018 | 12:00 am
لاہور پھر کہیں قتل گاہ نہ بن جائے

Lahore Not To Become Massacre Site Again

بڑے دنوں کے بعدآج ڈاکٹر طاہرالقادری سے ملاقات ہوئی۔ اسی طرح پرجوش دکھائی دیئے ، عمل لہو کی طرح ان کی رگوںمیں دوڑتا ہوا محسوس ہوا۔ علم، فسوں کی طرح ان کی گفتگو میں پھیلتا ہوا نظر آیا۔ انہوں نے مجھے سینے سے لگایا اور سچ لکھنے والے قلم کو دعا دی کہ تیرا خاتمہ نہ ہو وہاں برطانیہ سے آئی ہوئی ایک اور مذہبی شخصیت بھی موجود تھی۔ مغرب میں بہتے ہوئے دریا ایسی شخصیت۔ وہ شخصیت پاکستان میں صرف اس لئے آئی ہوئی ہے کہ اہل سنت کے بڑے بڑے گروپوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے۔ وہ شخصیت وہاں آنے سے پہلے خادم حسین رضوی سے مل چکی تھی اور پیر حمید الدین سیالوی سے ملنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ جب میں وہاں پہنچا تو وہ ڈاکٹر طاہر القادری سے کہہ رہے تھے کہ زیب سجادہ حضرت سلطان باہو بھی چاہتے ہیں کہ وہ آپ کے ساتھ ہوں انہوں نے دربار سلطان باہو تشریف آوری کی دعوت بھیجی ہے، میری معلومات کے مطابق اس جیسی کئی اورشخصیات بھی اس خواہش کے تحت پاکستان میں سرگرم عمل ہیں، جن میں پیر سید لخت حسنین شاہ اور علامہ سید ظفر اللہ شاہ کانام بھی سنا جارہا ہے۔
سوچتا ہوں کہ پیر سیال کی سرپرستی میں اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی قیادت میں ا گر سواد اعظم اہلسنت ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر احتجاج کرتی ہے تو صورت حال بہت خوفناک ہوسکتی ہے۔ تحریک انصاف کے علیم خان بھی سترہ جنوری کے احتجاج میں تحریک انصاف کی بھرپور شمولیت کے مسلسل تیاریوں میں مصروف ہیں۔ خرم نواز گنڈا پور اور علیم خان اس احتجاج کے تمام معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ احتجاج صرف پیٹ کی طرف سے نہیں پی ٹی آئی بھی مکمل طور پر اس احتجاج کا حصہ ہے۔ یعنی احتجاج میں ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ عمران خان بھی ہونگے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ احتجاج تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
ابھی تک پیپلز پارٹی کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اس احتجاج کا حصہ ہوگی یا نہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے دربار پر آصف علی زرداری کی حاضری سے یہ توقع کی جارہی ہے کہ کسی سطح پر پیپلز پارٹی بھی اس احتجاج کا حصہ ضرور بنے گی مگر آصف علی زرداری کے مشیر انہیں اس احتجاج میں شریک ہونے سے روک رہے ہیں۔ خاص طور پر خورشید شاہ اس معاملہ میں بہت متحرک ہیں۔ حکومت کے خاتمہ کے لئے پیپلز پارٹی کے کردار سے انکار ممکن نہیں۔ ایک بات اور جو بڑی شدت سے کی جارہی ہے کہ شاید پندرہ فروری سے پہلے پہلے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے لوگ اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائیں ایسی صورت حال میں فوری تبدیلی کا امکان واضح ہو جاتا ہے۔ بلوچستان کے نئے وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو سے بھی یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اس وقت بلوچستان کی اسمبلی توڑ دیں۔ کیونکہ وہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی شدید مخالفت کے باوجود بلوچستان کے وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی سندھ کی اسمبلی توڑ دیتی ہے، تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی اسمبلی ختم کردیتی ہے تو معاملہ صرف پنجاب اسمبلی تک محدود رہ جاتا ہے۔ جس کے بارے میں توقع کی جارہی ہے کہ پنجاب میں ڈاکٹر طاہر القادری کا احتجاج حکمرانی کی بساط لپیٹ دے گا۔
نون لیگ اس تمام معاملہ کے متعلق یہ سوچتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ حکومت کے خاتمہ کے لئے سرگرم عمل ہے مگر میرے خیال میں ایسا ہرگز نہیں، مقتدر ادارے سیاسی پارٹیوں پر اتنے زیادہ اثر انداز نہیں ہوسکتے۔ دوسرا حکومت کے خاتمہ سے زیادہ دلچسپی سیاسی پارٹیوں کو ہے کیونکہ موجودہ حکومت سب سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کے حق میں ہے کیونکہ اس وقت کوئی ایسا کام ملک میں نہیں ہورہا جس میں مقتدر حلقوں کی رائے نہ شامل ہو۔ یہ بھی ممکنات میں ہے کہ نون لیگ خود وقت سے پہلے اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کا اعلان کردے۔ نون لیگ مذہبی حلقوں کی گرفت کو کم کرنے کے لئے ایسا سوچ رہی ہے۔ اس کے خیال میں اگر مذہبی حلقوں کی احتجاجی تحریک کامیاب ہوگئی تو وہ نون لیگ کے لئے انتخابات میں بہت زیادہ نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
پنجاب حکومت کے پاس اس ساری صورت حال سے نکلنےکا ایک طریقہ تھا کہ وہ رانا ثناء اللہ سے استعفیٰ لے لیتی اور مذہبی حلقوں میں شامل اپنے لوگوں کو مطمئن کر لیتی جو احتجاج میں شامل ہیں مگر وزیراعلیٰ پنجاب اس کے برعکس سوچ رہے ہیں۔ قصور میں پیدا ہونے والے حالات پر وزیراعلیٰ نے جو کمیٹی بنائی ہے اس کا سربراہ بھی انہوں نے رانا ثناء اللہ کو بنایا ہے۔ یعنی لوگ جس کے سبب بیمار ہوتے پھرتے ہیں انہیں اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے کا حکم دیا جارہا ہے۔
بہرحال یہ بات طے ہے کہ ٹیکنوکریٹس کی حکومت بنائی جائے یا نئے انتخابات کرائے جائیں اس بات کی پوری کوشش کی جارہی ہے کہ نون دوبارہ اقتدار میں نہ آسکے، وفاق میں تو خیر نون لیگ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر ایک خدشہ ابھی تک یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ کہیں نون لیگ انتخابات کے بعد پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہو جائے، سواس کو روکنے کے لئے حکمت عملی تیار کر لی گئی ہےجس میں ڈاکٹر طاہر القادری کا کردار بہت اہم ہے، سانحہ ماڈل ٹائون کا مقدمہ حکومت کے خاتمہ کے ساتھ ہی تروتازہ ہو جائے گا اور عدالتیں تو پہلے ہی انصاف کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔
نون لیگ کی حکومت ڈاکٹر طاہر القادری کے احتجاج کو روکنے کے لئے ایک بھرپور تیاری کررہی ہے۔ رانا ثناء اللہ نے مال روڈ پر احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ اگر لاہور میں ٹکرائو ہوگیا تو حکومت اسی ٹکرائو کے ساتھ ہی خاتمہ کی طرف چلی جائے گی مگر اہل اقتدار اس کے برعکس سوچتے ہیں ان کے خیال میں سولہ افراد کی شہادت اگر پہلے ان کے گلے پڑی ہوئی ہے تو سولہ اور سہی۔
خدا نہ کرے کہ لاہور ایک بار پھر ’’قتل گاہ‘‘ بن جائے۔ مال روڈ معصوموں کے خون سے رنگین ہو جائے۔ حکومت کو بھی عقل کے ناخن لینے چاہئیں اور معاملات کے حل کے لئے رانا ثناء اللہ کی جگہ کسی اور کو سامنے لایا جائے اگر ان کی جگہ رانا مشہود کو آگے کیا جائے تو توقع کی جاسکتی ہے کہ یہ احتجاج کسی خون خرابے کے بغیر منطقی انجام تک پہنچ سکے۔