| |
Home Page
جمعہ 6؍ جمادی الثانی 1439ھ 23؍ فروری 2018ء
February 10, 2018 | 12:00 am
بلاول بھٹو کی سوشل ڈیموکریسی روز آشنائی…تنویر زمان خان:لندن

Todays Print

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پاکستان میں سوشل ڈیموکریسی رائج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ویسے تو وہ یہ بات اپنی سیاست کے بالکل ابتدائی دنوں سے کرتے آرہے ہیں۔ اس وقت ان کے والد آصف علی زرداری ان کی کئی کہی گئی باتوں کو رد کردیتے تھے اب کی بار زرداری صاحب نے بلاول کی سوشل ڈیموکریسی کی با ت کی نفی تو نہیں کی لیکن موجودہ نظام کو بچانے کا نہ صرف نعرہ لگاتے ہیں بلکہ اس نظام کو بچانے کے لئے اپنی کی گئی کوشش کا ذکر بھی کرتے رہتے ہیں۔ موجودہ نظام جسے نیا پاکستان بنانے والے بھی بچانے کے نعرے لگاتے رہتے ہیں اور مسلم لیگ والے بھی یہی بات کرتے ہیں۔ ذرا کرپشن کی اونچ نیچ پر اختلاف ہے وگرنہ کسی کی سیاست میں مولانا فضل الرحمٰن کی ملاوٹ ہے تو کسی کی سیاست میں مولانا سمیع الحق کی یا کسی میں جماعت اسلامی کی ۔ کچھ لوگ بیلنسنگ فگرBalncing Figure کے لئے خادم حسین رضوی (عاشق رسولؐ) کو اپنی بغل میں لئے پھرتے ہیں۔ زرداری صاحب بلاول بھٹو کو کئی دفع لانچ کرچکے ہیں۔ اب شاید انہیں احساس ہوگیا ہے کہ بلاول بڑا ہوگیا ہے۔ بزرگ کہتے ہیں اولاد جب باپ کے برابر قد دکھانے لگے تو والدین کو سختی میں احتیاط برتنی چاہئے، خیر یہ پیپلزپارٹی کا اپنا اور اندرونی معاملہ ہے۔ زرداری صاحب جانیں یا بلاول یا ان کے کارکن۔ لیکن مجھے آج سوشل ڈیموکریسی کے فلسفے پر بات کرنی ہے وہ بھی پیپلزپارٹی کے حوالے سے، ویسے سوشل ڈیموکریسی ایک سوشل اور اقتصادی آئیڈیالوجی ہے جو کہ ایک آزاد سرمایہ دارانہ معیشت میں سماجی انصاف قائم کرنا چاہتی ہے۔ یہ ایک سرمایہ داری کا سوشلسٹ ٹائپ کا پیکیج ہے جو لیبل سے لگتا تو سوشلسٹ ہے لیکن اس کے اندر سرمایہ داری ہی لپٹی ہوئی ہے۔ پاکستان کی دائیں بازو کی رجعت پسند سیاست میں یہ نعرہ بھی انقلابی ہی سمجھنا چاہئے کیونکہ یہ کم از کم ایک لبرل نوعیت کا نظریہ تو ہے جو کہ لچکدار اور نرم اصولوںپر کھڑا ہوتا ہے۔ لیکن یہ نعرہ 1970 والی ذوالفقار علی بھٹو والی سوشلزم کے نعرے والی پیپلزپارٹی سے مختلف ہے جہاں بھٹو صاحب نے سوشلسٹ معیشت کا نعرہ لگایا اور نصف دل سے پارٹی کے کئی حلقوں کی جانب سے کئی سوشلسٹ اقدامت کرنے کی کوشش بھی کی گئی جیسے بعض صنعتوں کو نیشنلائز کرنا یا زرعی اصلاحات وغیرہ لیکن کچھ بھی صحیح ڈھنگ سے نہ ہوسکا کیونکہ نہ تو پارٹی سوشلسٹ تھی نہ ہی لیڈر شپ کا ایسا کرنے کا ارادہ ہی تھا۔ آج بلاول بھٹو جو نعرہ دے رہے ہیں وہ سوشل ڈیموکریسی کے ذریعے غریب اورامیر کے فرق کو کم کرنا چاہتے ہیں ۔ اسی نعرے پرالیکشن جیت کے اپنا اقتدار قائم کرنا چاہتے ہیں وہ یہ سب کیسے کریں گے اس کی تفصیلات ندارد، وہ پاکستان کو پروگریسو ملک تو بنانا چاہتے ہیں۔ یعنی ایسا ملک جو سوشلزم کی طرف جاتا ہوا دکھائی دے۔ لیکن رہے سرمایہ داری میں ہی، چلیے آج کی دائیں بازو کی سیاست کے طوفان میں جہاں ممتاز قادری جیسوں کو ہیرو مانا جاتا ہو ان کا اتنا کہہ دینا بھی کافی سمجھنا چاہئے لیکن یہ ساری وہی حکمت عملی ہے جس میں 70ء کی دہائی میں بھی روشن خیال چکمہ کھاتی رہی۔ بلاول صاحب آپ سرمایہ داری اور جاگیر داری کو توڑے بغیر کیسے روشن خیال (پروگریسو) پاکستان بنائیں گے۔ دوسرا یہ کہ اہم ترین فیصلے تو زرداری صاحب کرتے ہیں کن قوتوں سے اتحاد کرنا ہے، اقتدار میں آنے کے لئے کسے ہمسفر بنانا ہے۔ یہ فیصلے بلاول صاحب آپ نہیں کرتے کارکن بھٹو ازم کے نعرے لگاتے ہیں آپ سوشل ڈیموکریسی کا نعرہ دے رہے ہیں جس سے پارٹی کبھی نظریاتی خلا عبور نہیں کرسکتی۔ اتحادیوں سے سیاست کی ڈائریکشن کا پتہ چلتا ہے۔ جیسے عمران خان بات انصاف پر مبنی سیاست کی کرتے ہیں لیکن بیٹھتے جماعت اسلامی اورمولانا سمیع الحق کے ساتھ ہیں یا طاہر القادری ان کے پیشوا نظر آتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اتنے بحرانوں سے گزرنے کے باوجود ابھی تک کوئی سمت طے نہیں کرسکا۔ سیاست کدھر جارہی ہے اور کدھر لے جانی چاہتے ہیں کسی کو خبر نہیں، اوپرکی ساری لیڈر شپ (بشمول تمام جماعتیں) چند افراد کا ایک ٹولہ ہے۔ جن کے اپنے کچھ ذاتی نوعیت کی طرز کے مفادات ہیں اور ان کے نیچے موجود تمام پارٹی خالص ذاتی طرز پر ان افراد کو محور بنائے ہوئے ہے۔ برطانیہ میں جرمی کوربن بھی ڈیموکریٹک سیاست تو کررہا ہے لیکن وہ اقتدار میں آ کر برطانیہ کو پورا سوشلسٹ ملک نہ سہی لیکن سیاست اور معیشت میں سوشلسٹ بنیاد ضرور قائم کرنی چاہتا ہے۔ اس کی تفصیلات بھی واضح کرتا ہے، جرمی کی مقبولیت نے اس کے دشمنوں کو دیوار کے دوسری طرف روکے رکھا ہوا ہے۔ اس لئے بلاول بھٹو بھی اگر سوشل ڈیموکریسی ہی لانا چاہتے ہیں، پروگریسو پاکستان بنانا چاہتے ہیں تو اپنے نعروں کی تفصیل دیں۔ تفصیل کو پارٹی کا نظریہ بنائیں پارٹی کی اس نظریے سے کمٹمنٹ کرائیں۔ وگرنہ لوگ کہیں گے کہ فقط لیڈروں کی اولاد ہونے سے عوام کے دلوں کا لیڈر نہیں بنا جاسکتا۔