| |
Home Page
اتوار یکم جمادی الثانی 1439ھ 18 فروری 2018ء
February 10, 2018 | 12:00 am
دھرنا کیس،وزارت دفاع رپورٹ دے یاپھر توہین عدالت کا سامنا کرے ،اسلام آباد ہائیکورٹ

Todays Print

دھرنا کیس،وزارت دفاع رپورٹ دے یاپھر توہین عدالت کا سامنا کرے ،اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے الیکشن ایکٹ 2017ءکے ذریعے ختم نبوت سے متعلق قانون میں ترمیم کی تحقیقات کے حوالے سے راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 12 فروری کو دستخط یا بغیر دستخط رپورٹ ہر صورت عدالت میں پیش کی جائے۔ فاضل جسٹس نے تحریک لبیک دھرنا مظاہرین اور حکومت کے مابین معاہدے میں اہم ادارے کے سربراہ کا نام استعمال کرنیوالے ذمہ دار کے تعین کی رپورٹ پیش نہ کرنے پر وزارت دفاع پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ دیں یا پھر توہین عدالت کی کارروائی کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ عدالت نے فیض آباد دھرنے کے دوران وائرل ہونیوالی آڈیو میں آواز کے تعین کی رپورٹ نہ دینے پر آئی بی کی بھی سرزنش بھی اور کہا کہ اگر آئی بی کے پاس آواز کے تعین کی صلاحیت نہیں تو لکھ کر دیں کہ کون آواز کا تعین کر سکتا ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دئیے کہ صرف فون ریکارڈ کرنا آئی بی کا کام نہیں ہے۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کی جانب سے ایک ہفتے کی مہلت دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی۔ الیکشن ایکٹ 2017ءکے ذریعے ختم نبوت قانون میں ترمیم اور فیض آباد دھرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کے موقع پر فاضل جسٹس نے ختم نبوت قانون میں ترمیم کے ذمہ داروں کے تعین کے لئے راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ کے بارے میں استفسار کیا تو ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد محمود کیانی نے بتایا کہ وزیر داخلہ احسن اقبال جو اس کمیٹی کے رکن ہیں وہ ملک سے باہر ہیں جس کی وجہ سے ان کے دستخط نہیں ہوئے۔ اس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنا وقت دینے کے باوجود بتایا جا رہا ہے کہ کمیٹی کے ایک رکن کے دستخط نہیں ہوئے۔ فاضل جسٹس نے استفسار کیا کہ وزیر داخلہ کب ملک سے باہر گئے ، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ تین روز پہلے بیرون ملک گئے ہیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ گزشتہ ماہ سماعت ملتوی کرتے ہوئے رپورٹ طلب کی تھی ، بظاہر یہ اقدام رپورٹ کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے سے گریز کرنے کی کوشش ہے ۔ اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے رپورٹ پیش کرنے کے لئے ایک ماہ کی مہلت کی استدعا کی تاہم فاضل جسٹس نے ان کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں 12 فروری کو راجہ ظفر الحق کمیٹی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ دستخط یا بغیر دستخط ہر صورت رپورٹ پیش کی جائے۔ فاضل جسٹس نے فیض آباد دھرنا مظاہرین اور حکومت کے مابین ہونیوالے معاہدے میں اہم ادارے کے سربراہ کا نام استعمال کرنے والے ذمہ دار کے تعین کے حوالے سے رپورٹ پیش نہ کرنے پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے عدالت میں موجود وزارت دفاع کے سینئر جوائنٹ سیکرٹری اور ڈائریکٹر لیگل کرنل فلک ناز کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش نہ کی گئی تو توہین عدالت کی کارروائی شروع کریں گے۔ عدالت نے سیکرٹری دفاع کو آئندہ سماعت پر ذاتی طور پر طلب کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔ دوران سماعت فاضل جسٹس کے استفسار پر آئی بی کے ڈائریکٹر جنرل آفتاب سلطان اور جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل انور علی نے عدالت کو بتایا کہ آئی بی کے پاس فیض آباد دھرنے کے دوران وائرل ہونیوالی آڈیو کی آواز کی جانچ کی سہولت نہیں ہے۔ اس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ لکھ کر دیں کہ کس کے پاس اس کی صلاحیت ہے۔ فاضل جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کیا آئی بی کا کام صرف فون ریکارڈ کرنا ہے؟ عدالت نے ڈی جی آئی بی سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے درخواستوں کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ برہم