| |
Home Page
جمعہ 6؍ جمادی الثانی 1439ھ 23؍ فروری 2018ء
February 10, 2018 | 12:00 am
ایگزیکٹ کیس،ایف آئی اے تحقیقات پر کون اثرانداز ہوتارہا،تجزیہ کار

Todays Print

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ’’آ ج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں میزبان نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں ایف آئی اے کی تحقیقات میں کون اثرانداز ہوتارہااور ملزموں کورہاکروانے کی کوشش کرتارہا، پاکستان کی بدنامی کی وجہ بننے والی کمپنی اور اس کے پیچھے محرکات اورا نہیں بچانے والے بے نقاب ہوں گے، امیدہے چیف جسٹس یہ معاملہ بھی دیکھیں گے،شواہد کے باوجود شفاف تحقیقات نہیں کی گئیں ،تفتیشی افسر سعید میمن پر اپنے افسران کی جانب سے دبائو رہا، ایف آئی اے نے شروع میں محنت کی پھر اس کا کردار مشکوک ہو گیا، فیڈرل ٹریڈ کمیشن اور گواہ کہاں غائب ہوئے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری ازخود نوٹس کیس میں سندھ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کو مقدمات نمٹانے کی ڈیڈ لائن دے دی ساتھ ہی ٹرائل کورٹ کو حکم دیا ہے کہ اگر ملزمان عدالت میں پیش نہیں ہوتے تو اُن کی ضمانت کی منسوخی کی درخواست ٹرائل کو دیں۔جمعے کو عدالت میں ایگزیکٹ کے مالک شعیب شیخ سمیت ساتھ ملزمان کے نام ECL میں ڈالنے کا حکم دیا تاہم عدالت میں موجود ایگزیکٹ ہی کے ٹی وی چینل کے ملازمین کی ضمانت پر یہ حکم واپس لے لیا گیا اور ملزمان کو ہدایت کی گئی کہ وہ مقدمے کا فیصلہ ہونے تک ملک سے باہر نہیں جائیں گے ۔سماعت میں پاکستان براڈ کاسٹنگ کی ایسوسی ایشن کی وکیل عاصمہ جہانگیر بھی پیش ہوئیں اور پی بی اے کی درخواست پر شعیب شیخ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا گیا چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سامنے ایگزیکٹ جعلی ڈگری از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ڈی اجی ایف آئی اے بشیر میمن نے جعلی ڈگریوں سے متعلق اب تک ہونے والی تحقیقات کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی۔ شاہزیب خانزادہ نے اپنے تجزیئے میں مزید کہا کہ اہم پیش رفت ہو رہی ہے چیف جسٹس کے نوٹس لینے اور ماتحت عدالتوں کو ایگزیکٹ سے متعلق مقدمات جلد نمٹانے کے احکامات کے بعد اُمید ضرور پیدا ہوئی کہ پاکستان کی بدنامی کی وجہ بننے والے یہکمپنی اور اس کے پیچھے جو محرکات ہیں وہ ناصرف بے نقاب ہوں گے بلکہ اسے بچانے والے بھی سامنے آسکیں گے ۔ کس طرح گزشتہ ڈھائی سال کے دوران اس کیس کو دبانے کی کوشش کی گئی اور کس طرح ملزمان کو رہا کرایا گیا باوجود اس کے کہ کیس بہت مضبوط تھاایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں کراچی اسلام آباد اور پشاور میں چار مقدمات درج کئے گئے گزشتہ سماعت پر ایف آئی اے نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ اسلام آباد میں درج دو مقدمات میں ملزمان بری ہوئے پشاور میں مقدمے کا ٹرائل شروع ہی نہیں ہوسکا اور کراچی کے مقدمے میں ٹرائل چل رہا ہے اور آج کراچی میں چلنے والے ایگزیکٹ کے مقدمے سے متعلق روزنامہ جنگ اور دی نیوز میں ایک خبر شائع ہوئی جس کے مطابق کراچی میں ایگزیکٹ کمپنی کے خلاف دو مقدمات قائم کئے گئے تھے ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام کے دبائو اور ناقص پیروی کے باعث ایک مقدمہ عدالت نے خارج کر دیا جب کہ دوسرا کیس بھی عدالت میں کافی عرصے سے زیر التوا ہے خبر کے مطابق 2015 ء؁ میں ایگزیکٹ کے خلاف کمرشل بینک سرکل میں ہنڈی حوالے کی ایف آئی آر کارپوریٹ کرائم سرکل میں درج ہوئے جس کے بعد گرفتاریاں ہوئیں مگر اس کے بعد خبر کے مطابق فرشتے حرکت میں آئے اور جو عام ملزموں کے ساتھ ہوتا ہے وہ اس کیس میں نہیں ہوا اعلیٰ افسران اور تفتیشی افسران کو دبائو میں لایا گیا خبر کے مطابق انہی کے کہنے پر ایک مقدمے کے لئے خصوصی طور پر چار پبلک پراسکیوٹر رکھے گئے جو سرکار کی طرف سے پیش ہونے کے پابند تھے خبر کے مطابق ایک ایف آئی آر میں شعیب شیخ کے خلاف سترہ کروڑ روپے سے زائد کی رقم ہنڈی حوالہ کرنے کا الزام تھا مگر اس مقدمے کی سماعت کے دوران چاروں پبلک پراسکیوٹر غیر حاضر رہتے تھے جس پر عدالت اظہار برہمی بھی کرتی رہی اور اس مقدمے کا ٹرائل جیل کے اندر ہی ہوتا رہا اور حیران کن طور پر ملزم ایگزیکٹ کے جو سی ای او ہیں شعیب شیخ مگر جیل میں ہونے کے باوجودسماعت پر ایک بھی دفعہ حاضر نہیں ہوئے جیل میں ٹرائل ہورہا ہے پراسکیوٹر چار چار ہیں وہ نہیں پیش ہو رہے ملزم جیل میں ہے وہ نہیں حاضر ہوا اس لئے جب اس مقدمے میں ضمانت کی درخواست ہوئی تو چاروں پراسکیوٹر کے غیر حاضری کے سبب عدالت نے ملزم کی بعد از گرفتاری منظور کی اور خبر کے مطابق تاریخ میں پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا چار پبلک پراسکیوٹر زکی پیروی سے معذرت کے بعد یہ مقدمہ خارج کرنے کی درخواست ہوئی اور یوں سترہ کروڑ روپے ہنڈی حوالے کا مقدمہ خارج کر دیا گیا دوسرا مقدمہ جو مرکزی مقدمہ جعلی ڈگریوں کا تھا وہ کارپوریٹ کرائم سرکل میں درج ہوا اس کے تفتیشی افسر سعید میمن پر اپنے افسران کا دبائو رہا اس مقدمے کی تفتیش کے دوران جعلی ڈگریوں سے متعلق شواہد مل گئے تھے ایگزیکٹ ملازمین نے بیان بھی ریکارڈ کرائے تھے مگر دوران سماعت عدالت میں وہ اپنے بیان سے مکر گئے۔دوسرے مقدمے کے حوالے سے شاہ زیب خانزادہ کا اپنے تجزیہ میں کہنا تھا کہ دوسرا مقدمہ جو مرکزی مقدمہ جعلی ڈگریوں کا تھا وہ کارپوریٹ کرائم سرکل میں درج ہوا اس کے تفتیشی افسر سعید میمن پر اپنے افسران کا دبائو رہا اس مقدمے کی تفتیش کے دوران جعلی مقدمے سے متعلق شواہد مل گئے تھے ایگزیکٹ ملازمین نے بیان بھی ریکارڈ کرائے تھے مگر دوران سماعت وہ عدالت میں اپنے بیان سے مکر گئے جعلی ڈگری مقدمے کی تفتیش کے دوران ایک اینکر او ران کی اہلیہ کو بھی طلب کیا گیا تھا جنہوں نے ایک سال میں ماسٹر، ایم فل اور پھر پی ایچ ڈی کے حو الے سے بتایا کہ یہ سب کیسے ہوگیا تو بتایا کہ انہوں نے رقوم دیکر ڈگریاں حاصل کرلیں مگر حیران کن طور پر ان کے بیانات بھی عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بنے اور افراد کے بیانات بھی لئے گئے لیکن شواہد ہونے کے باوجود ناقص پیروی کی گئی اور اب یہ مقدمہ بھی ہائیکور ٹ میں خارج ہونے کے لئے زیر التوا ہے ۔شاہ زیب کا مزید کہنا تھا کہ ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس پاکستان میں تو خراب کیا جاتا رہا چار چار پراسیکیوٹر رکھے وہ پیش ہی نہیں ہوتے تھے ، ملزم جیل میں ہے جیل میں ٹرائل ہورہا ہے وہ پیش نہیں ہورہا ضمانتیں ہورہی ہیں ججز کو پیسے کھلانے کی خبریں آرہی ہیں لیکن جب اس حوالے سے امریکا میں عمیر حامد کو سزا ہوئی تو اس وقت بھی ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر بیرسٹر زاہد جمیل سے پوچھا تھا کہ کیا پاکستان میں کیس کمزور تھا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت مضبوط اور اوپن اینڈ شٹ کیس تھا ۔ شاہ زیب نے سوال کیا کہ کون تھا جو ایف آئی اے کی تحقیقات پر اثرانداز ہوتا رہا اور ملزموں کو رہا کرانے کی کوشش کرتا رہا وہ کون تھا جو دبائو ڈالتا رہا اور جو دبائو میں نہیں آرہا تھا اس کے گھر پر گرینڈ تک پھینکے گئے،ایف آئی اے نے شروع میں اتنی محنت کی او رپھر ایف آئی اے کا کردار اتنا مشکوک ہوگیا ۔امید ہے کہ اس سماعت کے دوران معزز چیف جسٹس یہ معاملہ بھی دیکھیں گے ۔ اس کیس سے متعلق شواہد سامنے آنے کے باوجود کیس ختم ہوگیا اور منی لانڈرنگ کا مقدمہ ختم کردیا گیا اور اس کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ مقدمہ سننے والے جج پرویز قادر میمن نے رشوت لی اور ملزمان کو چھوڑ دیا اوررشوت لینے کا اعتراف بھی کیا ، رشوت اور کرپشن کا اعتراف کسی عام آدمی کی جانب سے نہیں ہوا چیف جسٹس شوکت عزیز صدیقی او رجسٹس محسن کیانی نے کیا تھا اسی الزام میں سیشن جج پرویز میمن کو کرپشن کے الزام میں 7جون 2017کو معطل کیا گیا اور 9جون کو شوکاز جاری کیا گیا جس میں واضح طو رپر کہا گیا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پرویز قادر میمن نے شعیب شیخ کے خلاف کیس میں 50لاکھ روپے رشوت لے کر ملزمان کو چھوڑنے کا حکم سنایا اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس محسن اختر پر مشتمل ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کے سامنے رشوت وصول کرنے کا اعتراف بھی کیا جس طرح رشوت لے کر ملزمان کو چھوڑا گیا اس حوالے سے سپریم کورٹ کی دو روز پہلے سماعت پر ایف آئی اے نے بھی عدالت کو آگاہ کیا تھا جبکہ جمعہ کو بھی چیف جسٹس نے اس حوالے سے استفسار کیا ایگزیکٹ کے کیس ختم کئے گئے ، کئی ججز نے سننے سے انکار کیا ، ایگزیکٹ کیس کے سابق پراسکیوٹر کے گھر پر گرنیڈ حملہ ہوا ،ایف آئی اے نے بھرپور شواہد جمع کئے مگر عدالت میں پیش نہیں کئے وہی ایف آئی اے کیا چیف جسٹس کو پورا سچ بتارہی ہے یوں ملزمان رہا ہوگئے اور ایک بار پھر سے ایگزیکٹ جعلی ڈگری کا کاروبار دوبارہ سے شروع ہوگیا جس کا انکشاف گزشتہ دنوں بین الاقوامی نشریاتی اور خبر دینے والے اداروں نے کیا ۔ یہی نہیں اس کیس میں پاکستان سے آزاد ہوکر جو مرکزی ملزم تھا عمیر حامد وہ امریکا پہنچا ۔ عمیر حامد ایف آئی اے کی درست کارروائی کے دوران پکڑا گیا مگر پاکستان میں اسے چھوڑ دیا گیا اور وہ وہاں سے امریکا پہنچا جہاں اس نے پھر وہی مکروہ کاروبار شروع کیا او ربالآخر شواہد کے ساتھ پکڑا گیا او ریہ امریکا اس وقت گیا تھا پاکستان سے جب شعیب شیخ کی اس کیس میں پاکستان میں ضمانت ہوگئی تھی، عمیر حامد نے اپنا جرم بھی قبول کیا اور بتایا کہ یہ رقم چھپا کر امریکی بینک اکائونٹ میں رکھی گئی تھی مگر پاکستان میں سب کچھ سامنے ہونے کے باوجود صرف دعوے ہی ہوتے رہے ۔ شاہ زیب کا اپنے تجزیہ میں مزید کہنا تھا کہ بیرون ملک جعلی ڈگری سے متعلق کیسز حل ہوتے رہے او ران میں ایگزیکٹ کا نام واضح آتا رہا ، کیس 2009ء میں امریکی خاتون نے دائر کیا جس میں بعد ازاں 30ہزار امریکی طلبا فریق بنے جن کو جعلی ڈگریاں جاری کی گئی تھیں ۔ تمام بیانات او رثبوتوں کے باوجود پاکستان میں ایگزیکٹ کے اسکینڈل کے خلاف شفاف اور مکمل کارروائی نہیں کی گئی اور یہ سب کچھ واضح کرتا ہے کہ ایگزیکٹ کیا کچھ کرتا رہا ہے اور ایگزیکٹ کو کس طریقے سے بچایا گیا ہے ایگزیکٹ کیا کچھ کررہا ہے اورایگزیکٹ کو کس طریقے سے بچایا جارہا ہے ایک بار پھر سے ایگزیکٹ کا کاروبار پاکستان کے لئے بدنامی کا سبب بن رہا ہے ۔ شاہ زیب نے اپنے تجزیہ میں سوال کیا کہ فیڈرل ٹریڈ کمیشن لیٹر کہاں غائب ہے،جس میں ایگزیکٹ کی جعلی ڈگریوں سے متعلق شکایات درج ہیں ساتھ ہی کیوں ٹرائل کورٹ میں گواہ غائب ہوئے اور کیا وجہ ہے کہ ایف آئی اے نے چیف جسٹس کا نوٹس لینے کے باوجود عدالت کو اس فیڈرل کمیشن لیٹر کے بارے میں نہیں بتایا جو کہ باقاعدہ طو رپر ایف آئی اے کو لکھا گیا تھا پھر ٹرائل کورٹ میں گواہ کیسے غائب ہوئے کیوں نہیں چیف جسٹس کے سامنے ایف آئی اے نے یہ معاملات رکھے ۔ شاہ زیب کا سوال تھا کہ مگر کیا ایف آئی اے نے بیلفرڈ یونیورسٹی کے متاثرین سے رابطہ کیا جو خود عدالت گئے ، خود مقدمہ درج کیا جن کی تعداد 30ہزار ہے او راس حوالے سے عدالت نے فیصلہ بھی دیا بیلفرڈ یونیورسٹی کے گواہان کی گواہی بہت اہمیت کی حامل تھی مگر ایف آئی اے کا ان سے رابطہ نہ کرنے کا سوال اپنی جگہ برقرار ہے ۔ عمرچیمہ نےپروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تو یہ صورتحال لگ رہی ہے کہ وہ کیس جو 2015ء میں شروع ہوا تھا اور اب 2018ہے او رایف آئی اے نے جان بوجھ کر شواہد پیش نہیں کئے ہیں جس کی وجہ سے اگر کوئی ٹرائل ہوتا بھی ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور میرے خیال میں تو اس کو ختم سمجھیں ۔ یہ کیس عالمی سطح کا ہے لیکن ایف آئی اے دیگر ممالک سے شواہد لینے سے گھبرا رہی ہے حد تو یہ ہے کہ ایف آئی اے وہ بھی شواہد شامل نہیں کررہی ہے جس میں دوسری عدالتیں فیصلہ دے چکی ہیں جس کی دو مثالیں عمیر حامد او ربیلفرڈ اسکول کا کیس ہے جس میں جعلی ڈگری لینے والوں نے اپنے بیانات ریکارڈ بھی کرائے تھے ۔ فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے تو شواہد ایف آئی اے کی جھولی میں ڈالے مگر وہ بھی یہ عدالت میں پیش کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ اب خود بتائیں کہ اس طرح کی صورتحال میں کیس کا انجام کیا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ چیف جسٹس صاحب اس کیس کو واقعی حل کرنا چاہتے ہیں تبھی تو انہوں نے اس کا نوٹس لیا ہے ان کو چاہئے کہ وہ اس کیس میں آزادانہ رائے لیں وہ ان پراسیکیوٹر کو طلب کریں جو چھوڑ کر گئے ہیں ۔ زاہد جمیل وہ پراسکیوٹر تھے کہ ان کی موجودگی تک کسی کی ضمانت نہ ہوسکی ان سے اس حوالے سے پوچھا جائے ۔ ایف آئی اے کیس کو کمزورکرکے پیش کررہی ہے جس پر عدالت کا اگر فیصلہ ملزمان کی بریت کا آیا تو بعد میں الزام عدالت پر آئے گا ۔ اس کیس میں اسٹیٹ آف پاکستان شامل ہے یہ ایف آئی ا ے کی ذمہ داری ہے ان کو بتانا چاہئے کہ ہم جس کے حوالے سے بات کررہے ہیں ان کے بارے میں امریکی عدالت میں فیصلے ہوچکے ہیں یہ ایف آئی اے کی ڈیوٹی ہے کہ وہ سارے شواہد پیش کرے ۔ 84 جعلی یونیورسٹیاں بھی اس وقت جعلی ڈگریاں دے رہی ہیں یعنی 84ویب سائیڈز بھی اس وقت کام کررہی ہیں ، اس آفس کو تو سیل کیا جانا چاہئے تھا۔