| |
Home Page
بدھ 4؍ جمادی الثانی 1439ھ 21؍ فروری 2018ء
February 10, 2018 | 12:00 am
ایگزیکٹ کیس کھینچنا نہیں چاہیے تھا،پاکستان کی ساکھ پر برا اثر پڑا،عطاالرحمٰن

Todays Print

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ”نیا پاکستان“ میں طلعت حسین کا پروگرام کے ابتدائیہ میں ایگزیکٹ کے حوالے سے تجزیہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کے ریمارکس تھے ایگز یکٹ کے جعلی ڈگری اسکینڈل نے پاکستان کی بڑی بدنامی کی ہے ۔ کیا واقعتاً جعلی ڈگریوں سے حاصل کیا ہوا پیسہ میڈیا کے اندر بھی لگ رہا ہے اور چینل سپورٹ کر رہے ہیں اور اُن چینلز کے ذریعے ایک بیانیہ سامنے آرہا ہے جس سے ناصرف جرائم کی دنیا کو تقویت ملتی ہے بلکہ اُن لوگوں کو جگہ بھی ملتی ہے جن کی جگہ کسی اور پلیٹ فارم پر موجود نہیں ہے یعنی سچ اور جھوٹ کو گڈمڈ کرنے والے لوگ ۔ سپریم کورٹ میں جمعے کو جو کچھ ہوا کیا آنے والے دنوں میں ایگزیکٹ جعلی ڈگری نیٹ ورک واقعتاً جعلی ڈگریوں کا نیٹ ورک ثابت ہوگا ۔سابق چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر عطاء الرحمان نے پروگرام میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کوئی یونیورسٹی اگر آن لائن ہو یا فزیکل ہو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا وہ قانونی طور پر قائم کی گئی ہے ۔ ہر سال ایک کتاب شائع ہوتی ہے ورلڈ ہائر ایجوکیشن ڈیٹا بک ہوتی ہے وہ اُس کی لسٹ میں اگر یہ یونیورسٹیز ہیں اُس میں آن لائن اور فزیکل دونوں ہوتی ہیں اگر وہ اس لسٹ میں ہیں تو یہ قانونی طور پر کام کر رہے ہیں اور اس کو آسانی سے چیک کیا جاسکتا ہے ۔یہ دو سال پہلے کا واقعہ تھا اس کو اتنا کھینچنا نہیں چاہیے تھا اس وجہ سے بھی پاکستان کی ساکھ پر برا اثر پڑا ہے اب بھی سپریم کورٹ ڈگریز کی لسٹ بھجوا دی HECسے فیڈ بیک آجائے گا HEC سے کے پاس سارا ڈیٹا رہتا ہےHEC کو اس معاملے میں لایا ہی نہیں گیا۔ جیو نیوز کے رانا جواد کا ایگزیکٹ کے حوالے سے کہناتھا کہ اس حد تک تو بات آگے بڑھی ہے کہ سپریم کورٹ نے ایک ٹائم فریم دے دیا ہے کہیں تین ہفتے کہیں دو ہفتے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایوڈینس میں کوئی رکاوٹ ہے تو جو رکاوٹ ڈال رہا ہے اگر وہ ضمانت پر ہے تو اس کو گرفتار کر کے سامنے لے کر آئیں۔ جنہوں نے ایگزیکٹ کے حوالے سے نیوز چلائیں وہ معتبر ادارے ہیں چاہے بی بی سی ہو چاہے نیویارک ٹائمز ہوں اور بھی چینلز ہیں جن پر یہ خبریں آئیں ہمارے ہاں ایک جج پر یہ بھی کیس ہے کہ اُس نے پیسے لے کر ان کو بری کیا ہے ، ضمانت کے عوض پچاس لاکھ لیے گئے تھے حالانکہ جب تحقیقات ہوئیں تو اُس میں ایسی بھی حقائق پتہ چلے کہ اصل پیسہ ساڑے چار کروڑ تھا جج تک صرف پچاس لاکھ پہنچا ۔ڈی جی ایف آئی اے کہہ رہے تھے کہ انہیں افسوس ہے کہ پرویز قادر میمن ہماری برادری سے ہیں ، میرا خیال ہے ڈی جی ایف آئی اے نے بڑا مضبوط مقدمہ پیش کیا یہ اور بات ہے کہ اس میں بہت سی فیکٹس موجود نہیں ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ آپ کو بھی ڈگری مل سکتی ہے ایک گھنٹے میں اگر اس کے باوجود کیس آگے نہیں بڑھتا تو اس پر ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ کہیں باہر سے نہ کوئی ایسی چیز آئے کہ وہاں سے نکلے کہ یہ پیسہ جو ہے وہ کہاں کہاں استعمال ہوا کیا اس کا فائدہ اٹھانے والا صرف شعیب شیخ تھا یا کچھ اور عوامل بھی ہیں اس میں ۔میں سمجھتا ہوں میڈیاکی ساکھ کو کوئی فرق نہیں پڑتا اس سے ان کے ہاں جو بولا جاتا ہے اُس کا مین اسٹریم میڈیا پر اثرات نہیں آتی جب تک کہ میڈیا کے کچھ حصے اس کو نہ کریں بہت سارے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہاں سے اس مائنڈ سیٹ کو شروع کیا جاتا ہے جو کہنا چاہتے ہیں اس کے بعد اسے پھیلایا جاتا ہے میرے ذہن میں بنیادی سوال آتا ہے اگر یہ آئی ٹی کمپنی ہے ان کی مخالفت جیو سے کیوں تھی میڈیا سے کیوں تھی ان کی تو آئی ٹی میں مخالفت ہونی چاہیے تھی نہ سمجھنے والی بات ہے اس کے اندر اگر ہم اس کو سادہ طریقے سے دیکھیں کہ میڈیا کی ساکھ کو ڈمیج کرنے کے لئے لایا گیا ہے تو یہ ٹھیک نہیں ہے ۔ یہ معاملہ صرف شعیب شیخ کا مسئلہ نہیں ہے یہ اُس سے کہیں بڑا ہے پاکستان کے پاس ایک موقع ہے آپ اس قصے کو ایک دفعہ کریمنل ایکٹ کے طور پر ڈیل کر کے اختتام تک پہنچائیں ۔ دو سال سے پراسکیوٹر کیوں بدلے گئے کون روک رہا تھا سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی انسٹریکشنز کو دوسرے طریقے سے تشریح کی گئی ،اس معاملے کے اندر بہت بڑی رکاوٹیں ہیں اس میں بہت اور چیزیں ہیں ۔ ان کے چینلز کو اگر آپ دیکھیں عجیب و غریب قسم کی وہاں باتیں ہوتی ہیں لیکن endorsement دیکھیں عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری، آصف علی زرداری باقاعدہ کہتے ہیں زبردست کام کر رہے ہیں قمر زمان کائرہ پروگرام کرتے ہیں، وقاص اکرم شیخ ، علی محمد خان، مراد سعید ، فردوس عاشق اعوان، حمزہ علی عباسی بین الاقوامی طور پر شرمندگی ان سب کے لئے ہوگی یہ endorsement protection بن سکتی ہے یا نہیں طلعت حسین کے اس سوال کے جواب میں رانا جواد کا کہنا ہے کہ نہیں endorsement protection نہیں بنے گی ہمارا اگر یہ مسئلہ ہے کہ ہم نے پاکستان میں لوگوں کو گمراہ کرنا ہے تو اس اسکیل کا جب اسکینڈل ہوتا ہے جب منی ٹرانسفر ہوتی ہے تو وہ پاکستان کی عوام کی تاثر تک محدود نہیں رہے گی میں پاکستانی ہونے کی حیثیت سے سمجھتا ہوں ہمیں ہر صورت اس سے بچنا چاہیے۔ ایگزیکٹ کیس میں پی بی اے کے وکیل جام آصف محمود نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پی بی اے کا کہنا ہے کہ یہ ناصرف ایک نیوز ہے بلکہ یہ پی بی اے اور تمام پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا اُن کی Survival at stakeاس کیس کی بنیاد پر کیوں کہ یہ ایک ایسا کیس ہے جو ایگزیکٹ نامی کمپنی وجود میں آتی ہے اور ہمارے ملک کے تمام تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی پر یہ ایک سوالیہ نشان ہے کیونکہ اس کیس کے نتیجے میں ایک کمپنی سو ملین ڈالر اس جھوٹی ڈگری سے کما چکی ہے یہ فیگر ایف آئی اے کی رپورٹ میں ہے۔ یہاں میڈیا کی اپنی Survival at stake ہے کیونکہ یہ کرائم منی چینلائز کی جارہی ہے میڈیا ہاؤسز کے لئے اور مین اسٹریم میڈیا پر قبضہ کرنے کے لئے کیونکہ ایک کمپنی جس کا ٹوٹل ستر لاکھ ہے وہ کمپنی ملک کے بڑے اینکرز کو ہائر کرتی ہے اُن کو مرسیڈیز اور کروڑوں روپوں کا ماہانہ تنخواہیں ادا کرتی ہے۔ اونر کا ٹیکس ریٹرن اٹھارہ روپے ہے۔پی بی اے جو ایک سو بیس میڈیا ہاؤسز کی واحد تنظیم ہے وہاں پر ہر ممبر ایک دوسرا کا competitor ہے جنگ، جیو، ڈان ، اے آر وائے ایکسپریس سارے ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں اور بعض جگہ cut throat competition ہونے کے باوجود کیا وجہ ہے کہ سارے ایک سو بیس ممبران اس ایک نقطے پر اکٹھے ہیں کیوں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں کرائم منی شامل کر کے مین اسٹریم میڈیا کو capture کرنے کی کوشش کی گئی ۔ جہاں تک کیس کی بات ہے چار کیسز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں کیس بہت مضبوط ہے اگر پراسکیوشن اسے پروف کرنا چاہے۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ لوجیکل اینڈ تک لے جایا جائے گا چیف جسٹس آف پاکستان نے بڑا کلیئر کہا ہے کہ ملک کی بدنامی کے حوالے سے جو بھی ادارے اس میں شامل ہیں اُن کو کسی بھی طریقے اسپیر نہیں کیا جائے گا ۔