| |
Home Page
اتوار یکم جمادی الثانی 1439ھ 18 فروری 2018ء
February 10, 2018 | 12:00 am
ایم کیو ایم اوورسیز کے کئی اہم رہنمائوں نے لندن سے راہ جدا کرلی

Todays Print

لندن( مرتضیٰ علی شاہ ) متحدہ قومی موومنٹ لندن کے بہت سے اہم رہنمائوں نے کم وبیش ایک سال سے ایم کیو ایم لندن سے کنارہ کشی اختیار کررکھی ہے اور وہ پارٹی کی کسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے رہے ،ایم کیو ایم لندن کو چھوڑ جانے یا خاموشی سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے اہم رہنمائوں میں محمد انور ،انبساط ملک ،طارق میر اور واسع جلیل کے نام شامل ہیں جو طویل عرصے سے ایم کیوایم لندن کی سرگرمیوں سے الگ ہوچکے ہیں اطلاعات کے مطابق بانی متحدہ اور پارٹی کے بعض دیگر رہنمائوں کے تعلقات 22اگست کےواقعے سے قبل ہی کشیدہ تھے جبکہ بعض رہنما ئوں نے سیاسی طورپر انڈرگرائونڈ ہونے کافیصلہ کیا ۔رابطہ کمیٹی کے ایک رکن انبساط ملک ایک سال سے ایم کیو ایم لندن آفس میں نظر نہیں آئے ، اور ان کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ وہ ایم کیوایم چھوڑ چکے ہیں۔محمد انور 22اگست کی تقریر سے پہلے تک بانی متحدہ کے آگے پیچھے ہوتے تھے لیکن اب وہ بالکل ہی منظر سے غائب ہیں۔ طارق میر کبھی کبھی لندن سیکریٹریٹ آتے جاتے تھے لیکن 3ماہ قبل پارٹی کی قیادت سے اختلاف کے بعد سے وہ اب دفتر میں نظر نہیں آئے،واسع جلیل پارٹی قیادت سے اختلاف کے بعد نیویارک چلے گئے،حیدر عباس رضوی کئی ماہ سے کینیڈا میں ہیں لیکن انھوں نے 22اگست کی تقریر کے بعد لندن میں پارٹی سے مکمل قطع تعلق کررکھا ہے اور حال ہی میں پاکستان میں ایم کیوایم کے رہنمائوں کے درمیان مصالحت کیلئے منظر عام پر آئے تھے۔یہ وہ رہنما ہیں جو گزشتہ 5 سال کے دوران جب بانی متحدہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے پولیس سے ضمانت کیلئے کوشاں تھے ان کے ساتھ ساتھ تھے ۔ اس وقت پاکستان میں ایم کیو ایم کی قیادت کرنے والے رہنما عام طور پرلندن میں بھی قیام کرتے تھے اور لندن سیٹ اپ کی مدد کرتے تھے یہ وہ دور تھا جب ایم کیو ایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ ایک فیکٹری کی طرح دن رات کام کرتاتھا اور اس پارٹی کو ایک موثر پارٹی بنانے کیلئے سخت محنت کرنے والے اس کیلئے کام کرتے تھے۔طارق میر دوسال سے زیادہ عرصے سے ایم کیو ایم لندن کے مالی امور دیکھتے تھے، مشکل وقت میں طارق جاوید بھی لندن آفس میں تھے ، محمد انور بھی بانی متحدہ کے بااعتماد حامی اور طویل عرصے تک مشیر رہے،واسع جلیل اور انبساط ملک پاکستان اور پوری دنیا میں کارکنوں کے ساتھ رابطے میں تھے،یہ لوگ اس کڑے وقت بانی متحدہ کے ساتھ کھڑے رہے جب وہ لندن میں مقدمات کاسامنا کررہے تھے۔