| |
Home Page
جمعہ 6؍ جمادی الثانی 1439ھ 23؍ فروری 2018ء
February 10, 2018 | 12:00 am
توہین مذہب کے ملزم جنید حفیظ کا مقدمہ دوسرے جج کو منتقل کرنے پرانسانی حقوق کمیشن کاغم و غصے کا اظہار

Todays Print

لاہور ( اپنے نامہ نگار سے) پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے جنید حفیظ کا مقدمہ دوسرے جج کو منتقل کرنےپر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے شفاف ٹرائل کا حق مزید متاثر ہوا ہے۔کمیشن کےبیان میں کہا گیا ہے کہ جنید حفیظ کو مارچ2013ء میں گرفتار کیا گیا تھا جب طلباء کے ایک گروہ نے ان پر توہین مذہب کا الزام عائد کیا تھا۔جنید حفیظ کے شفاف ٹرائل کے حق کو یقینی نہ بنایا گیا تو انہیں مزید پانچ سے دس سال جیل میں گزارنے پڑ سکتے ہیں۔ٹرائل پریزائڈنگ ججوں کے مسلسل تبادلوں، استغاثہ کے گواہوںکی عدم موجودگی اور ایسی وجوہات کی بنا پرکئی سالوں سے التوا کا شکار ہے جو ملزم کے اختیار سے باہر ہیں۔مئی 2014ء میں ایچ آر سی پی کے ریجنل کو آرڈینیٹر اور جنیدحفیظ کے وکیل راشد رحمان کو ان کے دفتر میں قتل کردیا گیا۔ جس کے بعدحفیظ کے خاندان کے لیے نیا وکیل تلاش کرنا انتہائی مشکل ہوگیا۔ اب جبکہ وکیل صفائی استغاثہ کے دلائل کی جانچ کرچکا ہے اور مقدمے کی سماعت ختم ہونے کے قریب ہے، نیا جج جرح کے اہم پہلوؤں کو سمجھنے میں ناکام رہے گا۔ اس سے فیصلے میں غیر محدود تاخیر ہوگی۔ جنید حفیظ مئی 2014ء سے ملتان کی ہائی سکیورٹی جیل میں تنہا قید ہیں، انکے وکیل کو بھی ان سے علیحدہ ملنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ جنیدحفیظ کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 10۔الف اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق مناسب وقت کے اندر شفاف ٹرائل کے حق سے محروم رکھا گیاہے ۔ ایچ آر سی پی مقدمے کی منتقلی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے ۔