| |
Home Page
بدھ 4؍ جمادی الثانی 1439ھ 21؍ فروری 2018ء
February 10, 2018 | 12:00 am
سرمائی اولمپکس کا دلفریب آغاز، 1218 ڈرونز نے رنگز بنائے، ریکارڈ قائم

Todays Print

پیونگ چینگ ( جنگ نیوز ) جنوبی کوریا کا انتظار ختم ہوگیا۔ 2018سرمائی اولمپکس شمالی اور جنوبی کورین دستوں کے متحدہ پرچم تلے اکٹھے مارچ اور امن کی کوششوں کےساتھ شروع ہوگئے۔ منفی 10ڈگری میں ایتھلیٹس اور تماشائی اولمپکس اسٹیڈیم میں ٹھٹھرتے رہے لیکن گرمجوشی عروج پر رہی۔ جاپانی فیگر اسکیٹنگ ٹیم نے رنگارنگ لیکن برفیلی افتتاحی تقریب میں شرکت سے گریز ہی مناسب جانا۔ 92 ممالک کے میگا ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی محمد کریم اور ہمان نے کی ۔ ان کے ساتھ آفیشلز بھی شامل تھے۔ افتتاحی تقریب کے ایتھلیٹس کے مارچ، دلکش ثقافتی پروگرام، کانوں میں رس گھولنے والی لوک موسیقی، دلوں کی دھڑکن تیز کردینے والے پاپ میوزک، گینگ نم ڈانس اور آنکھوں کو خیرہ کردینے والی آتشبازی نے چار چاند لگادیے۔ تقریب کا یادگار ترین لمحہ وہ تھا جب 1218 ڈرونز کی مدد سے اولمپک رنگز بنائے گئے۔ یہ کسی بھی پرفارمنس کے دوران اتنے ڈرونز کے استعمال کا گنیز ورلڈ ریکارڈ بھی ہے۔ حاضرین البتہ سردی سے پریشان رہے۔ انہوں نے پروگرام سے لطف اٹھایا تاہم کافی وقت اسٹیڈیم میں نصب ہیٹرز کے قریب رہ کر اور خود کو توانائی پہنچانے کیلئے فراہم کردہ مچھلی کے سوپ پی کر گذارا۔ منتظمین کی جانب سے تماشائیوں کو اونی ٹوپی، کمبل، اسکارف، اس قسم کے موسم سے بچائو میں مدد دینے والی ضروری اشیا فراہم کی گئی تھیں۔ دوسری جانب وی آئی پی اسٹینڈز میں خاص قسم کی کشیدگی اور تنائو کی کیفیت رہی۔ جنوبی کوریا کے صدر مون جائی ان نے وہاں موجودہ شمالی کورین لیڈر کم جون ان کی بہن کم یو جونگ کے ساتھ والہانہ طریقے سے مصافحہ کیا جس کا انہوں نے بھی اسی انداز میں جواب دیا۔ کورین صدر امریکی نائب صدر نے مائیکل پینس اور ان کی اہلیہ کے ساتھ والی نشست سنبھالی۔ اس موقع پر کسی بھی بدمزگی سے بچنے کیلئے شمالی کوریا کے دو سینئر ترین آفیشلز کی نشستیں دو قطار پیچھے رکھی گئی تھیں۔ جب دونوں ممالک کا مشترکہ دستہ اسٹیڈیم میں داخل ہوا تو حاضرین کی جانب سے زبردست شور مچا کر خیر مقدم کیا گیا۔ تقریب کی خاص بات شمالی کے 137رکنی ثقافت طائفے کے مسحور کن پرفارمنس تھی، ان کے گیت حاضرین بھی ساتھ ساتھ دہراتے رہے۔ تقریب کا اختتام روایتی طور پر اولمپکس مشعل روشن کرنے سے ہوا۔ یہ اعزاز جنوبی کوریا کی جانب سے 2010 کے وینکور اولمپکس میں گولڈ اور 2014 کے سوچی گیمز میں چاندی کا تمغہ جیتنے والی فیگر اسکیٹر کم یونا کے حصے میں آیا۔دریں اثناء سرمائی اولمپکس سے ٹھیک پہلے کھیلوں کی عالمی عدالت نے 47 روسی کھلاڑیوں اور کوچز کی میگا ایونٹ میں شرکت کیلئے اپیل کو مسترد کر دیا۔ روس کے حصہ لینے پر بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) نے پابندی عائد کی ہے۔ روسی کھلاڑیوں نے سرمائی اولمپکس سے ٹھیک پہلے اس کے خلاف سی اے ایس میں اپیل کی تھی جسے جمعہ کو کھیل ثالثی نے مسترد کر دیا۔