| |
Home Page
جمعہ 6؍ جمادی الثانی 1439ھ 23؍ فروری 2018ء
February 10, 2018 | 12:00 am
عظیم ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر کے کام میں بھی سرقہ کا انکشاف

Todays Print

کراچی (نیوز ڈیسک) کئی برسوں تک محققین کے درمیان اس بات پر بحث و مباحثہ جاری رہا ہے کہ ایسی کیا بات تھی جس نے ولیم شیکسپیئر کو لکھنے پر مجبور کیا۔ لیکن اب اساتذہ کی جانب سے طلبا کے مقالہ جات میں نقل پکڑنے کیلئے استعمال کیے جانے والے سافٹ ویئر سے کے ذریعے دو مصنفین ڈینس میک کارتھی اور جون شلوٹر نے پتہ لگایا ہے کہ شیکسپیئر (جنہیں ادب سے دلچسپی رکھنے والے لوگ دی بارڈ آف ایوون بھی کہتے ہیں) نے اپنے مقبول ترین ڈراموں، کنگ لیئر، میک بیتھ، رچرڈ سوم، ہینری پنجم اور سات دیگر ڈرامے لکھنے کیلئے ایک غیر مطبوعہ کتاب سے خیالات حاصل کیے تھے۔ برطانوی اور امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس نئے انکشاف نے شیکسپیئر کے چاہنے والوں اور مداحوں کو صورتحال کا جائزہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ فولگر شیکسپیئر لائبریری واشنگٹن کے ڈائریکٹر مائیکل وٹمور کا کہنا تھا کہ اگر یہ بات جو کہی جا رہی ہے وہ درست ہے تو یہ ایک یا پھر کئی نسلوں میں کی جانے والی انوکھی دریافت ہو سکتی ہے۔ میک کارتھی اور شلوٹر نے یہ انکشافات اپنی کتاب میں کیے ہیں جو آئندہ ہفتے ڈی ایس بروئر نامی اکیڈمک پریس اور برٹش لائبریری کی جانب سے شائع کی جائے گی۔ دونوں مصنفین نے یہ نہیں کہا کہ شیکسپیئر سرقے میں ملوث ہیں بلکہ انہوں نے یہ کہا ہے کہ شیکسپیئر نے اپنے دور کے ایک ادیب جارج نارتھ کی کتابوں سے خیالات حاصل کیے۔ جارج نارتھ 1500ء کے آخری عرصے کے ایک غیر معروف لکھاری تھے اور شیکسپیئر نے ان کے ’’اے بریف ڈسکورس آف ربیلیئن اینڈ ریبلز‘‘ سے خیالات حاصل کیے۔ جارج نارتھ ملکہ برطانیہ کے دربار میں ادب لکھنے کے کام پر مامور تھے، جنہیں بعد میں سوئیڈن میں برطانوی سفیر بھی مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی مذکورہ کتاب کبھی شائع نہیں ہو سکی تاہم 1933ء میں برٹش لائبریری نے اسے ملکہ برطانیہ کے دربار سے خرید لیا۔ امریکا کے شہر نیو ہیمپشائر میں رہائش پذیر شیکسپیئر کے ماہر سمجھے جانے والے میک کارتھی کا کہنا تھا کہ ہم نے تحقیق کے دوران جارج نارتھ کی کتاب کا جو ذریعہ تلاش کیا ہے اس کی جھلک شیکسپیئر کے ہر کام میں نظر آتی ہے، الفاظ کے استعمال کا انداز، ڈرامے کے سین لکھنے کا طریقہ کسی حد تک ملتا جلتا ہے، حتیٰ کہ ڈراموں کے فلسفے پر بھی اس کا اثر محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ نادر کتب کا کٹیلاگ دیکھ رہے تھے تو انہیں جارج نارتھ کی کتاب کی انٹری میں ایسے ایسے الفاظ نظر آئے جن کے متعلق ہمیں معلوم تھا کہ یہ صرف شیکسپیئر نے استعمال کیے ہیں، جس کے بعد ہم نے کمپیوٹر کی مدد لی اور جارج نارتھ کی پوری کتاب کی انٹری کی اور اس کے بعد سرقے کا پتہ لگانے کیلئے استعمال کیا جانے والا سافٹ ویئر استعمال کیا۔ سافٹ ویئر نے کامیابی کے ساتھ ایسے تمام الفاظ اور اصطلاحات کی نشاندہی کی جو 1473ء سے لے کر 1700ء کے درمیان استعمال کی گئی تھیں۔ میک کارتھی کا کہنا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے اس انکشاف سے شیکسپیئر کے مداح ناراض ہو سکتے ہیں۔