| |
Home Page
بدھ 4؍ جمادی الثانی 1439ھ 21؍ فروری 2018ء
عدنان رنداھاوا
February 10, 2018 | 12:00 am
حادثہ کوئی بھی اس شہر میں ہو سکتا ہے

Untoward Incident Often Occurs In This City

اس وقت اہم ملکی اداروں کے درمیان جو انتشار کی فضا نظر آ رہی ہے، بہت سے سنجیدہ حلقے خبردار کر رہے ہیں کہ اگر تمام اداروں نے اپنی اپنی آئینی، قانونی اور مروجہ جمہوری نظامِ حکومت کے بنیادی تصورات کے مطابق طے شدہ حدود میں خود کو محدود نہ کیا اور اپنے اپنے اختیارات میں تجاوز کی روش برقرار رکھی تو خدانخواسطہ پھر کوئی بڑا حادثہ ہو سکتا ہے۔
آئینِ پاکستان نے بنیادی جمہوری تصورات کی نیو پر تمام قومی اداروں کے ستون استوار کئے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ تمام اداروں کی حدود و قیود مقرر کر رکھی ہیں۔ آئینِ پاکستان کے مطابق ریاست کے اختیارات مختلف اداروں میں منقسم ہیں۔ اس نظام میں ریاست کے مالک و مختار عوام ہیں جس کے منتخب نمائندوں پر مشتمل پارلیمان سپریم ہے، پارلیمان جو چاہے، جس طرح چاہےدیئے گئے طریقہ کار کے مطابق قانون سازی کر سکتی ہے۔ قانون سازی کرتے وقت پارلیمان کسی نظریاتی، مذہبی، معاشرتی اور سماجی حدود کی پابند نہیں ہے۔ اصولی طور پر پارلیمان کسی ایسے بنیادی ڈھانچے یا بنیادی تصورات کی پابند نہیں ہے جو اسکے قانون سازی کے اختیارات پر کوئی حد لگاتے ہوں، اگرچہ کچھ طاقتورحلقے اور انکے نظریاتی ہمدرد اس بات پر مصر رہتے ہیں۔ آسان لفظوں میں عوام اس ریاست کے حاکم ہیں اور پارلیمان کے ذریعے انکو بغیر کسی حد اور پابندی کے فیصلہ کرنے کا اختیار ہے کہ وہ ریاست کو کیسے چلانا چاہتے ہیں۔ سو عوام اور انکی پارلیمان کی حاکمیت ریاستی ڈھانچے کی چوٹی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن قانون سازی کے اختیار کے بعد پارلیمان کی حد مقرر ہے۔ وہ اپنے بنائے ہوئے قانون پر عمل درآمد کرانے کا اختیار نہیں رکھتی، آئین پاکستان نے یہ اختیار انتظامیہ کو سونپا ہے۔ اسی طرح پارلیمان اپنے بنائے ہوئے قانون کی تشریح بھی خود نہیں کر سکتی نہ ہی ان قوانین پر عملدرآمد کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تنازعات کو حل کرانے کا اختیار رکھتی ہے کہ یہ اختیار آئین پاکستان نے عدلیہ کے سپرد کیا ہے۔ اگرچہ آئین پاکستان نے رسمی طور پر ابھی تک میڈیا کو براہ راست کوئی اختیار نہیں سونپا ہے لیکن غیر رسمی طور پر عوامی مفاد کے مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس آئینی بندوبست پر نظر رکھنا، اس پر عملدرآمد کے بارے میں غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کرنا، تجزیہ کرنا، اسکی خلاف ورزیوں اور انکے نقصانات کو اجاگر کرنا میڈیا کے تسلیم شدہ اختیار اور فرائض میں شامل ہے۔
مندرجہ بالا آئینی بندوبست کا روح رواں دنیا بھر میں مروجہ یہ بنیادی جمہوری تصور ہے کہ ریاستی اختیارات کو حتی الوسع مختلف طاقت کے مراکز میں بانٹ دیا جائے۔ اس بنیادی آئینی حکم کا لامحالہ نتیجہ یہ ہے کہ طاقت کے تمام مراکز اپنے اختیارات اپنی حدود کے اندر رہ کر استعمال کریں اور دوسرے مراکز کے اختیارات میں دخل اندازی نہ کریں۔ اگرچہ کچھ مستحکم اور بالغ جمہوریتوں میں اس اصول پر عمل درآمد جڑ پکڑ چکا ہے لیکن ہمارے ہاں ستر سال سے ادارے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں۔ اداروں کو ظاہر ہے کہ اشرافیہ کے طاقتور حلقے کنٹرول کر رہے ہوتے ہیں اس لئے اشرافیہ کی طاقت، دولت، شہرت اوراحساسِ تفاٍخر کی لڑائیاں اداروں کے ذریعے لڑی جاتی ہیں۔ اس اندرونی انتشار کے نتیجے میں ریاست پاکستان دو بنیادی فرائض کی انجام دہی میں ناکام ہوئی ہے۔ اول، یہ اپنی آدھی زمین اور آدھی آبادی کو کھو چکی ہے اور دوم، باقی ماندہ آبادی کی فلاح اور ترقی کے فریضے میں بُری طرح ناکام ہے۔ کسی بھی دوسری ریاست یا اسکی اشرافیہ کیلئے یہ ناکامیاں باعثِ ندامت ہوتیں لیکن ہماری ریاست اور اشرافیہ اس پر بضد ہے کہ ان ناکامیوں کو کامیابیاں تصور کیا جائے اور اس ضمن میں دھونس اور زبردستی کا سہارا لینا معمول بن چکا ہے۔ یہ اسی دھونس اور زبردستی کا نتیجہ ہے کہ آئے روز شہریوں کے زندہ رہنے، تشدد نہ سہنے، آزادی اظہار اور آزادی رائے کے حقوق کی بے شرمی سے خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور ریاستی اداروں کے جو جو عناصر ان خلاف ورزیوں میں شامل ہیں وہ یہ کام ببانگ دہل کرتے ہیں اور بغیر کسی خوف و خطر ان خلاف ورزیوں کو جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیتے ہیں۔
طاقت کے مراکز میں اختیارات کی تقسیم کے پیچھے نوع انسانی کا اجتماعی تجربہ اور شعور کارفرما ہے۔ تاریخی طور پر انسان سب سے پہلے خاندان کی شکل میں منظم ہوا جس نے جلد ہی قبیلوں کی شکل اختیار کر لی۔ لیکن جیسے ہی ذرائع آمدورفت اور ذرائع ابلاغ نے تھوڑی ترقی کی تو قبائلی جھگڑوں کی بدولت اس نظام میں انسان کا دم گھٹنے لگا اورسلطنتیں اور بادشاہتیں وجود میں آئیں جو اپنے تاریخی پس منظر میں انسان کیلئے امن اور ترقی کا ذریعہ بنیں لیکن ارتقا کے مزید منزلیں طے کرنے پر انسان کو معلوم ہوا کہ بادشاہوں نے تمام دولت، اختیارات اور وسائل اپنے اور اپنے خاندان کے قبضے میں لیکر انسانیت کو اپنا غلام بنا لیا ہے تو بادشاہی نظام میں انسان کا دم گھٹنے لگا۔ جمہوریت نے نئے تصورات حکومت کے ذریعے انسانیت کو بادشاہتوں کی غلامی سے آزاد کرانا شروع کیا۔ یہ کشمکش کئی صدیوں سے جاری ہے اور ہم اس کشمکش کے درمیان میں پھنسی ہوئی ایسی قوم ہیں جسے جمہوریت کی جاگ لگ چکی ہے لیکن شاہانہ ماضی بعید اور آمرانہ ماضی قریب کی بیڑیاں ابھی تک ہمارے قدموں میں ہیں۔ اسی طرح ہماری اشرافیہ بھی آمرانہ سوچ کی قید سے خود کو آزاد کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس کو حالات سازگار ملے، وہ دوسروں کے اختیارات چھیننے میں لگ گیا۔ کوئی ایک ادارہ بھی اس الزام سے بری الزمہ نہیں ہے۔ مقننہ کو سیاستدان کنٹرول کرتے ہیں، انتظامیہ کو سیاستدان اور بیوروکریسی کنٹرول کرتی ہے، عدلیہ ججوں اور وکیلوں پر مشتمل ہے، اور میڈیا صحافیوں اور دانشوروں کا میدانِ عمل ہے۔ پاکستان کی مختصر تاریخ میں پہلے سیاستدانوں اور بیوروکریسی نے اختیارات سے تجاوز کیا نتیجہ مارشل لائوں کی شکل میں نکلا، مارشل لا جب تک معتوب ٹھہرے اس وقت تک وہ ملک و قوم کا ناقابلِ تلافی نقصان کر چکے۔ تاریخی طور پر عدلیہ اور میڈیا کے ادارے مقننہ اور انتظامیہ کے اختیارات سے تجاوز کی روش کا نشانہ رہے لیکن وکلا تحریک نے میڈیا اور عدلیہ کو آزاد کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن اس تحریک کی کامیابی کے بعد عدلیہ اور میڈیا نے اپنی حدود سے تجاوز شروع کر دیا اور کرتے کرتے بات یہاں تک پہنچ گئی کہ وکلا تحریک کی کامیابی کی کمائی ہوئی عزت خطرے میں پڑنا شروع ہو گئی اور دونوں اداروں کو ساکھ کے مسئلے کا سامنا شروع ہو گیا۔ لیکن اپنی ساکھ بحال کرنے کیلئے اپنی حدود کے اندر واپس جانے اور اپنے تفویض شدہ فرائض کی بہتر انجام دہی پر توجہ دینے کی بجائے دوسروں کی اصلاح کا بیڑا اُٹھا لیا اور اسکا نتیجہ یہ نکلا ہے اداروں کے درمیان توازن درہم برہم ہو چکا ہے۔ یہ صورتحال کسی طور پر زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکتی اسی لئے ہر سنجیدہ شہری رنجیدہ ہے کہ
مجھ سا انجان کسی موڑ پہ کھو سکتا ہے
حادثہ کوئی بھی اس شہر میں ہو سکتا ہے