| |
Home Page
اتوار یکم جمادی الثانی 1439ھ 18 فروری 2018ء
February 13, 2018 | 12:00 am
فروغ نسیم رابطہ کمیٹی کو مشورہ دیکر مہاجروں کوتباہ نہ کریں، فاروق ستار

Todays Print

فروغ نسیم رابطہ کمیٹی کو مشورہ دیکر مہاجروں کوتباہ نہ کریں، فاروق ستار

کراچی(ٹی وی رپورٹ) ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہےکہ فروغ نسیم رابطہ کمیٹی کو مشورہ دیکر مہاجروں کوتباہ نہ کریں،خبر ملی تھی کچھ لوگ کہہ رہے ہیں اصل لیڈر مشرف ہے، سب اسی کو جوائن کریں، میرے پاس ثبوت ہیں کہ یہ پرویز مشرف فارمولا ہے،یہ بات فروغ نسیم صاحب نے کہی، میں قرآن پر حلف دیتا ہوں کہ شبیر قائم خانی بھائی نے مجھے کہا کہ اگر کامران بھائی اور مجھ میں ٹائی ہوجائے تو آپ کی مرضی ہے آپ مجھے اور کامران بھائی میں سے جس کو بھی سینیٹ کیلئے نامزد کردیں، میں نے اسی مان پر جو شبیر بھائی نے مجھے دیا اس پر اصرار کیا، خدا کی قسم اگر مجھے وہ یہ مینڈیٹ نہ دیتے تو میں اصرار نہ کرتا،کامران ٹیسوری کاتو صرف بہانہ ہے اصل میں سربراہ کو نکالنا فارمولا ہے۔خالد مقبول صدیقی کا کہناہےکہ فاروق بھائی ایم کیو ایم کے کارکن، ان کےلئے دروازے کھلے ہیں،معاملہ یہ ہے کہ کامران ٹیسوری کو ایک سال میں جس طرح فاروق بھائی نے چلایا، تنظیم میں جگہ دی اور جس طرح بڑھایا اس کے بعد بہت سارے سوالات کھڑے ہوچکے تھے، ہم کئی بار فاروق بھائی سے پوچھ چکے ہیں کہ فاروق بھائی آخر ایسا کیا ہے، ایسی کیا مجبوری ہے، ایسی کیا ضرورت ہے کہ ایک ساتھی کو اتنی تیزی سے تمام تر ڈسپلن سے بالاتر ہو کر پارٹی کے آئین سے بالاتر ہو کر ہر طرح کی گنجائش دی جارہی ہے اس سے بڑی خرابیاں پیدا ہورہی ہیں، اس سے معاملات بڑے خراب ہورہے ہیں، آپ کی لیڈرشپ کے اوپر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ جیونیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں میزبان شاہزیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی سیاست میں ہلچل مچی ہوئی ہے، یہ نہیں سمجھ آرہا کہ اس وقت ایم کیو ایم کا کنوینر کون ہے؟ فاروق ستار ہیں یا خالد مقبول صدیقی ؟ مسئلہ کامران ٹیسوری کا تھا مگر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کو ہی کنوینر کے عہدے سے ہٹادیا، فاروق ستار نے 17فروری کو پارٹی کے اندر الیکشن کا اعلان کردیا ہے مگر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ کنوینر میں ہوں جب تک رابطہ کمیٹی نہیں کہے گی کیسے الیکشن ہوسکتے ہیں؟ اس وقت ایم کیو ایم سے متعلق کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ شاہزیب خانزادہ نے سوال کیا کہ خالد مقبول صدیقی صاحب واضح نہیں ہوگیا کہ مسئلہ کامران ٹیسوری نہیں ؟فاروق ستار صاحب ٹھیک کہہ رہے تھے کیونکہ مسئلہ آپ لوگوں کے اپنے اختیارات کا تھا؟ سینیٹرز کی نامزدگی سائن کر کے فاروق ستار نے آپ کو دیا کہ خالد مقبول صدیقی کو اختیار دیتا ہوں، آپ نے سائن بھی کردیا اور جو لوگ ہیں ان میں کامران ٹیسوری بھی شامل ہیں، اس کے بعد فاروق ستار کو کنوینرکے عہدے سے فارغ بھی کردیا تو مسئلہ پھر کامران ٹیسوری نہیں تھے، مسئلہ فاروق ستار اور ان کے اختیارات تھے آپ کی نظر میں؟ اس پر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم نے فاروق بھائی سے کہا کہ ایسی کیا ضرورت ہے کہ ایک ساتھی کو اتنی تیزی سے تمام تر ڈسپلن اور پارٹی کے آئین سے بالاتر ہو کر ہر طرح کی گنجائش دی جارہی ہے ؟ اس سے بڑی خرابیاں پیدا ہورہی ہیں، اس سے معاملات بڑے خراب ہورہے ہیں، آپ کی لیڈرشپ کے اوپر سوالات اٹھ رہے ہیں، ہم نے کہا کوئی ایسی چیز ہے جس کو آپ ہم سے شیئر کرسکیں، کوئی ایسی مجبوری ہے تو کیجئے ہم آپ کے ساتھ ہیں، لیکن یہ نہیں ہوسکا، پھر جومعاملہ آیا ہے سینیٹ کے اوپر آکر شور مچا تو یہ کہا گیا کہ ان کی آپس میں لڑائی ہے کہ سینیٹ کے ٹکٹ کس کو ملیں اور کس کو نہ ملیں، طے یہ ہوا کہ رابطہ کمیٹی میں ووٹنگ یا رائے لے لی جائے کہ کون لوگ سینیٹ کیلئے منتخب کیے جائیں گے، اس میں جو چار لوگ منتخب ہوئے ان سے الگ ہٹ کر چھٹے نمبر پر کامران ٹیسوری تھے، فاروق بھائی اصرار کررہے تھے کہ کامران ٹیسوری کو دیا جائے، سوال یہی تھا کہ فاروق بھائی ٹھیک ہے دیدیا جاسکتا ہے لیکن کوئی جواز تو ہو، کوئی وجہ تو ہو، جو چار ساتھی ہیں آپ ان کو دیکھ لیں، ان کی پارٹی سے وابستگی دیکھ لیں، ان کی کاغذات نامزدگی دیکھ لیں، ان کا تجربہ دیکھ لیں، اس پر کو ئی فرق ہے ان میں اضافی خوبیاں ہیں تو اس کو بھی ڈسکس کرلیتے ہیں تو فاروق بھائی نےایک کنوینرکی حیثیت سے کہا کہ نہیں۔ شاہزیب خانزادہ نے سوال کیا کہ کمیٹی نے جب نام تجویز کیے تو چھٹے نمبر پر کامران ٹیسوری تھے، پانچویں نمبر پر عامر خان تھے، عامر خان نے کہا میں اپنے آپ کو دستبردار کررہا ہوں، شبیرقائم خانی نے کہا کہ میں اپنا اختیار فاروق ستار کو دے رہا ہوں، پھر فاروق ستار نے کہا کہ میں اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے کہہ رہاہوں کہ کامران ٹیسوری صاحب بن جائیں، یہ ڈیموکریٹک ہے نا؟ اس میں کیا وہ زبردستی کہہ رہے تھے کہ کامران ٹیسوری کو بنائیں؟ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ دو باتیں ہیں، ایک تو یہ کہ شبیر قائم خانی اس کی مکمل طور پر تردید کرچکے ہیں کہ ایساانہوں نے کبھی بھی نہیں کہا ، ان کو بلا کر بھی پوچھا گیا انہوں نے منع کردیا کہ نہیں انہوں نے تو یہ بات کبھی بھی نہیں کہی، اس کے علاوہ پارٹی میں اب تک کا ڈسپلن یہ تھا کہ آپ منع کرنے کی وجوہات بتاتے ہیں، صرف اس چکر میں کہ آپ کسی کو رعایت دے رہے ہیں یہ مناسب بات نہیں ہوتی، خیر میں اس کی تفصیلات پر نہیں جاؤں گا، شبیر قائم خانی نے اس بات کو ماننے سے انکار کردیا تو بتایئے ہمارے پاس کیا چوائسز بچتی ہیں؟ایم کیو ایم نے پتا نہیں کن کن لوگوں کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا ہے، سینیٹ کا ٹکٹ ایشو تھوڑی ہے لیکن ایک آدمی کے اوپر اتنا اصرار کردینا ایک سربراہ کا بہت حیران کن ہے۔