| |
Home Page
ہفتہ 7؍ جمادی الثانی 1439ھ 24؍ فروری 2018ء
حسن نثار
February 13, 2018 | 12:00 am
عدلیہ!شکریہ

Judiciary Thank You

’’عاصمہ جہانگیر کو نواز شریف سے بات کرتے ہوئے دل کا دورہ پڑا‘‘یہ عجیب سی اخباری سرخی پڑھتے ہوئے نجانے مجھے ووڈی ایلن (Woody Allen) کا یہ شہرۂ آفاق جملہ کیوں یاد آیا۔"I am not afraid to die. I just donʼt want to be there when it happens."انسان کوئی بھی ہو، کیسا بھی ہو، زندگی بھر موت کے تعاقب میں رہتاہے اورایک دن اسے پالیتاہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ یہ کیسا پیراڈوکس ہے کہ جب ہم موت سے بھاگ رہے ہوتے ہیں تو موت کی طرف ہی کیوں بھاگ رہے ہوتے ہیں کہ اورکچھ ہو نہ ہو یہ ظالم ضرور بھاگوں میں لکھی ہوتی ہے۔ چشم زدن میں سب کچھ ’’ہے‘‘ سے ’’تھا‘‘ یا ’’تھی‘‘ میںتبدیل ہوجاتا ہے۔ مشکل پیچھے رہ جانےوالوںکےلئے بہت ہوتی ہے۔ لوگ کتنی رحمدلانہ سفاکی کے ساتھ بیٹوں تک سےکہتے ہیں کہ ’’ماں کی قبر پر مٹی ڈالو‘‘ مٹی کی یہ چند مٹھیاں پہاڑوں سے بھاری ہوتی ہیں۔"Death is what happens while you are making other plans."عاصمہ کا دل دھوکہ نہ دیتا تو آج وہ کیا کر رہی ہوتی؟سارے انسانی حقوق اور قانون و انصاف کی آوازیں دھری کی دھری ہی نہیں رہ جاتیں، بے اماں و بے کراں سناٹوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ ایسے تو بچپن میں سلیٹ پر گنتی لکھ کر بھی نہیں مٹاتے تھے، جیسے موت ایسے کردیتی ہے جیسے کبھی کوئی موجود ہی نہ ہو۔ جیتا جاگتا، ہنستا کھیلتا، لڑتا جھگڑتا، منصوبے بناتا انسان صرف ’’یادیں‘‘ او ر ’’تصویریں‘‘ رہ جاتاہے۔ بھلا ہو اس کا جس نے کیمرا ایجاد کیا ورنہ لوگ کیسے جانتے کہ ان کے باپ، دادا، پڑدادا دیکھنے میں کیسے لگتے تھے۔ عاصمہ جہانگیر نے عرصہ تک یاد رکھی جانے والی زندگی گزاری ہے ۔ دعا ہے کہ ان کی آئندہ زندگی بھی ایسی ہی ہوکہ..... ’’موت کو سمجھے ہے غافل اختتام زندگی‘‘ میرا ان سے ذاتی تعلق شناسائی تک محدود تھا جو شناسائی تک ہی محدود رہا کیونکہ وہ ’’غیرمشروط انسانی حقوق‘‘ کی علمبردار تھیں جبکہ میرے نزدیک انسانی حقوق کے لئے یہ ثابت کرنا لازمی ہے کہ میں انسان ہوں لیکن ایک رشتہ یہ بھی تھا کہ ان کے بیٹے میر ےبھانجوں کے کلاس فیلو اور دوست ہیں جو ظاہر ہے ایمان فیضان ہی کی طرح اب ماشا اللہ جوان ہوں گے۔ میں ان کے دکھ میں شریک ہوں۔ عاصمہ کی مغفرت اور لواحقین کے لئے صبر کی دعا کے سوا کچھ نہیں کرسکتا۔ سوائے اس کے کہ عوام کے لئے رکاوٹیں کھڑی کرکے، ان کے رستے روک یا تبدیل کرکے ان کی توہین و تذلیل کرنے والوں کو یہ سوچنے کی دعوت دوں کہ کسی ’’لوح مزار‘‘ کو یہ شرمناک حرکت زیب نہیں دیتی۔لوحِ مزار دیکھ کر جی دنگ رہ گیاہر ایک سر کے ساتھ فقط سنگ رہ گیالیکن جن کے سروں میں مغز کی جگہ خناس بھرا ہو انہیں سادہ سی باتیں بھی سمجھ نہیں آتیں۔ جنہیں موت بھولی ہوئی ہو وہ یقیناً زندگی کے آداب یاد نہیں رکھ سکتے۔ انہیں’’ڈنڈے‘‘کے زور پر یاد کرانے پڑتے ہیں۔ گزشتہ 25برس میں، میں نے کم از کم 75,70 کالم اس نجاست پر لکھے جسے ’’سیکورٹی‘‘ کے نام پر ’’پروٹوکول‘‘ کہتے ہیںلیکن نہ شرم ہوتی ہے، نہ حیا ہوتی ہے نہ کسی کے کان پرجوںرینگی۔ کئی بار سمجھایا کہ جن کے ووٹوں سے اقتدارمیں آتے ہیں،ان کے رستے چھیننے اور ان فحش تجاوزات سے گریز کرو کہ اس طرح تم عوام کی اجتماعی تذلیل کے مرتکب ہوتے ہو اور اس ناپاک فرعونی رویے سے عوام کی اجتماعی عزت ِ نفس بری طرح مجروح ہوتی ہے لیکن اس نام نہاد دونمبر اشرافیہ نے تو جیسے قسم کھا رکھی ہے کہ تھانوں سے لے کر دولت خانوں تک قدم قدم پر قوم کو ملفوف کبھی غیرملفوف طریقہ سے ذلیل کرنا ہے۔’’نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نا پایا‘‘کہ نیچ کوئی ذات نہیں ’’رویے‘‘ ہوتے ہیں۔ یہ کیسے احمق ہیں جو میکرولیول پر جگہ جگہ تجاوزات کا ارتکاب کرکے معاشرے سے تجاوزات کلچر کاخاتمہ چاہتے ہیں۔ جنہیں خود تمیز نہ ہو وہ خاک تربیت کریں گے عوام کی۔ کھوکھلی گفتگوئوں میں یہ بڑے ’’نظریاتی‘‘ اور ’’انقلابی‘‘ بنتے ہیں لیکن عمل میںبدبودار تضادات کے شہکار اور دھوکہ دہی کی یہ واردات جاتی امرے سے بلاول ہائوس تک پھیلی ہوئی ہے۔سپریم کورٹ کے سپریم حکم پر ’’گند‘‘ صاف ہوچکا ہے۔ لاہور میں وزیراعلیٰ ہائوس، گورنر ہائوس، ماڈل ٹائون، جاتی امرا، طاہر القادری کے گھروں سمیت ہر جگہ سے رکاوٹیں ختم ہوگئیں تو میں ان سب کویقین دلاتا ہوں کہ یہ رکاوٹیں ختم ہونے سے نہ تمہارے وزن کم ہوں گے، نہ عمریں، نہ تمہاری دولت میں کمی آئے گی لیکن اگر تم لوگ یہ کام خود رضاکارانہ طور پرکرلیتے تو تمہاری عزت میں اضافہ ضرور ہوتا جو اب نہیں ہوگا چونکہ یہ سب عدالتی حکم کا نتیجہ ہے۔دست بستہ عرض ہے کہ شاید عدالت کو خود اندازہ نہ ہو کہ عوام پر کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ بات صرف بے پناہ زحمت کی نہیں..... بے تحاشا ذلت سے نجات کی ہے۔ اس عدالتی حکم نے عوام کی عزت ِ نفس کی بحالی کی طرف اک ایسا قدم اٹھایا ہے جو ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آئے گا جواقتدار میں آتے ہی مال بنانے اورجاہ و جلال دکھانے کے لئے ہیں۔عدلیہ!شکریہ’’انسانی حقوق‘‘ کے حوالے سے یہ عاصمہ مرحومہ کے لئےعدلیہ کا خوبصورت تحفہ بھی سمجھا جاسکتاہے۔