| |
Home Page
پیر2 ؍ جمادی الثانی 1439ھ 19؍ فروری 2018ء
سلیم صافی
February 13, 2018 | 12:00 am
مبارک تحریک ،جو ہائی جیک ہوئی

The Mubaraks Movement That Was Hijacked

میری رگوں میں قبائلی پختون خون ضرور دوڑ رہا ہے لیکن میں یا میرے خاندان نے ایف سی آر کو بھگتا ہے اور نہ میں اسی طرح قبائلی ہوں جو قبائلی علاقوں میں رہتے ہیں۔ میرے دادا مہمند ایجنسی سے مردان منتقل ہوئے تھے اور میری پیدائش اسی ضلع میں ہوئی تھی۔ اسکول کے دنوں میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہوا یوں ابتدائی فکری تربیت قوم پرستی اور علاقہ پرستی کے خلاف پائی۔ میں گناہوں سے لت پت ہوں اور میری ذات میں ہزار خامیاں ہوسکتی ہیں لیکن نسلی اور لسانی بنیادوں پر سوچنے اور علاقائی تعصب کی بنیاد پر رائے قائم کرنے سے اللہ نے مجھے کوسوں دور رکھا ہے۔ یوں وہ لوگ غلط سمجھتے ہیں جو مجھے قبائل کا مقدمہ لڑتے ہوئے دیکھ کر یہ سوئے ظن رکھتے ہیں کہ میں پختون یا قبائلی شائونسٹ ہوں(میاں نوازشریف نے بھی ایک محفل میں مجھے یہ طعنہ دیا تھا)۔ میری رائے غلط ہوسکتی ہے لیکن میں پوری دیانتداری کے ساتھ عرض کررہا ہوں کہ قبائلی عوام اس وقت روئے زمین پر شاید سب سے زیادہ مظلوم قوم ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت کسی اور اکائی کے پاس یہ آپشن نہیں تھا کہ وہ پاکستان کے سوا کسی اور ملک کا حصہ بننے کا انتخاب کرتا لیکن قبائلیوں کے پاس یہ آپشن موجود تھا تاہم انہوں نے اپنی مرضی سے افغانستان کے ساتھ تاریخی اور لسانی رشتوں کو چھوڑ کر پاکستان کا حصہ بن جانے کا فیصلہ رضامندی سے کیا۔ پھر کشمیر کی آزادی کے لئے پاکستان کو جو پہلی جنگ ہندوستان سے لڑنی پڑی ، اس میںیہ قبائلی بغیر تنخوا ہ کے حصہ دار بنے لیکن اس کے جواب میں پاکستانی ریاست نے ان کو وہ جائز آئینی اور سیاسی حقوق بھی نہیں دئیے جو ملک کے باقی حصوں کے پختونوں کو حاصل تھے۔ آج ستر سال بعد بھی فاٹا، پاکستان کی تمام اکائیوں سے زیادہ غربت اور پسماندگی کا شکار ہے۔ ریاست پاکستان نے پہلا ظلم یہ کیا کہ سوویت یونین اور مغرب کی لڑائی کے لئے قبائلی علاقوں کو لیبارٹری بنا دیا۔ قبائلی جو روشن فکراور رقص جیسی چیزوں کے لئے مشہور تھے ، انتہاپسندی کی دلدل میں دھکیل دئیے گئے۔ اس عمل میں بدقسمتی سے قاضی حسین احمد ، مولانا فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق جیسے پختون رہنمائوں نے بھی بھرپور حصہ ڈالا۔ نائن الیون کے بعد ایک بار پھر قبائلی علاقے لیبارٹری بنے تو جہاں غیروں نے قبائلی علاقوں کو تختہ مشق بنانے کا فیصلہ کیا وہاں کچھ اپنوں نے بھی کاندھے پیش کئے ۔جہاں جنرل پرویز مشرف نے ایک گندے کھیل کا آغاز کرکے قبائلی علاقوں کو جہنم بنا دیاوہاں مولانا فضل الرحمان، مولانا سمیع الحق اور قاضی حسین احمد جیسے پختون ہی تھے جنہوں نے دفاع افغانستان کونسل بنا کر ، افغانستان کی جنگ کو پاکستان لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بدقسمتی سے قبائلی علاقوں میں بھی نیک محمد اور بیت اللہ محسود جیسے لوگ پیدا ہوئے جو القاعدہ سے لے کر افغان طالبان تک سب کچھ اپنے علاقوں میں جمع کرنے لگے۔ اسی طرح تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک قبائلی پختون علی محمد جان اورکزئی کورکمانڈر بنے اور یہی صاحب تھے جو فوج کو قبائلی علاقوں میں نہ صرف لے گئے بلکہ اسے روزمرہ کے انتظامی معاملات میں بھی ملوث کیا۔ پھر جب وہ گورنر بنے تو عسکریت پسندوں کے ساتھ ایسے معاہدے کئے جو قبائلی علاقوں کی تباہی کا موجب بنے۔ قبائلی عوام نے گزشتہ سترہ سال جس عذاب میں گزارے اس کا ان علاقوں سے باہر رہنے والے تصور بھی نہیں کرسکتے۔ مشکل سے ہی کوئی گھر ایسا بچا ہے جس کے مکین ہجرت پر مجبور نہیں ہوئے۔ بہنوں کے سامنے بھائی ذبح کئے گئے اور باپ کے سامنے بچوں کی چمڑی ادھیڑی گئی۔پاکستان کے کئی ہزار شہداء کا تذکرہ تو ہر کوئی کرتا ہے لیکن یہ کوئی نہیں کہتا ہے کہ ان میں آدھے سے زیادہ صرف قبائلی علاقوں کے شہداء ہیں۔ جنگ میں تباہ و برباد قبائلی پختون ہوگئے لیکن ان کے نام پر جو اربوں ڈالر آئے وہ دوسروں کی جیبوں میں چلے گئے۔ آج بھی حالت یہ ہے کہ جنوبی اور شمالی وزیرستان کے ہزاروں گھرانے اب بھی آئی ڈی پیز کی صورت میں دربدر ہیں۔ پھر جب وہ واپس جاتے ہیں تو ان سے دوبارہ وفاداری کا حلف اٹھوایا جاتا ہے اور کئی ایجنسیوں کی تصدیق کے بعد اسے پاکستانی شناختی کارڈ کے اوپر وطن کارڈ کے نام سے ایک اور کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔ ان لوگوںکے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے اس کو نہ میڈیا رپورٹ کرسکتا ہے اور نہ متاثرہ فریق کسی عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔ اسی وجہ سے ہم جیسے لوگ فاٹا کو جلد ازجلد پختونخوا میں ضم کرنا چاہتے تھے تاکہ عدالت اور پریس کی رسائی تو ممکن ہوسکے لیکن افسوس کہ مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی ، میاں نوازشریف کے پراکسی بن کر قبائلیوں کے اس حق کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ قبائلیوں کو اس راستے پر گامزن کرنے والے جنرل اختر عبدالرحمان ، جنرل حمید گل ، قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمان وغیرہ کی اولاد تو محترم ٹھہری لیکن ان کے ورغلانے پر اپنے گھروں کو جنگ کا میدان بنانے والے قبائلی یوں بدنام کردئیے گئے کہ اب پورے ملک میں ان کو دہشت گرد کی نظروں سے دیکھا جارہا ہے۔ وہ روزی روٹی کی تلاش میں پنجاب آئے تو یہاں پر ان کی پروفائلنگ شروع کی گئی۔ وہ کراچی گئے تو رائو انواروں سے انہیں پالاپڑا۔ میں جب قبائلی علاقوں کے بارے میں وفاقی حکومت ، سیاسی رہنمائوں اور میڈیا کی بے رخی اور بے حسی کو دیکھتا تھا تو مجھے یہ خوف محسوس ہوتا تھا کہ کہیں ان علاقوں سے ایک نئی قسم کی طالبانائزیشن نہ اٹھے ۔کئی مرتبہ کالموں اور ٹی وی ٹاک شوز میں اس خدشے کا اظہار بھی کیا۔ مجھے خدشہ تھا کہ کہیں یہاں سے پڑھے لکھے اور باشعور نوجوان ریاست سے بغاوت اور دہشت گردی کی راہ نہ اپنالیں لیکن نقیب اللہ شہید کا معصوم خون بہت مبارک ثابت ہوا۔ اس نے پورے پاکستان کو جھنجھوڑ دیا۔ اس خون نے پورے پاکستان کو قبائلی پختون کے ساتھ ناروا سلوک کی طرف متوجہ کیا۔ اس نے پہلی بار پختون اور بالخصوص قبائلی نوجوانوں کو اٹھنے اور اکٹھا ہونے پر مجبور کیا۔ ان کے مبارک خون سے اٹھنے والی یہ تحریک یوں بھی مبارک تھی کہ بغاوت یا تصادم کی بجائے یہ نوجوان قانون ، عدالت اور انصاف کی بات کرنے لگے۔ سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ اس نے پورے پاکستان کی ہر قومیت کے مظلوموں کو رائو انوار جیسے ظالموں اور ان کے ظالم سرپرستوں کےخلاف یک آواز کردیا۔اس موقع پر جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان منظور پشتین اور ان کے نوجوان ساتھی بروقت اور بجا طور پر میدان میں نکلے۔ وہ جنوبی وزیرستان سے پیدل اسلام آباد کی طرف چلے آئے۔ جب وہ یہاں آرہے تھے تو راستے میں جگہ جگہ ان سے قافلے ملتے رہے۔ ابھی وہ اسلام آباد نہیں پہنچے تھے کہ اسلام آباد پریس کلب کے سامنے یہاں پر موجود جوانوں نے ان کے استقبال کے لئے کئی دن پہلے کیمپ لگا دیا۔ میں قافلے کے پہنچے سے ایک رات قبل کیمپ میں گیا تو مجھ سے پہلے محمود خان اچکزئی صاحب کے ایک سینیٹر کو تقریر کے لئے بلایا گیا۔ پنجاب کے لیڈر میاں نوازشریف کی جماعت کے طفیلئے کی حیثیت اختیار کرنے والی اس جماعت کے اس رہنما نے نقیب اللہ کا ذکر کم کیا اور پنجابیوں پر تبرا زیادہ بھیجا۔ دوسری طرف میں نے دیکھا کہ وہاں پر پہلے سے حکومت اور ایجنسیوں کے پلانٹ کردہ قبائلی ایم این ایز اور ملکانان نے قبضہ جمالیا ہے۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمان کی جماعت کے ایم این اے بھی فاٹا اصلاحات کی مخالفت کا گناہ بخشوانے کے لئے آگے آگے تھے۔ میرے پاس اطلاعات بھی تھیں اور یہاں پر جب یہ صورت حال دیکھی تو سمجھ گیا کہ مخلص قبائلی نوجوانوں کی اس تحریک کو پہلے سے ہائی جیک کرنے کے انتظامات کئے گئے ہیں چنانچہ جب مجھے تقریر کے لئے بلایا گیا ( وہ تقریر سوشل میڈیا پر موجود ہے) تو میں نے دست بدستہ عرض کیا کہ جس طرح نقیب اللہ محسود کو قتل کرنا ظلم تھا اسی طرح ان کے پاک خون کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا بھی ظلم ہے۔ میں نے التجا کی کہ چونکہ نقیب اللہ محسود کے خون نے پہلی بار ملک بھر کے باشعور اور مظلوم عوام کو قبائلیوں کا غمخوار بنا دیا ہے اور چونکہ پہلی مرتبہ تمام قبائلی پختون نوجوان اکٹھے ہوئے ہیں ، اس لئے اس تحریک کو اپنے سیاسی گناہوں پر پردہ ڈالنے اور لسانی نفرتیں بڑھانے کے لئے استعمال کرنے کی بجائے ایک مثبت رخ دیا جائے تاکہ آئندہ کے لئے کوئی قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود اور قانون کا کوئی رکھوالا رائو انوار جیسا درندہ نہ بنے۔ لیکن افسو س کہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور باہر کی بعض لابیوں نے چند لوگ ایسے گھسا دئیے جنہوں نے وہاں پر پاکستان کے خلاف نعرے لگا ئے۔ دوسری طرف مخلص نوجوانوں اور قبائلی متاثرین کا یہ دھرنا سیاسی ڈرامے کی شکل اختیار کرگیا۔ کبھی قصوری جیسے مشرف کے گماشتے آکر مگر مچھ کے آنسو بہاتے رہے تو کبھی دوسرا سیاسی لیڈر آکر اپنا ایجنڈا پیش کرتا رہا۔ پنجابی نوازشریف کے ساتھ پنجاب ہائوس میں ملاقات سے اٹھ کر دھرنے کے اسٹیج پر آنے والے محمود خان اچکزئی صاحب نے پنجاب کے خلاف نفرت پھیلا کر بلوچستان میں اپنی حکومت کے خاتمے کا واویلا کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ ان کی حکومت کا وزیراعلیٰ مستعفی ہوتے ہی کرپشن کے کیسز سے بچنے کے لئے دبئی جاکر بیٹھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھرنا دینے والوں کے مطالبات اگر حکومت چاہے تو ایک منٹ میں پورا کرسکتی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ میں سارا دن اس حکومت کے مختاروں کے ساتھ پنجاب ہائوس میں گزار کر آیا ہوں اور ابھی یہاں سے دوبارہ اس پنجابی لیڈر کی خدمت میں حاضر ہورہا ہوں۔ وہ چاہتے تو یہ کرسکتے تھے کہ پنجاب ہائوس سے نکلتے وقت ایک ہاتھ سے نوازشریف کو اور دوسرے ہاتھ سے شاہد خاقان عباسی کو پکڑ کرلاتے اور ان سے قبائلی نوجوانوں کے مطالبات منواتے لیکن ایسا کرنے کی بجائے انہوں نے صرف پنجابی استعمار کے خلاف تقریر کو کافی سمجھا۔ وہ واپس گئے تو رات کو وزیراعظم نے دھرنے پر قبضہ کئے ہوئے سرکاری ملکانان اور قبائلی ایم این ایز بشمول مولانا فضل الرحمان کے مولانا جمال الدین کو طلب کیا اور انہیں ہدایت کی کہ انہیں حکم ملا ہے کہ آج رات دھرنا ختم کروا دیں۔ وزیراعظم کے ساتھ ساز باز کرکے وہ ایم این ایز اور ملکانان واپس آئے اور نوجوانوںکو بوریا بستر گول کرنے کافیصلہ سنا دیا لیکن اپنے مطالبات منظور کئے بغیر وہ کہاں اٹھنے پر آمادہ تھے۔ حکومت اور ایجنسیوں کے یہ مہرے اپنا کنٹینر وغیرہ اٹھا کر لے گئے اور جو رقم دھرنے کے خرچے کے لئے جمع ہوئی تھی وہ بھی ساتھ لے اڑے۔
اب وہ نوجوان اور ان کے ساتھ آئے ہوئے بزرگ متاثرین اس ٹھٹھرتی سردی میں اپنا دھرنا جاری رکھے ہوئے تھے جبکہ وہ بے حس ملکانان ، ایم این ایز اور پختونوں کے ٹھیکیدار لیڈران غائب تھے۔ دھرنے کے لئے جمع ہونے والی رقم قبائلی ایم این ایز اور ملکانان اپنے ساتھ لے گئے اور بدقسمتی سے اس کو ہائی جیک کرنیوالے
بلوچستان حکومت کے غمخواروں نے اس رقم سے بھی چند لاکھ روپے کا چندہ نہیں دیا جسکے ذریعے گزشتہ چار سالوں میں اربوں روپے کمائے گئے ہیں۔ چنانچہ اب خرچہ اس شاہ جی گل اور شہباب الدین کے ذمے آگیا جنہیں فاٹا کے انضمام کی حمایت کی وجہ سے اچکزئی صاحب اور مولانا کے سوشل میڈیا کے مجاہدین گالیوں سے نواز رہے تھے۔ چنانچہ دو تین دن میں نوبت یہاں تک آگئی کہ دھرنا دینے والے مظلوم قبائلی اٹھنے کا کوئی باعزت راستہ تلاش کرنے لگے ۔چنانچہ شروع میں وزیراعظم کی جو یقین دہانی نہیں مانی گئی ، وہی یقین دہانی ان کے مشیر امیر مقام کی طرف سے تسلیم کرکے دھرنا ختم کردیا گیا۔ مطالبہ ان سے یہ رکھوایا گیا تھا کہ فاٹا کے مسنگ پرسنز کیلئے عدالتی کمیشن بنایا جائے لیکن تضاد یہ تھا کہ اسی فورم پر اچکزئی صاحب اور ان کے کارندے فاٹا کے پختونخوا کے ساتھ انضمام کی مخالفت کررہے تھے۔ اب جب عدالت کا دائرہ کار فاٹا تک پھیلا نہیں ہے تو پھر عدالتی تحقیقات کیسے؟۔ اچکزئی صاحب اور ان کے حامی تو بیک وقت آگ اور پانی سے بنا کر رکھنے کے ماہر ہیں۔ وہ پنجابی لیڈر کے ساتھ چمٹے رہ کر بھی پنجابیوں کو گالی دے کر سیاست کرسکتے ہیں۔ وہ افغان حکومت سے بھی بناکے رکھتے ہیں اور اپنے علاقوں میں موجود طالبان سے بھی تصادم کی نوبت آنے نہیں دیتے۔ مجھے فکر ہے تو منظور پشتین جیسے مخلص قبائلی نوجوانوں کی ۔ ان کی قیادت میں دئیے گئے دھرنے میں بعض پختون فروشوںنے پاکستان اور اس کی فوج کے بارے میں جو زبان استعمال کی ، کہیں ایسا نہ ہو کہ مستقبل میں ان بیچارے قبائلی نوجوانوں کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑ جائے۔