| |
Home Page
ہفتہ 7؍ جمادی الثانی 1439ھ 24؍ فروری 2018ء
پرو فیسر سید اسرار بخاری
February 13, 2018 | 12:00 am
سر رہ گزر

Sare Rahguzar

بچے جنسی تشدد سے کیوں محفوظ نہیں؟
اوکاڑہ، دیپالپور میں لڑکیوں، کبیر والا اور سوئی میں لڑکوں سے مبینہ زیادتی، تفصیل اس خبر کی وہی ہے جس کی سب کو خبر ہے، جب کسی معاشرے میں جرم عام ہو جائے تو پھر اسے پولیس اور دیگر اداروں کے ذریعے قابو میں نہیں لایا جا سکتا، صرف اجتماعی سوچ اور عمل کو ہی ایک پیج پر آ کر اس کا سدباب کرنا پڑتا ہے، اور ہم تو خود اپنے ضمیر کی نہیں مانتے کسی اور کی کیا مانیں گے کسی کو کیوں اپنے شر سے محفوظ رکھیں گے، ہمارے پاس نظام ہے مگر وہ نظر نہیں آتا، حکومت ہے وہ اپنے مسائل کے حل ڈھونڈ رہی ہے، پولیس ہے وہ ’’کسی‘‘ کو دیکھ کر اس کے نقش قدم پر چل نکلی ہے۔ دین ہے مگر صرف حلقوم تک نیچے نہیں اتارتے اسی لئے ہم پر ناجائز خواہشات نے یلغار کر دی، اور اب گناہوں کے پاتال میں بھی جرم سے باز نہیں آتے، سزا اس طرح اور اتنی دیر سے دیتے ہیں کہ خوف انجام سے بے نیاز اگر زینب کے قاتل کا انجام برسرعام سب کو دکھا دیا گیا ہوتا اور مقدمے کو طول نہ دیا جاتا، تو یہ جو ہر روز ہر گلی ہر کوچے میں وطن کے جنسی جرائم ہو رہے ہیں رکتے نہ توکم ضرور ہو گئے ہوتے، اگر ہمارا قانون مجرم کو نشان عبرت بنانے کی اجازت نہیں دیتا تو اپنی اغراض کیلئے قانون بنانے کی طرح وہ قانون بدل دیں جو تبدیلی نہیںلا سکتا، اور سزا کو جزا بنا دیتا ہے، کیا فوجداری بھی دیوانی ہو گئی؟ کہ نسل در نسل چلے گی، خوف خدا تو مہذب معاشروں کو ہوتا ہے، خوف سزا کی ضرورت ہے، مگر ہم تو سزا کا بھی زہر نکال کر مجرم کو دیتے ہیں، اسلئے بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات نے اور زور پکڑ لیا ہے، سعودی حکومت نے اسلام کی چند سزائیں سرعام رائج کی ہیں اور وہاں بڑے اور مکروہ جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں، اسلام کا ہم جتنا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں وہ ڈھول اور تھاپ کی حد تک ہے، برائی روکنے اور علی الاعلان اسکی سزا دینے سے ہمیں ہمارا نہیں کسی اور کا بنا کر دیا ہوا قانون اجازت نہیں دیتا، قانونی ڈھانچہ اسلام سے متصادم ہے مگر ہم نے آئین میں لکھ دیا ہے متصادم فیصلے نہیں کئے جا سکتے۔
٭٭٭٭
سانوں لگ گئی بے اختیاری
فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی نے ایک دوسرے کو مائنس کر دیا۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا واقعی بانی ایم کیو ایم مائنس کر دیئے گئے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ تفریق ہے جمع نہیں ہے، اور جمع تفریق کا ایک سادہ و سہل سوال ہے کہ حل ہونے میں نہیں آتا، ایم کیو ایم کبھی ایک جماعت تھی مگر اب یہ کاٹھ کی ہنڈیا ہے جسے کبھی رابطہ والے لے اڑتے ہیں کبھی ڈاکٹر صاحب اینڈ کمپنی اور یہی ہنڈیا پی ایس پی والوں کے پاس بھی دکھائی پڑتی ہے، یہ چوراہے میں پھوٹ کر پھر پھوٹ پھوٹ کر روتی ہے لیکن اب تو اس کے آنسو بھی ڈرامائی ہیں، کہ ہر کردار رو کر ہنستا ہے، اگر یہ سب فاروق ستار کے گرد باعزت طریقے سے حقیقی انداز میں جمع ہو کر یہ کہہ دیتے کہ مائی باپ بانی ایم کیو ایم ہی مائنس ہیں صرف اور صرف آپ ہی پلس ہیں، ہم سب کو ہے آپ کا اعتبار اور کرتے ہیں صرف آپ ہی سے پیار تو یقین مانئے کہ ستار بھائی اتنے زیادہ بوجھ تلے آ کر فاروق بھائی جان ہو جائیں گے اور ان کو سارے اختیارات بھی دے دیں تاکہ یہ کیفیت نہ رہے کہ؎
یار ڈاہڈی آتش عشق نیں لائی اے
او یار سانوں لگ گئی بے اختیاری
فاروق بھائی کو ممکن ہے اختیار کا کمپلیکس ہو تو کوئی بات نہیں ہر لیڈر کو کوئی نہ کوئی کمپلیکس ہوا کرتا ہے، مگر وہ پھر بھی لیڈر ہی ہوتا ہے، ہماری رائے میں فاروق بھائی ہی ایم کیو ایم کی چمن میں ہر طرف بکھری داستان کو اکٹھا کر سکتے ہیں مگر انہیں کوئی اختیار کلی نہیں دیتا، جونہی انکو تسلیم کر لیا جائے گا وہ پھر رابطہ کے فیصلے بھی مانیں گے اور ہر ورکر کی بھی سنیں گے، اسوقت صرف ڈاکٹر فاروق ستار ہی مقناطیس یا قطب نما ثابت ہو سکتے ہیں، اس لئے متحدہ کے تمام فیکشن سن لیں کہ وہ اب جگ ہنسائی سے نکل جگ بیتی کی جانب آئیں، کراچی کو ایک ہی اکیلی تے وڈی متحدہ کی ضرورت ہے۔
٭٭٭٭
صدمہ در صدمہ
....Oعصمت و حرمت نسواں کی محافظ عاصمہ جہانگیر کی آواز گونجتی رہے گی اور وہ بے آسرا خواتین کے لئے جنگ لڑتے لڑتے گوشۂ فردوس میں ٹھکانہ کر لیں گی، حق مغفرت کرے عجب آزاد خاتون تھیں۔
....Oصدمے تو زندہ ہیں، صدموں کا مداوا کرنے والے اٹھتے جاتے ہیں،
اب تو اللہ سے ایک ہی دعا ہے کہ اس قوم کو صالح قیادت عطا فرما، ورنہ یہ ہجوم بے بساں خدا جانے کدھر کا رخ کرے، ابھی تو امید زندہ ہے، اصلاح کا عمل شروع ہے، مگر ہنوز پائپ لائن میں ہے، ہم خوشگوار انجام کے تمنائی کب اس کے تماشائی ہوں گے؟
....Oمولا بخش چانڈیو:ایم کیو ایم والے خود بتائیں انہیں کون لڑا رہا ہے،
اگر کسی کو کوئی لڑا سکتا ہے تو اسے میدان میں اترنے کا حق نہیں۔
....Oپرویز خٹک:مسائل کی بنیادی وجہ کرپٹ حکمران ہیں۔
حکمرانوں کی صف میں آپ بھی کھڑے ہیں، کیا وضو کیا تھا؟