| |
Home Page
بدھ 4؍ جمادی الثانی 1439ھ 21؍ فروری 2018ء
February 14, 2018 | 12:00 am
رائو انوار کو سپریم کورٹ سے حفاظتی ضمانت مل گئی

Todays Print

رائو انوار کو سپریم کورٹ سے حفاظتی ضمانت مل گئی

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) عدالت عظمیٰ نے سابق ایس ایس پی ملیر کراچی رائو انوار کی نگرانی میں مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود اور دیگر افراد کے ماورائے عدالت قتل سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ملزم رائو انوار کی پروٹیکٹیوبیل (سفری ضمانت) منظور کرتے ہوئے اسے جمعہ تک اسلام آباد سپریم کورٹ میں رجسٹری میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے جبکہ اسلام آباد اور سندھ پولیس کو ملزم کی جانب سے رابطہ کرنے کی صورت میں اسے گرفتار نہ کرنے اور محفوظ طریقے سے سپریم کورٹ میں پیش کرنے کا حکم جاری کیا ہے جبکہ فاضل چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ملزم کی جانب سے خود کو قانون کے حوالے کرنے کی صورت میں اس کی استدعا کے عین مطابق معاملہ کی تحقیقات کے لیے آئی ایس آئی ،آئی بی اور پورے پاکستان میں تفتیش کے ماہر سب سے اچھے پولیس افسر پر مشتمل جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی )تشکیل دیدی جائیگی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے بتایا کہ رائو انوار نے سپریم کورٹ کو خط لکھا جس میں اسکا کہنا ہے وہ بیگناہ ہےاسے صفائی کا موقع ملنا چاہیے، آزاد جے آئی ٹی بنائی جائے۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے منگل کے روز از خود نوٹس کیس کی سماعت کی تو آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ عدالت کے پچھلے حکم کی روشنی میں آئی بی اور آئی ایس آئی سے رابطہ کیا ہے،اس حوالے سے یہاں پر رپورٹیں جمع کروادی ہیں، آئی بی نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے اور ملزم کی وٹس ایپ کال کا سراغ لگانے کیلئے اس کا ڈیٹا اکٹھا کرلیا ہے اور پی ٹی اے سے کچھ معلومات لینے کیلئے لکھ دیا ہے لیکن وہاں سے تاحال کوئی جواب موصو ل نہیں ہوا ہے،جس پر فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ یعنی ابھی تک کچھ بھی نہیں ہوا ہے،ہرمرتبہ آپ کو مہلت دے دیتے ہیں، لیکن لگتا ہے کہ ملزم کوہمیں خود ہی پکڑناہوگا،آپ میرے ساتھ چلیں گاڑی میں بیٹھ جاتے ہیں۔ فاضل چیف جسٹس نے مزید بتایا کہ ملزم رائو انوار نے سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل کو ایک خط لکھا ہے،جوکہ ٹائپ شدہ ہے ،لیکن اس پر دستخط موجود ہیں۔ انہوں نے آئی جی کو کہا کہ وہ دستخطوں کا جائزہ لیں،جس پر آئی جی کے ساتھ کھڑے ایک پولیس افسر نے تصدیق کی کہ یہ دستخط رائو انوار کے دستخطوں جیسے ہی ہیں، جس پر فاضل چیف جسٹس نے خط کا متن پڑھتے ہوئے کہا کہ رائو انوار کا کہنا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں، وہ موقع پر موجود نہیں تھے،انصاف مظلوم کاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ رائوانوار کہتاہے کہ آزاد جے آئی ٹی بنائی جائے ، اگر جے آئی ٹی مجھے گناہ گار کرے تو میں تسلیم کرلوں گا ، عدالت کے استفسار پر آئی جی نے کہا کہ رائو انوارکوصفائی کاموقع ملنا چاہیے،بیشک عدالت جے آئی ٹی بنادے ، وہ درست بات کرررہا ہے ،جس پر فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اسے تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں،ہم حکم جاری کردیتے ہیں کہ ملزم سپریم کورٹ میں آجائے،اسے گرفتار نہ کیا جائے ،لیکن اگر راستے میں خدانخواستہ اسے کچھ ہوگیا تو سارے ثبوت ہی ختم ہو جائیں گے،ہم اسے پروٹیکیٹیو بیل دے رہے ہیں،دوران سماعت مقتول کے کزن نے مقتول کے والد کی جانب سے ایک خط بھی کھلی عدالت میں پڑھتے ہوئے بتایا کہ آ ج از خود نوٹس کیس کی تیسری پیشی ہے ،آج بھی ملزم گرفتار نہیں ہوا ہے ، وقوعہ کو 17روز ہوگئے ہیں ابھی تک سندھ پولیس ملزم کو گرفتار نہیں کرسکی ہے ،میڈیا پر ملزم کی گرفتاری میں مدد دینے کیلئے اشتہارات چلائے جائیں۔ بعد ازاں فاضل عدالت نے خط کی کاپی آئی جی کو فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اسے میڈیا کو نہ دینے کی ہدایت کی اور مذکورہ بالااحکامات کے ساتھ کیس کی مزید سماعت جمعہ 16فروری تک ملتوی کردی۔