| |
Home Page
پیر2 ؍ جمادی الثانی 1439ھ 19؍ فروری 2018ء
February 14, 2018 | 12:00 am
نوازشریف نے2013ءکے بیانیہ پر عمل بھی کرکے دکھایا،جاویدعباسی

Todays Print

نوازشریف نے2013ءکے بیانیہ پر عمل بھی کرکے دکھایا،جاویدعباسی

کراچی(ٹی وی رپورٹ)مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید عباسی نے کہا کہ2013میں نواز شریف کایہ بیانیہ تھا کہ ملک سے توانائی کے مسائل ، دہشتگردی ختم کریں گے ،کراچی میں امن لائیں گے اور ان باتوں پر عمل بھی کر کے دکھایا ، تحریک انصاف یہ سوچ رہی کہ ہماری خامیوں سے الیکشن جیت جائے گی جبکہ ہم اپنی کارکردگی سے الیکشن جیتیں گے۔وہ جیو کے پروگرام ”آپس کی بات “ میں میزبان منیب فاروق سے گفتگو کررہے تھے۔پروگرام میں پیپلزپارٹی کے رہنما چوہدری منظور ،سینئر تجزیہ کار افتخار احمد، سینئر تجزیہ کار سلیم صافی اور سینئر تجزیہ کار حفیظ اللہ نیاز ی نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔پیپلزپارٹی کے رہنما چوہدری منظور نے کہا کہ ضمنی الیکشن اس بات کا تعین نہیں کرتے کہ جنرل الیکشن میں کیا نتیجہ رہے گا،ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے کوئی ٹارگٹ حاصل نہیں کئے،ابھی بھی با ضابطہ لوڈ شیڈنگ جاری ہے، لودھراں پر جو الیکشن کا نتیجہ لوکل سیاست کی بنیاد پر آیا،اس کے علاوہ انہیں صدیق بلوچ نے بھی الیکشن میں سپورٹ کیا،نواز شریف نے جو اربوں کے پراجیکٹ کا اعلان کیا تھا وہ لگے لیکن تاخیر سے لگے۔سینئر تجزیہ کار افتخار احمد نے کہا کہ 60فیصد لوکل سیاست اور 40فیصد شہباز شریف کے کام کی بنیاد پر ن لیگ الیکشن جیتی ہے اور اس ساٹھ فیصد میں ن لیگ کی لیڈر شپ نے کوئی غلط فیصلہ نہیں کیا۔سینئر تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا کہ چوہدری نثار میں کچھ خامیاں ضرور موجود ہیں،ایک تو وہ انا پرست ہیں،ساتھ ساتھ ان کی موجود حکمت عملی بھی درست نہیں لیکن ان کی اچھائیوں میں سے ایک اچھائی یہ ہے کہ ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں، نوا زشریف سے اختلافات کے باوجود نواز شریف سے ان سے زیادہ کوئی مخلص بھی نہیں۔ سینئر تجزیہ کار حفیظ اللہ نیاز ی نے کہا کہ چوہدر ی نثار کسی سے رابطہ نہیں رکھتے،نہ موبائل رکھتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار کو خراب کرنے کیلئے ن لیگ میں بہت سی قوتیں کھڑی ہوچکی ہیں جبکہ عمران خان میں خامی یہ ہے کہ انہیں اگر پتا چل جائے کہ کوئی نیوٹرل ہے تو وہ اسی پر حملے کرتے ہیں۔پروگرام میں جاوید عباسی کا مزید کہناتھا کہ پیپلزپارٹی ان کیلئے حریف ثابت نہیں ہوسکتی ہے، جاوید عباسی کا کہنا تھا کہ جب ضمنی انتخابات ہوتے ہیں تو اس میں منوورنگ اور انجیئنرنگ کی اجازت ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی نے جتنا ووٹ حاصل کیا اتنا تو کوئی ایک آزاد امید وار بھی حاصل کرسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور تحریک انصاف اور طاہر القادری کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جس کا یہ نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اب ٹرینڈ سیٹ کردیا ہے اور آگے بھی اسی طرح ہی کامیاب رہے گی۔چوہدری منظور کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں جونیئر افسروں کو سینئر سیٹوں پر بٹھا کر شہباز شریف برباد کراتا ہے اس کو یہ گڈ گورننس کہتے ہیں،ا نہوں نے ٹیکسٹائل فیکٹر بھی سارا تباہ کردیا ہے، ان کے پولیس مقابلے بکتے ہیں ، لوگوں کے اندر خوف کی فضا پائی جاتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہماری تباہی بھی ن لیگ کے ساتھ مل کر ہی ہوئی تھی۔سینئر تجزیہ کار افتخار احمد نے کہا کہ 60فیصد لوکل سیاست اور 40فیصد شہباز شریف کے کام کی بنیاد پر ن لیگ الیکشن جیتی ہے اور اس ساٹھ فیصد میں ن لیگ کی لیڈر شپ نے کوئی غلط فیصلہ نہیں کیا،جہانگیر ترین نا اہل ہوا تو وہ اپنے بیٹے کو لایا،2015میں جہانگیر ترین نے اسی حلقے سے ن لیگ میں بننے والی دھڑے بندیوں کی بنیاد پر فائدہ اٹھا یا تھا اور انتخاب جیتا تھا، ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر انجینئرنگ کرنی پڑتی ہے جو ان کی جانب سے کی گئی، اس کے علاوہ کانجو فیکٹر بھی بہت اہم دکھائی دیا ، ان کی جانب سے بہتر انجینئرنگ کی گئی اور لوکل سطح پر دھڑوں کو اکٹھا بھی کیا گیا، پی پی پی کی لیڈر شپ نے غلطی کی جبکہ ن لیگ نے غلط سے اجتناب برتا، ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی کو لاہور مال روڈ پر جلسہ نہیں کرنا چاہئے تھا۔سینئر تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا کہ چوہدری نثار میں کچھ خامیاں ضرور موجود ہیں،ایک تو وہ انا پرست ہیں،ساتھ ساتھ ان کی موجود حکمت عملی بھی درست نہیں لیکن ان کی اچھائیوں میں سے ایک اچھائی یہ ہے کہ ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔