| |
Home Page
بدھ 4؍ جمادی الثانی 1439ھ 21؍ فروری 2018ء
February 14, 2018 | 12:00 am
اسامیاں خالی، خیبرپختونخوا احتساب کمیشن بحران کا شکار

Todays Print

اسامیاں خالی، خیبرپختونخوا احتساب کمیشن بحران کا شکار

پشاور(آفتاب احمد) خیبر پختونخوا احتساب کمیشن بحران کا شکار ہوگیا ، احتساب کمیشن میں بیشتر اسامیاں خالی ہیں جس کے باعث کئی کیسز التوا کا شکار ہیں ، احتساب کمیشن اپنے قیام کے بعد سے اب تک 52 کروڑسے زائد کے اخراجات کرچکاہے لیکن کوئی ریکوری نہیں ہوئی ،صاف چلی شفاف چلی تحریک انصاف چلی کے نعرے سے خیبر پختونخوا میں اکثریتی ووٹ حاصل کرنے اورصوبے میں حکومت بنانے والی تحریک انصاف نے محکمہ اینٹی کرپشن پر عدم اعتماد کرتے ہوئے خیبر پختون خوا احتساب کمیشن کا قیام عمل میں لایا، احتساب کمیشن اپنے قیام کے بعد سے ہی خبروں کی زینت بنا رہا، عمران خان اپنی تقریروں میں احتساب کمیشن کی کارکردگی کی مثالیں دیتے رہے، احتساب کمیشن نے صوبائی وزیر معدنیات ضیاء اللہ آفریدی کو بھی کرپشن کرنے پر گرفتار کیا، جس کے بعد سے احتساب کمیشن کو سیاسی مقاصد کے لئے بطور ہتھیار استعمال کرنے کا الزام لگا، جبکہ خود احتساب کمیشن کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد خان نے بھی 9 فروری 2016 کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا،جس کے بعد سے احتساب کمیشن بحران کا شکار ہے، احتساب کمیشن میں بیشتر اسامیاں خالی ہیں جن میں سےڈی جی احتساب کمیشن کا عہدہ سرفہرست ہے جس کا اضافی چارج ڈائریکٹر ایچ آر کے پاس ہے، ایڈیشنل ڈائریکٹر انوسٹی گیشن کی 2 اسامیاں، ڈپٹی ڈائریکٹر کی 8 اسامیاں خالی ہیں،اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی 16 اسامیوں میںسے 12 خالی ہیں، احتساب کمیشن میں اس وقت صرف 8 انوسٹی گیٹرز دستیاب ہیں جبکہ 7 انوسٹی گیٹر جو دیگر محکموں سے مستعار لئے گئے تھے کچھ عرصہ قبل ریٹائرڈ ہوگئے ہیں، احتساب کمیشن کے پاس عملے کی کمی کے باعث 25 سو سے زیادہ شکایات التواء کا شکار ہیں، دستیاب انوسٹی گیٹر کو 300 سے زیادہ کیسز میں تحقیقات کرنی پڑرہی ہے جو کہ ممکن نہیں ہے اور یوں ادارے کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے، احتساب کمیشن میں جونیئر انوسٹی گیشن آفیسر کی 36 اسامیاں خالی ہیں ، جبکہ ماتحت عملے میں جونیئر کلرک کی 10 ، سینیئر کلرک کی 9 ، فیلڈ آپریٹر کی 18 میں سے 10 اور سپرٹنڈنٹ کی 3 اسامیاں خالی ہیں،احتساب کمیشن کا دفتر بھی کرائے کی 4 عمارتوں میں ہے،زمین کے حصول کے لئے اور خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لئے کئی بار خیبر پختونخوا حکومت کو خطوط لکھے جاچکے ہیں لیکن تاحال اس پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا، جبکہ احتساب کمیشن میں سے اس وقت کام کرنے والے اکثر ملازمین کنٹریکٹ پر ہیں جن کو نوکری کا تحفظ نہیں ہے، احتساب کمیشن نے اپنے قیام سے لے کر اب تک 29 ریفرنسز احتساب عدالت میں جمع کرائے ہیں لیکن تاحال ایک بھی ریفرنس پر فیصلہ نہ آسکا اورابھی براہ راست ایک پیسے کی بھی ریکوری ممکن نہیں ہوئی ،جب کہ اخراجات کی مد میں 52 کروڑ سے زیادہ روپے خرچ کئے جاچکے ہیں جس میں فرنیچر کی خریداری سمیت تنخواہیں اور کرایہ کی مد میں اٹھنے والے اخراجات بھی شامل ہیں،احتساب کمیشن اس وقت 67 کیسز میں انوسٹی گیشن اور 143 انکوائریاں کر رہا ہے، عملے کی کمی اور نوکریوں کے عدم تحفظ کے باعث تحقیقاتی کام سست روی کا شکار ہے۔