| |
Home Page
اتوار یکم جمادی الثانی 1439ھ 18 فروری 2018ء
اداریہ
February 14, 2018 | 12:00 am
معرکۂ لودھراں کے اثرات

Lodhran By Polls And Its Implications

2018کے عام انتخابات سے قبل لودھراں کی نشست پر قومی اسمبلی کے آخری ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے امیدوار پیر اقبال شاہ کی فتح اور تحریک انصاف کے علی ترین کی شکست حیرت انگیز بھی ہے اور دونوں جماعتوں کے لئے سوچ بچار کے نئے دروازے کھولنے کا پیغام بھی۔ 23دسمبر 2015کو اس نشست پر ضمنی انتخاب میں جہانگیر ترین 40ہزار ووٹوں کی اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے اس لئے ان کے صاحبزادے علی ترین کی جیت عام اندازوں کے مطابق تقریباً یقینی سمجھی جاتی تھی۔ پی ٹی آئی نے اس کے لئے بڑی زور دار انتخابی مہم چلائی اور عمران خان نے یہاں انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک بڑا جلسہ بھی کیا جبکہ مسلم لیگ ن کی جانب سے نواز شریف یہاں آئے، نہ شہباز اور حمزہ شریف، ن لیگ کی انتخابی مہم عبدالرحمن کانجو ایم این اے نے چلائی۔ تحریک لبیک کے امیدوار ملک ظہور احمد بھی میدان میں تھے اور خیال کیا جاتا تھا کہ وہ ن لیگ کے ووٹ توڑیں گے لیکن فوج کی نگرانی میں ہونے والے پرامن انتخاب میں پیر اقبال شاہ27609 ووٹوں کی اکثریت سے جیت گئے۔ انہوں نے نہ صرف گزشتہ انتخاب کے 40ہزار ووٹوں کا خسارہ پورا کیا بلکہ 27ہزار سے زائد مزید ووٹ بھی حاصل کر لئے جبکہ علی ترین کو85933 ووٹ ملے۔ تحریک لبیک کے امیدوار 11494ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ پیپلزپارٹی کے مرزا محمد علی بیگ کو صرف 3189ووٹ ملے جو ملک کی فی الوقت دوسری بڑی پارٹی کے لئے یقیناً لمحہ فکریہ ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں نے اس ضمنی انتخاب کو آنے والے عام انتخابات میں ن لیگ کیلئے خوش آئند قرار دیتے ہوئے ان اسباب پر روشنی ڈالی ہے جن کی بدولت یہ اپ سیٹ ہوا۔ پہلی وجہ پانامہ لیکس کے تناظر میں ن لیگ کا بیانیہ اور نواز شریف کی کامیاب عوامی مہم ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ عوام نے سابق وزیراعظم کے اس موقف کو پذیرائی بخشی ہے جس کا اظہار انہوں نے جی ٹی روڈ کے جلوس اور بعد میں بڑے بڑے جلسوں میں بڑی شد و مد سے کیا۔ اقبال شاہ خود بھی بہتر امیدوار تھے۔ وہ تحصیل ناظم رہ چکے ہیں اور ان کا بیٹا پنجاب اسمبلی کا رکن ہے۔ عوام میں انہیں ایک مخیر شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے جنہوں نے اپنی قیمتی اراضی رفاہی کاموں کے لئے مختص کر رکھی ہے۔ لودھراں شہر میں پہلے پی ٹی آئی کو18ہزار ووٹوں کی سبقت حاصل تھی لیکن شہر کے معاملات میں زیادہ دلچسپی نہ لینے اور شہری ووٹروں میں موجودہ حالات کے تناظر میں سوجھ بوجھ بڑھنے کے باعث اسے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ جہانگیر ترین سائنسی انداز میں حساب کتاب رکھنے والے زیرک سیاستدان ہیں انہوں نے رفاہی کام بھی کئے لیکن عوام سے کئے گئے بہت سے وعدے پورے نہ کر سکے۔ ان کی جانب سے ہیلی کاپٹر سے آنا جانا اور دولت کی غیر ضروری نمائش بھی شاید ان کی مہم پر منفی انداز میں اثر انداز ہوئی اس لئے پی ٹی آئی کی مقبولیت کم ہوئی۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگوں نے پیسے کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔ اقبال شاہ کی کامیابی میں عبدالرحمن کانجو ایم این اے کی بہتر حکمت عملی کا بڑا عمل دخل ہے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اس علاقے میں جو ترقیاتی کام کرائے ن لیگ کی کامیابی ان کا نتیجہ بھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شہباز شریف نے پورے پنجاب میں عمدہ کارکردگی دکھائی۔ لودھراں میں ہونے والا اپ سیٹ جنوبی پنجاب میں ن لیگ کی مقبولیت کے اشارے بھی دے رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ن لیگ اسے مزید آگے بڑھانے کے لئے کیا کرتی ہے۔ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے لودھراں کی شکست پر بہانے تراشنے کی بجائے مثبت رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنے کارکنوں سے درست کہا ہے کہ ہر صدمہ نئے عزم سے دوبارہ کھڑے ہونے کے اسباب مہیا کرتا اور نقائص کے تجزیے اور ان کی درستی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ مشورہ دوسری سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں کے لئے بھی سود مند ہے توقع کی جانی چاہئے کہ سیاسی جماعتیں 2018کے انتخابات میں اسی مثبت سوچ اور جذبے کے ساتھ حصہ لیں گی۔