| |
Home Page
ہفتہ 7؍ جمادی الثانی 1439ھ 24؍ فروری 2018ء
یاسر پیر زادہ
February 14, 2018 | 12:00 am
امریکہ کے تین عجوبے

Three Wonders Of The United States

اس صدی میں امریکہ نے تین عجوبے پیدا کئے۔ پہلا، ڈیوڈ کاپر فیلڈ، دوسرا گوگل اور تیسرا ڈونلڈ ٹرمپ۔ پہلے دو کی یاترا ہو چکی، ٹرمپ سے ملاقات باقی ہے، سنا ہے وہ کچھ مصروف ہے، خود میرے پاس بھی امریکہ میں اب زیادہ وقت نہیں۔
ڈیوڈ کاپر فیلڈ اِس وقت دنیا کا سب سے بڑا جادوگر ہے، اس کے شعبدوں کا راز آج تک کوئی نہیں جان سکا، وہ امریکہ کا مجسمہ آزادی غائب کر چکا ہے، اپنے جسم کو مشینی آرے سے دو حصوں میں کاٹ چکا ہے اور دیوار چین کے آرپار جا چکا ہے۔ دنیا بھر میں اس کے شو کی ٹکٹیں ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں، Oprah Winfrey نے اس کے بارے میں کہہ رکھا ہے کہ He is the greatest illusionist of our times. ہماری خوش قسمتی کہ اُس کے شو کی ٹکٹیں ہمیں مل گئیں، پروگرام MGM Grandمیں تھا، ہم ٹھیک وقت پر پہنچے، شو سوا سات بجے شروع ہوا، موصوف کی انٹری ایسی دبنگ تھی کہ حاضرین دم بخود رہ گئے، ایک بڑے سے چوکور ڈبے کو خالی دکھایا گیا، پھر چند سیکنڈز کے لئے اس کے آگے چادر تانی گئی اور جب چادر ہٹی تو جناب سامنے ایک موٹر سائیکل پر بیٹھے پائے گئے، زمین سے نکلے یا آسمان سے ٹپکے کوئی نہیں جان پایا، ہال کی چھت البتہ تالیوں سے اُڑ گئی۔ ڈیوڈ کاپر فیلڈ کو دیکھتے ہی آپ کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ شخص ایک سحر انگیز شخصیت کا مالک ہے، مردانہ وجاہت کا شاہکار ہے اور اپنے اندر صنف نازک کے لئے بے پناہ کشش رکھتا ہے، اس کا لباس، بول چال کا انداز، شو کرنے کا اسٹائل، سب کچھ منفرد ہے، باقی شعبدے بازوں کی طرح وہ خواہ مخواہ اچھل کود نہیں کرتا، نہایت بے فکری سے شو کرتا ہے گویا یہ اس کے بائیں ہاتھ کا کام ہو۔ اُس کے شو کی خاص بات صرف شعبدے ہی نہیں بلکہ کہانی سنانے کا انداز ہے، وہ اپنے شو کو ایک مخصوص پیرائے میں حاضرین کے سامنے بیان کرتا ہے اور لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ کب وہ اُس کے سحر میں ڈوب گئے۔ اِس شو کا آغاز اُس نے اپنی زندگی کی کہانی سے کیا اور بتایا کہ اُس کے والد نے اسے بچپن میں سکھایا تھا کہ زندگی میں کچھ بھی حاصل کرنا ناممکن نہیں، یہی وجہ ہے کہ آج جب وہ ناممکن کو ممکن کر دکھاتا ہے تو لوگ پاگل ہو جاتے ہیں۔ یہ کہانی مگر اُس نے ایک کرب سے بیان کی، اُس نے بتایا کہ جب وہ نامور ہو گیا تو اُس کا رابطہ اپنے والد سے تقریباً ختم ہو گیا اور اسی دوران اُس کے والد کی وفات ہو گئی، یہ دکھ وہ تمام عمر نہیں بھول پایا، اپنی اسی کہانی کو اُس نے شو کی تھیم بنایا اور پھر ڈیڑھ گھنٹے میں ایسے ایسے شعبدے دکھائے جن کی کوئی وضاحت انسانی ذہن کرنے سے قاصر ہے۔ اس نے ایک لاٹری کا نمبر بوجھ کر بتایا، مستقبل میں جا کر پہلے سے سب کچھ ایک کاغذ پر لکھ دیا جو ابھی ہوا ہی نہیں تھا، دو افراد کو ایک میز کے نیچے بٹھا کر اس کے پائے پکڑوا دیئے اور پھر یکدم اس میز کے اوپر ایک گاڑی نمودار ہو گئی جسے اس نے سٹارٹ کر کے دکھایا کہ پتہ چلے اصل ہے، سامنے اسٹیج سے وہ خود ایک چادر کے پیچھے چھپا اور آن ہی آن میں ٹھیک میری نشست کے پیچھے نمودار ہو گیا اور اُس وقت تو مجمع پاگل ہی ہو گیا جب اُس نے ہال میں ایک اڑن طشتری پیدا کر کے یکدم ہوا میں معلق کر دی۔ اگر میں نے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ نہ دیکھا ہوتا تو کسی دوسرے کی زبانی سُن کر کبھی یقین نہ کرتا۔ لوگوں نے پانچ منٹ تک کھڑے ہو کر اکیسویں صدی کے اِس عجوبے کو داد دی۔
اِس صدی کا دوسرا عجوبہ گوگل ہے، گوگل کا صدر دفتر سیلیکون ویلی میں ہے جو سان فرانسسکو کے قریب پھیلے چند شہروں کا مجموعہ ہے، ان میں سے ایک شہر سان ہوزے ہے جسے آپ سیلیکون ویلی کا مرکز کہہ سکتے ہیں۔ ایپل کا نیا ہیڈ کوارٹر بھی یہاں سے چند منٹ کی ڈرائیو پر ہے، یہ عمارت تیار ہو چکی ہے، اِس میں تیرہ ہزار ملازمین کام کریں گے، اِس میں سیاحوں کو داخلے کی اجازت نہیں تاہم ہم جیسوں کیلئے انہوں نے ایک سینٹر بنا رکھا ہے جہاں آپ اِس عمارت کا ماڈل دیکھ سکتے ہیں، ایپل کی مصنوعات خرید سکتے ہیں اور جب فارغ ہو جائیں تو کافی پی کر واپس جا سکتے ہیں۔ ایپل کے درشن کے بعد ہم گوگل کی یاترا کیلئے گئے۔ اس پورے علاقے کو آپ امریکہ کا دماغی صدر مقام کہہ سکتے ہیں، چند مربع کلومیٹر پر پھیلا یہ علاقہ پہاڑوں کے درمیان گھرا ہے، دنیا بھر کے جینئس دماغ یہاں کام کرتے ہیں، چینی اور بھارتی بکثرت پائے جاتے ہیں، پاکستانی پروفیشنلز بھی یہاں ہیں، چینیوں کی بہتات کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ سڑک پر اشتہار بھی چینی زبان میں لٹکے ہوئے ملتے ہیں۔ گوگل وہ عجوبہ ہے جس نے گزشتہ بیس برس میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل، کلچر اور رہن سہن ہی تبدیل کرکے رکھ دیا ہے، اگر آپ صرف گوگل کے نقشے کو ہی لے لیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کیسے زمین کا ایک ایک انچ گوگل نے آپ کے موبائل فون میں ایسے قید کیا کہ آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں اِس ایک appکی مدد سے کہیں بھی پہنچ سکتے ہیں، گوگل کی محتاجی اس قدر ہے کہ ایک کافی شاپ بھی تلاش کرنی ہو تو جھٹ سے امریکی موبائل فون نکالتے ہیں اور اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں، اپنا دماغ استعمال نہیں کرتے۔ تاہم یہ اُس ٹیکنالوجی کا دس فیصد بھی نہیں جو یہاں سیلیکون ویلی میں تخلیق کی جاتی ہے، اصل ٹیکنالوجی امریکہ کے فوجی و دفاعی نظام میں استعمال ہوتی ہے، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بروئے کار لائی جاتی ہے اور اُن تمام ایجادات میں استعمال ہوتی ہے جو امریکہ کو دن بدن مزید طاقتور بنا رہی ہیں۔ سیلیکون ویلی میں اس بات کا احساس ہوا کہ یہاں وقت کم ہے اور مقابلہ سخت، کئی جہازی کمپنیاں جن کا سورج کبھی نہیں ڈوبتا تھا آج بند ہو چکی ہیں کیونکہ وہ نئی ٹیکنالوجی متعارف نہیں کروا سکیں۔ ایسے کڑے امتحان کا سامنا ایپل کو بھی ہے، اگر ایپل نے جلد کچھ نیا متعارف نہ کروایا تو کون جانے یہ کمپنی بھی نوکیا بن جائے!
اس صدی کا تیسرا عجوبہ ڈونلڈ ٹرمپ ہے، یہاں امریکہ میں کسی کو اِس بات میں شک نہیں۔ ٹرمپ کا ارب پتی ہونا ہی کم حیرت انگیز نہیں تھا کجا کہ اسے امریکیوں نے اپنا صدر منتخب کر لیا۔ کیلیفورنیا جیسی ریاستوں میں ٹرمپ بالکل بھی مقبول نہیں، یہ امریکہ کی سب سے لبرل اور روشن خیال ریاست ہے، لاس اینجلس اور سان فرانسسکو جیسے شہروں میں نسلی تعصب نہ ہونے کے برابر ہے، اسی وجہ سے ٹرمپ یہاں سے نہیں جیت پایا۔ ٹرمپ کے اصل ووٹر متعصب گورے امریکی ہیں جنہیں یہاں Red Neckکہا جاتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھتے ہیں، خود کو امریکہ کا اصل مالک کہتے ہیں، دوسرے ممالک سے آئے لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، مہاجروں (immigrants) کے سخت خلاف ہیں اور ان کی اکثریت ان ریاستوں میں ہے جنہیں عرف عام میں Bible Beltکہا جاتا ہے، ٹرمپ نے انہی کی زبان بولی اور الیکشن جیت لیا۔ اکیسویں صدی کے دو عجوبے میں امریکہ میں دیکھ چکا ہوں، تیسرے کو دیکھنے کی تمنا ہے۔ خود امریکہ کسی عجوبے سے کم نہیں، ایک طرف بحر الکاہل ہے تو دوسری طرف بحر اوقیانوس، کیلیفورنیا بحر الکاہل کے کنارے آباد ہے اور اِس کا ہر ساحلی شہر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔سان فرانسسکو سے لاس اینجلس کی طرف جانے والی شاہراہ ہائی وے ون کہلاتی ہے، یہ دنیا کی خوبصورت ترین سڑکوں میں سے ایک ہے، یہ سڑک سمندر کے ساتھ ساتھ چلتی ہے، میں اس شاہراہ پر ہوں، دائیں جانب Pacific ہے، سامنے پہاڑ ہیں اور پہاڑوں کے پیچھے ڈوبتا سورج ہے جس کی روشنی سے نیلا آسمان آہستہ آہستہ سُرخ ہو رہا ہے، یوں لگ رہا ہے جیسے بادلوں میں کسی نے آگ لگا دی ہو۔ میں آگ بجھانے جا رہا ہوں!