| |
Home Page
ہفتہ 7؍ جمادی الثانی 1439ھ 24؍ فروری 2018ء
محمد سعید اظہر
February 14, 2018 | 12:00 am
عاصمہ جہانگیر کی یاد میں

In Memory Of Asma Jahangir To Commemorate Asma Jahangir

اشک بار سی گھمبیرتا کے ساتھ مجیب الرحمٰن شامی اپنے اینکر پرسن سے کہہ رہے تھے، ’’میں نے جب یہ خبر سنی میرے دل پر گھونسہ سا لگا‘‘ ان کے ساتھ عشروں سے میرا تعلق تھا۔ وہ میری وکیل بھی رہیں، ایسی وکیل جس کی ذمہ داری اور باقاعدگی نے مجھے ہمیشہ حیرت زدہ رکھا، یہ سارے عشرے میری نظروں کے سامنے سے فلمی مناظر کی طرح گزر گئے، ان کے والد ملک غلام جیلانی بھی ایسی ہی بے باک تمکنت سے آراستہ تھے، انہوں نے ایوب خان کو جو خط لکھا، وہ پاکستانی تاریخ کا نادر و نایاب راگ ہے جسے آج بھی الاپنے سے پاکستان کی دھرتی جھومنے لگتی ہے۔ عاصمہ جیلانی پر اس وقت وہ ابھی عاصمہ جہانگیر نہیں ہوئی تھیں نے یحییٰ خان کے خلاف ہائیکورٹ رٹ کی، یہ کیس ’’عاصمہ جیلانی کیس‘‘ کے نام سے آج بھی وطن عزیز میں آئینی لڑائی کا زیور ہے، اس میں عدالت عالیہ نے یحییٰ خان کو ’’غاصب‘‘ ڈیکلیئر کیا میں پاکستان کی اب تک کی گزری زندگی میں تین خواتین کی عظمت کو سلام کرتا ہوں۔
(1) مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح
(2) محترمہ بے نظیر بھٹو شہید
(3) محترمہ عاصمہ جہانگیر ، اس مثلث میں وہ انتہائی بہادر، انتہائی روایت پرست مشرقی ہستی، غریبوں کی انتہائی ہمدرد، تہمتیں لگانے والوں اور فریب و کذب کی آمیزش میں ڈھلے جملوں کے سرخیلوں کو شاید اپنی اپنی قبر کا چوکھٹا یاد نہیں، وہ بھول گئے، کسی بھی وقت کسی بھی گھڑی ان کا نام ان سے منسوب چوکٹھے میں کندہ کیا جا سکتا ہے، یہمکاروں کی پناہ گاہوں میں بسیرا کرتے ہیں، ابھی ابھی مجھے دو ٹویٹ ملے ہیں جن میں سے ایک اعظم نذیر تارڑ کا ہے، انہوں نے عاصمہ کی شخصیت کی عقیدت میں ایک شعر نذر کیا ہے، آپ بھی سنئے؎
سخن کدہ تیری طرز سخن کو ترسے گا
زباں سخن کو، سخن بانکپن کو ترسے گا
شامی صاحب کے نام سے دوسری ٹویٹ تھی۔ ان گنت خدائوں کو للکارنے والی عاصمہ کو سلام! پاکستان کے لئے ان کا دل دھڑکتا تھا‘‘۔ کشمیر کے مسئلہ پر محترمہ عاصمہ جہانگیر کو اخترا پرداز فتنہ گروں نے ہمیشہ نشانے پر رکھا لیکن شامی صاحب کے اینکر پرسن عزیزم اجمل جامی نے اپنے ناظرین کو عاصمہ بی بی کا ایک کلپ دکھایا اور سنوایا جس میں انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر گفتگو کی ہے، آپ اس کلپکاصرف ایک فقرہ ملاحظہ فرمائیں۔ سری نگر کے نوجوانوں نے دہلی سے پیٹھ پھیر لی ہے‘‘۔ میں بطور پاکستانی محترمہ عاصمہ جہانگیر پر فخر کرتا ہوں۔
محترمہ عاصمہ جہانگیر ایک قومی خوشبو تھیں، ان کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ، سب سے بڑی تاریخ ساز کارکردگی اور فیصلہ کن حوصلے کا پیغام مذہبی عناصر سے بلا کسی خوف، ہچکچاہٹ اور سمجھوتے کے ایسی جنگ تھی جس میں کوئی جان سے جائے، کسی کے ہاتھ قلم ہوں یا اسے اسیری کی وزنی آزمائشوں سے گزرنا پڑے انہوں نے فاتح ہونے تک لڑائی کے ساحل پر صلح اور امن کا سفید جھنڈا نہیں لہرایا، وہ وکیل کی شکل میں سرسیدؒ، غلام احمد پرویزؒ، علامہ جاوید الغامدی اور اقبال کا تسلسل تھیں، جس ضرب شدید کے ساتھ انہوں نے بے تکے مذہبی یا غیر مذہبی عناصر کا مقابلہ کیا، ان لوگوں کی جانب سے جیسی جیسی تند رو بلا خیز آندھیوں کے مقابل وہ استیادہ رہیں، ان کی یہ شجاعت، عزم اور اعتماد ہم سب کی عمر بڑھاتا تھا، اور بڑھاتا رہے گا۔
محترمہ عاصمہ جہانگیر کی خدمت اقدس کیلئے ہر پاکستانی کا دامن احترام، محبت اور عقیدت کی متاع گرانی سے بھرا ہوا ہے، وہ مسلمانوں کے ہاں سچ کی روایت کا مطلوب نمونہ تھیں، انہوں نے انسان کی عظمت اور اس کے حقوق کے مخالفوں پر عدیم المثال ضرب شدید لگائی وہ مسلسل لڑتی رہیں، سپریم کورٹ آف پاکستان میں ان کی آخری پیشی بھی ایک معطل اے ایس آئی کی داد رسی کرانا تھا۔ قومی پریس کے مطابق پاکستان ہی نہیں پاکستان سے باہر کا سوشل میڈیا بھی ان کی جدائی کے نوحوں میں ڈوب گیا جیسے بالی وڈ ہدایت کار مہیش بھٹ بولے’’ ایک غیر معمولی خاتون جو معمولی لوگوں کیلئے لڑتی رہی۔ عاصمہ جہانگیر میں وہ ہمت او رجرأت تھی کہ وہ ایک منصفانہ زندگی کے لئے لڑتی رہیں۔
محترمہ عاصمہ جہانگیر نے اپنے عہد کے ہر حکمران سے اختلاف کیا، ایوب خان، یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو شہید کوئی بھی ان کی حق گو دسترس سے محفوظ نہ رہ سکا، کیا وہ مبالغہ کر رہی تھیں؟ جن لوگوں کے ہاں ضمیر کی تکمیل اور قلب میں مطلوبہ مقدار کی روشنی موجود ہے، وہ اس نظریئے کو مسترد کریں گے، مسترد کر رہے ہیں! حکمران، خصوصاً اس صدی کے حکمرانوں کی نوعیت کے ہوتے، کسی حق گو کا ان کے ہر معاملے یا ہر طرز فکر اور ہر طرز عمل سے متفق ہونانہ صرف انسانیت کو شرمندہ کرنے کے مترادف ہو گا بلکہ ایسے ضمیر کا بحران قومی تباہی کی بنیادیں رکھ دے گا، چنانچہ محترمہ عاصمہ جہانگیر نے اپنے عہد کے ہر حکمران کو علی الاعلان سچائیوں کے چہرے دکھلائے اور ہمیشہ اس راہ پر قیام رکھا۔
نیک آسیب اور زندگی کیلئے موت آسا ڈیپریشن کے علمبردار ضیاء الحق کے عہد نارسائی میں پشاور کی ایک نابینہ بچی کے خلاف حدود کا مقدمہ قائم کر دیا گیا، یہ 1983کا ذکر ہے نابینا صفیہ بی بی کی عمر 13برس تھی، عدالت نے قید اور جرمانے کی سزا سنا دی، ملزمان نے ’’صفیہ نے اپنی مرضی سے گناہ کیا‘‘ کی حرکت ثابت کر دی تھی۔ یہاں ملک غلام جیلانی کی صاحبزادی محترمہ عاصمہ جہانگیر شمشیر برہنہ کی صورت چمکی، لہرائی اور مظلوم صفیہ بی بی کے سر پر قانون کا سائبان تان دیا۔ اسے اس باطل مقدمے اور ان ثبوتوں سے نجات دلائی۔ پاکستان ہی نہیں دنیا کے دیگر ممالک نے بھی انہیں اپنے اپنے ہاں کے اعلیٰ ترین ایوارڈز سے نوازا 1983ہی میں انہوں نے ’’توہین مذہب ‘‘ کے الزام میں سزائے موت کے قیدی چودہ (14) برس کے سلامت مسیح کو رہا کروایا۔
پاکستان بالخصوص پنجاب کے صوبے میں مذہبی انتہا پسندی سے یہاں لوگوں میں بزدلی کی جو ’’دیوار چین‘‘ قیام پاکستان کے پہلے روز سے چن دی گئی ہے، عاصمہ جہانگیر نے اس دیوار پر آہنی ضربیں لگائیں، ہر ضرب کی آواز میں پاکستان کے جمہوری، آئینی اور سیکولر قرار دیئے جانے کی ناگزیر پکار پوشیدہ تھی۔ وہ شک، خوف اور غیر یقینی میں ڈوبے ہوئے پاکستانی ماحول میں شمع کے طور پر روشنی بکھیرتی رہی، ان کے نظریات کی چاندنی نے چاروں اور اپنے سایہ عاطفت میں لے لیا۔
وہ دوغلے پن سے مبرا تھیں، مذہبی جبریت کی کرخت توجہیوں کو انہوں نے ایک لحظہ تاخیر کئے بغیر اپنے دامن سے جھٹک دیا، اوندھی نظریاتی جبلتوں نے انہیں کبھی پریشان خیالی یا ڈر میں مبتلا نہیں کیا۔ کوئی منظر چاہے کتنا ہی ڈولتا ہو، کتنا ہی دھندلایا ہوا ہو، عاصمہ جہانگیر پاکستان کی دھرتی پر ایسے استادہ رہیں جیسے پہاڑ کھڑا ہو، ایسے سارے مناظر ان سے ٹکرا ٹکرا کے معدوم ہو جاتے، وہ رجعت پسندوں کے مقابلے میں ’’تیغ زن مجسمہ‘‘ تھیں، انکی نرمی میں فولادیت کا کڑا پن تھا، انہوں نے ہر بد ذات کو آہنی ایڑیوں پہ کھڑے ہو کے دریائے نیستی میں گرا دیا۔ محترمہ عاصمہ جہانگیر کی خدمت اقدس میں سلام احترام و عقیدت، کسی نے انہیں ’’تکریم و تقدیس انسانیت کا استعارہ‘‘ لکھا اور یہ آج کے سورج کا طلوع ہے۔