ہم سے سرگراں کیوں ہو

December 22, 2015
 

دیدہ تر وہاں کون نظر کرتا ہے
کاسہ چشم میں خوں ناب جگرلے کے چلو
اب اگر جائو پئے عرض و طلب ان کے حضور
دست و کشکول نہیں ،کاسہ سرلے کے چلو
(فیض)
16دسمبر کا دن اپنےساتھ بے شمار اداس یادوں کو لیکر آیا اور گزر بھی گیا۔ یہ دن ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔اس روز آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم بچوں کو خون میں نہلا دیا گیا۔ ان کے ساتھ اساتذہ اور اسٹاف ممبروں نے بھی جام شہادت نوش کیا۔ اس دن شہید بچوں کی یاد میں تمام الیکٹرونک میڈیا نے خصوصی پروگرام پیش کئے اور ملک کے ہر کونے میں اسکولوں اور آڈیٹوریم میں بچوں کی یاد میں خصوصی پروگرام منعقد کئے گئے۔شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے والدین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا ۔اولاد کا دکھ اتنا بڑا دکھ ہے جو وقت گزرنے سے بھی مندمل نہیں ہوتا۔ اور خصوصاً مائیں تو اس دکھ کو ساتھ لیکر ہی قبر میں اتر جاتی ہیں۔ وہ جب تک زندہ رہتی ہیں اسی دکھ کےسہارے زندہ رہتی ہیں اور اسے دل سے لگائے رکھتی ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ شہید بچوں ،اساتذہ کرام اور اسٹاف ممبرز جنہوں نے اس سانحہ میں جام شہادت نوش کیا ان کے درجات بلند کرے اور انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور ان کے لواحقین کو صبرو جمیل کی توفیق عطا کرے۔ آمین۔16دسمبر کو سقوط ڈھاکہ کے وقت بھی ہزاروں کی تعداد میں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو قتل کیا گیا خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔اور اس وقت پاکستان کا ساتھ دینے والوں کو آج45سال بعد پھانسیاں لگائی جا رہی ہیں۔فیض صاحب 1973میں جب ذوالفقار علی بھٹو کے ہمراہ ڈھاکہ گئے تو واپسی پر اپنی کیفیت یوں بیان کی ۔
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گےکتنی برساتوں کے بعد
میں نے پچھلے کالم میںرائے دی تھی کہ کراچی میں رینجرز کو اختیارات دینے کے معاملے میں سندھ حکومت کو تاخیری حربے اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہئے اور کہا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے سندھ میں گورنر راج لگ سکتا ہے۔ سندھ حکومت اور رینجرز کے درمیان اعصابی جنگ جاری ہے۔ اب آخر کار اسمبلی نے مشروط پاور دینے کا عندیہ دیا ہے جو کہ شاید رینجرز کے لئے قابل قبول نہیں ہو گا۔چونکہ رینجرز ایک ڈسپلن فورس ہے اسلئے احتجاج بھی نہیں کر سکتی۔ ان کی حمایت میں شہریوں نے جلوس تو نکالے ہیں اور ریلیاں منعقد کی ہیںاور ابھی اس میں مزید اضافہ ہونے کے امکانات ہیں یہاں طاقت پر غرور اور ناز کرنے والوں کیلئے جون ایلیا کا ایک شعر یاد آیا۔
لمحہ بہ لمحہ دم بہ دم آن بہ آن دم بہ دم
میں بھی گزشتگان میں ہوں تو بھی گزشتگان میں ہے
یہ وقت بھی گزر جائے گا اور دوبارہ نہیں آئے گا۔ مگر میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر اس دفعہ کرپٹ حکمرانوں اور ان کے پروردہ سرکاری ملازمین کا احتساب نہ ہوا تو پھر آئندہ کبھی کوئی امید نہ رکھیئے گا۔ یہ ہی وقت ہے جب تمام رشوت خوروں کی تفصیلی رشوت کا حساب بندے بندے کے پاس موجود ہے۔ اگر اب بھی انکو پکڑنے میں تاخیری حربے استعمال کئے گئے اور انکو کیفر کردار تک نہ پہنچایا گیا تو پھر گلشن کا خدا حافظ۔ رینجرز کو کرپٹ لوگوں کو گرفتار کرنے سے روکنا بذات خود بہت بڑا جرم ہے۔ ابھی بھی بہت سے کرپٹ لوگ اپنے عہدوں پر براجمان ہیں۔ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں الٹا کرپٹ سیاست دان ان کی حمایت کر رہے ہیں۔ اور پھر اپنا status quo قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ دکھ کی بات ہے سیاست دانوں کو چاہئے کہ انہوں نے کافی کما کھا لیا ہے۔ اب تھوڑا ملک کو بھی چلنے دیں۔ میں نے تو گزشتہ ہفتہ اپنے کالم میں لکھا تھا کہ کرپٹ سیاست دانوں کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں چلایا جائے۔اسطرح فیصلہ جلد بھی ہو گا اور ٹرانسپیرنٹ بھی۔ گزشتہ دنوں جب ڈاکٹر عاصم کو کمرہ عدالت میں مزید ریمانڈ لینے کے لئے لایا گیا تو کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔وکلاءنے ریمانڈ نہ دینے کے لئے دلائل دیئے۔ مگر عدالت نے سات روز کا مزید پولیس ریمانڈ استغاثہ کو دے دیا۔ جب کہ ان کے ساتھی ملزمان کا14روز کا پولیس ریمانڈ ہو گیا۔ مزید انکشافات اور گرفتاریوں کی توقع ہے۔ کرپشن ہمارے ملک کی جڑوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ اور ہم ہر آنے والے دن میں پیچھے ہوتے جاتے ہیں۔ سیاست دانوں کے سیاسی ایوانوں میں آنے سے پہلے اور بعد کے اثاثے اگر گن لئے جائیں تو مزید کسی ثبوت کی ضرورت ہی نہیں۔ ہمارے ملک میں سیاست سب سے نفع بخش کاروبار ہے۔ جو لوگ اس میں آئے آج ان کی ملکی اور غیر ملکی جائیدادوں کا تخمینہ لگا لیجئے۔ کسی اور کاروباری شخص نے اتنے کم وقت میں اتنی ترقی نہیں کی ہو گی۔جتنی ترقی ہمارے سیاسی اکابرین نے کی ہے۔ اسطرح کا ماحول ایک عام ایماندار اور محنتی شخص کو محنت اور لگن سے کام کرنے سے روکتا ہے اور وہ یہ سوچتا ہے کہ فلاں شخص اسٹیٹ ایجنسی چلاتا تھا۔ آخر پانچ سال میں کیا ہو گیا کہ وہ کراچی ،لندن، اور دبئی میں اربوں روپوں کی جائیداد کا مالک بن گیا اور بنٹلے رولز رائس کاریں اسکی ملکیت میں آ گئیں ،کوئی رکشہ ڈرائیور تھا اور اب وہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔
میں نے جوانی میں ایک ناول بازار حسن پڑھا تھا۔ اس میں مرکزی خیال یہی تھا کہ ایک شریف اور خوبصورت خاتون اپنی زندگی کا موازنہ طوائفوں کے رہن سہن اور طور طریقوں سے کرتی ہےاور پھر یہ دیکھتی ہے کہ اسکے مقابلے میں ان عورتوں کی عزت زیادہ ہے بالکل ایسی ہی کشمکش کا شکار آج ہمارا محنتی اور ایماندار افسر ہے وہ اپنا پیٹ کاٹ کربچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرتا ہے اور دوسری طرف عیاشیاں ہو رہی ہیں یہ لمحہ فکریہ ہے۔ ذرا سوچئے آخر میں مرزا غالب کے اشعار قارئین کے پیش خدمت ہیں۔
کسی کو دے کہ دل کوئی تواسنج فغاں کیوں ہو
نہ ہو جب دل ہی سینے میں، تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے،ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں
سبک سربن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو


مکمل خبر پڑھیں