شام کا صوبہ ادلب بڑی تباہی کا شکار

August 15, 2018
 

شام کا صوبہ ادلب بارہ اگست کو ایک اور بڑی تباہی کا شکار ہوا جس میں ایک عمارت کے انہدام کے نتیجے میں سڑسٹھ سے زیادہ افراد ہلاک اورتینتیس زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں بارہ بچے بھی شامل تھے۔ آیئے، دیکھتے ہیں کہ ادلب شام میں کہاں واقع ہے اور وہاں کیا ہورہاہے۔

یہ صوبہ شام کے شمال مغرب میں واقع ہے جو شام کے ایک اور اہم شہر حلب سے صرف پچاس، ساٹھ کلومیٹرزکی دوری پر ہے۔ اتنا قریب ہونے کے باعث ادلب کے حالات پر حلب میں ہونے والے واقعات کا خاصا اثر پڑتا رہا ہے۔ادلب شہر،ادلب صوبے میں واقع ہے۔اس صو بے کی سرحدیں ترکی سے ملتی ہیں اور یہاںکی آبادی تقریباً پندرہ لاکھ ہے۔ ادلب شہر کی آبادی تقریباً دو لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ ادلب میں زیادہ تر سُنّی مسلمان بستے ہیں ۔ تا ہم یہاں کچھ مسیحی آبادی بھی رہی ہے۔ ادلب کے اضلاع میںسےضلع اشرافیہ کی آبادی سب سے زیادہ ہے۔دیگر اضلاع میںحِطّین، حجاز، حریت اور القصور شامل ہیں۔

شام میں 2011 میںبغاوت شروع ہوئی توادلب احتجاج کا مرکز بن گیا تھا اور خانہ جنگی کے ابتدائی مرحلے میں خاصا متاثر رہا تھا۔ اس دوران شہر پر باغیوں نے قبضہ بھی کرلیا تھاجس کے بعد شام کی حکومت نے جوابی کارروائی کرکے تقریبا ایک ماہ کی لڑائی کے بعد اس شہر پر دوبارہ قبضہ کرلیا تھا۔ مگر تین سال بعد، 2015 میں باغی گروہ، جن میں النصرہ فرنٹاور احرار الشام ،شامل تھے،ادلب کی دوسری لڑائی میں اس شہر پر دوبارہ قبضہ کرنے میں کام یاب ہوگئے تھے اور ساتھ ہی شیعہ اکثریتی قصبوںکا بھی گھیرائو کرلیاگیا تھا۔اس طرح 2015 میں ادلب شامی حزب مخالف کی تشکیل کردہ عبوری حکومت کا مرکز بھی بن گیاتھا۔ پھر گزشتہ برس جولائی کے مہینے میں النصرہفرنٹکی جانشین تنظیم، تحریر الشام نے ادلب سے احرار الشام کو نکال باہر کیا اور پورے ادلب پر قبضہ کرلیا تھا۔

اب ہم ایک نظر حلب پر ڈالتے ہیں جو حلب صوبے کا مرکز ہے اور پچاس لاکھ کی آبادی کے ساتھ شام کاآبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔خانہ جنگی سے قبل حلب شام کا سب سے بڑا شہر تھا، مگر اب غالباً دمشق کے بعد دوسری بڑی آبادی کا حامل ہے۔ دمشق کی طرححلب کو بھی دنیا کی تاریخ کے قدیم ترین آباد شہر کا درجہ حاصل ہے۔

خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد حلب بھی بڑی تباہی کا شکار بنا،جہاںبعض اندازوںکے مطابق پندرہ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ترکی سے قریب ہونے کے باعث اس حصے میں ترکی کا اثر و نفوذ بھی نمایاںہے جس نے شام کی خانہ جنگی میںباغیوں کی مدد کی ہے۔پھر جب روس کی حکومت نے شام کی کھل کر حمایت و امداد شروع کی تو حلب سے ترکی کو ملانے والی شاہ راہ پر سرکاری افواج قابض ہوگئیں جہاںسے شامی باغیوں کو اسلحہ و گولہ بارود مل رہا تھا۔ اس دوران ترکی اور امریکا کے تعلقات بہترتھے اور امریکاشامی حکومت کے خلاف ترکی کو استعمال کرکے باغیو ں کو کمک پہنچارہا تھا۔ جس طرح 1980 کے عشرے میں افغانستان کی خانہ جنگی میں امریکا نے پاکستان کےفوجی آمر، جنرل ضیاءالحق کو استعمال کرکے افغان باغیوں کو، جنہیں مجاہدین کہا جاتا تھا، بھرپور طریقے سے اسلحہ فراہم کیا اور پاکستان کو ایک راستے کے طور پر استعمال کیا تھا۔بالکل اسی طرح ترکی بھی امریکا کی ایما پر شام میںباغیوں کی مدد کرتا رہا ہے۔روس کی مددسے شامی افواج نے2016 کے اواخر تک حلب کو تقریباً تمام باغیوںسےخالی کرالیا تھا جس کے بعد 2017 میں تقریباً پانچ لاکھ مہاجرین،جو حلب چھوڑنے پر مجبور ہوگئےتھے، اپنے گھروں کو واپس آنے میںکام یاب ہوئے تھے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ شام کا نصف مغربی حصہ مکمل طو رپر شام کی سرکاری افواج کے قبضے میں ہے۔شمال مغرب کے کچھ حصے پر حزب مخالف کا قبضہ ہے۔ شمال مشرقی حصے پرجمہوری وفاقی شمالی شام کے نام سے ایک گروہ قابض ہے جسے روجاوا بھی کہتے ہیں۔ شمال مشرقی شام کا یہ حصہ بڑی حد تک خودمختار ہے جس میںتین خطے شامل ہیں،یعنی عفرین، جزیرہ اور فرات۔یہ حصہ 2012 سے اب تک خودمختار چلا آرہا ہے کیوں کہ یہاںکردوں کی اکثریت ہے جنہوںنے2016 میںاس حصے کو جمہوری وفاقی شمالی شام کا نام دے دیاتھا۔ ترکی کی طرح شامی حکومت نے بھی کردو ں کو مساوی حقوق نہیںدیے جس کے نتیجے میں اس حصے میں مرکزی شامی حکومت کے خلاف نفرت بڑھتی رہی ہے۔

اب ادلب میںہونے والے دھماکے میں جو عمارت تباہ ہوئی ہے اس کے بارےمیںکہا جارہا ہے کہ وہاںاسلحے کے اسمگلرز نے کافی گولہ بارود جمع کررکھا تھا۔ گو کہ ادلب کے کچھ حصے پر اب بھی باغیوں کا قبضہ ہے اس لیے سرکاری فوج روس اور ایران کے ساتھ مل کر اس شہر سے باغیوں کا مکمل طورپرصفایا کرنا چاہتی ہے۔بعض اطلاعات کے مطابق مذکورہ عمارت میںباغیوں کے خاندان بھی پناہ گزین تھے۔ان میںعورتیںاور بچے بھی شامل تھے جو اب ملبے میں دفن ہوچکے ہیں۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ اسے سرکاری فوج نے تباہ کیا ہو۔یاد رہے کہ شام کی خانہ جنگی میں اب تک ساڑھے تین لاکھ سے زیادہافراد ہلاک اور کئی شہر اور قصبے تباہ ہوچکے ہیں۔

شام کے موجودہ صدر بشار الاسد سے قبل ان کے والد حافظ الاسد تیس سال تک برسراقتدار رہنے کے بعد 2000 میں فوت ہوگئے تھے جس کے بعد اٹھارہ سال سے ان کے صاحب زادے اقتدار پر قابض ہیں۔ اس طرح تقریبا نصف صدی سے اقتدار ان ہی باپ بیٹوں کے ہاتھ میںرہا ہے۔حالاں کہ شام سےزیادہ تبدیلیاں تو سعودی عرب میں آچکی ہیں جہاںپچاس برسوں میں شاہ فیصل، شاہ خالد، شاہ فہد، شاہ عبداللہ کے بعد اب شاہ سلمان برسراقتدار ہیں۔ اس طرحسعودی عرب میں ایک حکم راںکا اوسط دور اقتدار صرف دس سال رہا ہے،لیکن شام میں اس مدت میں صرف دو افراد نے حکومت کی ہے۔

شام کی خانہ جنگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ سُنّی اکثریت صدر اسد کی علوی شیعہ اقلیت سے خوش نہیں رہی اور دوسری طرف دولت اسلامیہ اور القاعدہ جیسی انتہا پسند سُنّی تنظیمیں وجود میںآگئیںجنہوںنے شامی حکومت سے جنگ شروع کر د ی ۔ اس پر شیعہ اقلیتی حکومت کی ایران بھی مدد کرنے لگا اور پھر روس بھی کود پڑا۔ دوسری طرف ترکی اور امریکابھی شامل ہو گئے اور بعضاطلاعات کے مطابق سعودی عرب بھی شام کی مخالفت میں دولت اسلامیہ اور القاعدہ کی مدد کرنے لگا۔ اس طرحکئی باغی گروہ وجود میںلائے گئے جنہوںنے مل کرشام کی اینٹسے اینٹبجادی۔ مگر اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ وقتی طور پر شام میں بشارالاسد کی حکومت دوبارہ اپنا اقتدار مستحکم کرنے میںکام یاب ہورہی ہے اور ادلب کے جو بچے کچھے علاقے باغیوںکے قبضے میں ہیں انہیں بھی جلد آزاد کرالیا جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ حالیہ دھماکا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

شام کی خانہ جنگی کا پانسہ پلٹنے میںباغیوںپرروس کے فضائی حملے خاصے مددگار ثابت ہورہے ہیں۔روس کا کہنا ہے کہ وہ صرف دہشت گردوںکو نشانہ بناتا ہے۔تاہم امریکا کا الزام ہے کہ وہ عام شہریوں کو بھی ہلاک کررہا ہے۔ اس کے علاوہ ایران پر بھی الزام ہے کہ اس کے ہزا رو ںفوجی شام میں باغیوںکے خلاف لڑرہے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو باغی امریکی اور سعودی مدد سےبہت پہلے بشار الاسد کو اقتدار سے محروم کرچکے ہوتے۔ایران کے علاوہ لبنان کی حزب اللہ کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ شام کی سرکاری افواج کے شانہ بہ بشانہ لڑرہی ہے۔

دوسری طرف امریکا، فرانس، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک بھی باغیوں کی مدد کرتے رہے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب ایران کے بڑھتے ہوئے قدم روکنا چاہتا ہے جس کے لیے وہ مبینہ طورپر اسرائیل سے بھی تعاون کرنے پرراضی ہے۔ اب امریکا، اسرائیل اور سعودی عرب، ایران کے خلاف کارروائی کرنے کا سوچ رہے ہیںجس سے حالات مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ ایسے میں سعودی عرب نے یمن کے خلاف بھی فضائی حملے تیز کردیے ہیں جس میں سیکڑوںعورتیںاور بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ حالات اس خطے کے لیے کسی بھی طورپر اچھے نہیں ہیں۔بنیادی بات یہ ہے کہ کسی بھی ملک کو کسی دوسرے ملک میںمداخلت نہیںکرنی چاہیے،چاہے وہ ترکی ہو یا شام، ایران ہو یا سعودی عرب، پاکستان ہو یا افغانستان۔ اس خطے میں امن اسی وقت ممکن ہے جب حکم راں یہ بات تسلیم کرلیںکہ جنگ یا خانہ جنگی کسی مسئلے کا حل نہیں،بلکہ مزید تباہی کا باعث بنتی ہے۔


مکمل خبر پڑھیں