احمد فراز …جذبوں سے لبریز شاعر

August 30, 2018
 

(دسویں برسی پر )

وہ جو غالب نے کہا تھا کہ

قطرہ میں دجلہ دکھائی دے اور جزو میں کل

کھیل لڑکوں کا ہوا دیدہ بینا نہ ہوا

’’دیدہ بینا جس کو عطا ہو جائے اس کیلئے دشواریاں ہی دشواریاں پیدا ہو جاتی ہیں، زندگی کے ہر موڑ پر دیدہ بینا جراحتوں کے سامان فراہم کرتا رہتا ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ زیست کی تہہ در تہہ معنویت کی تلاش بہت مہنگا سودا ثابت ہوتی ہے۔ ہر عہد میں وہ لوگ جن کو یہ نعمت عطا ہوتی ہے، صلیب و دار کی منزلوں سے گزرتے رہتے ہیں۔ ان کے پیرایہ اظہار میں وہ تیکھا پن ہوتا ہے کہ اسے ملمع سازوں، دنیا پرستوں اور مادہ پرستوں کی ظاہر داری ثابت ہی نہیں ہو سکتی۔ فیض احمد فیض کے بعد نظم اور غزل میں اس ’’دیدہ بینا‘‘ کی نمائندگی پوری ذمہ داری کے ساتھ اگر کسی شاعر نے کی ہے تو وہ بلا شبہ احمد فراز ہی ہے۔ فراز ہمارے عہد کا وہ ماہتاب تھا جس پر اجل کے کالے بادل آ جانے کی وجہ سے جہان غزل ایک دم تاریک ہو گیا ۔ پورے 65سالہ عہد پر اس کی بھرپور گرفت رہی۔ میں نے کہیں پڑھا ہے کہ مخدوم محی الدین نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ شاعر کو غزل عمر کے کم سے کم چالیس سال پورے کر کے شروع کرنی چاہئے۔ مخدوم نے اشاروں میں صنف غزل کیلئے بہت اہم کہہ دی اس میں وہ شاعر کی مشاقی فن اور زیست کے تجربوں کی کشادگی پر اصرار کرتا ہے۔ غزل خیال بھی ہے اور آتش کے لفظوں میں مرقع سازی کا کمال بھی اور یہ کمال فراز نے18سال کی عمر میں کر دکھایا اور مقبولیت کے جس گراف تک اس کا نام روشن رہا وہ اس کے عہد میں بہتوں کو نصیب نہ ہوا، اس پر ہم عصروں نے طرح طرح کے طنز کئے لیکن اسے فیض کی طرح ہمیشہ ثابت قدمی سے اپنی متعینہ ڈگر پر چلتے رہنے کا جنون رہا ۔

اقبال اور فیض کے بعد اور بھی کئی نام ہیں۔ لیکن فراز کو جو عزت ،دولت، شہرت،عظمت اور مقبولیت ملی اسکی دوسری مثال نہیں، وہ صرف عام آدمی کے دکھ درد کا غزل کار نہ تھا بلکہ خواص میں بھی جی بھر کر پڑھا جاتا تھا۔

آج جب نازش بزم سخن و ساز جاناں کی یادوں کو سمیٹنے اور کاغذ پر منتقل کرنے بیٹھا ہوں تو اس کی خوش گفتار،خوش لباس اور خوش اخلاق شخصیت میرے سامنے آ کھڑی ہوئی ہے اس سے کئی کئی برس گزر جاتے تھے اور ملاقات نہیں ہوتی تھی مگر جب وہ ملتا تھا تو بہت ٹوٹ کر ملتا تھا ۔وہ کہتا تھا کہ انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ اچھا ہونا چاہئے اس لئے نہیں کہ خدا یا مذہب نے ایسا کیا ہے بلکہ اس لئے کہ دونوں انسان ہیں اس نے ایک بار ایمسٹرڈیم میں بحث کے دوران مجھ سے کہا، مصنف کا کام دنیا بدلنا نہیں، سمجھنا ہے،ادب انقلاب برپا نہیں کرتا ،انسانی فکر کو بدلتا ہے اور انہیں انقلاب کے تئیں بیدار کرتا ہے اس لئے ادب جانبدار بھی ہے۔ میرے حساب سے شاعری اگر فنکار کی ذات کا اعلانیہ یا بیانہ ہے تو اس ذات کا کمٹمنٹ ہر لحاظ سے زندگی سے ہوتا ہے، زندگی کے ذریعہ اس کے احاطہ میں پوری دنیا سمٹ آتی ہے۔ لہٰذا شاعر اگر خود کو لکھتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذات کے وسیلے سے دنیا کو لکھ رہا ہے اور دنیا اتنا بڑا موضوع ہے کہ اسکی انتہا نہیں معلوم اور اگر کچھ معلوم ہے تو بس اتنا کہ اسے دیکھتے دیکھتے سانسوں کی طناب ٹوٹ جاتی ہے۔

فراز کا عہد شاعری مسلسل شکست و ریخت سے دوچار رہا ہے۔ مملکت خداداد میں انسانیت ایک طرف پائمال ہو رہی ہے تو دوسری جانب فرد سارے معاشرے میں یک و تہنا ہوتا چلا جا رہا ہے،یہی وجہ ہےکہ فراز کی غزلوں میں حسن و جمال اور غم جاناں کے علاوہ زلف و کاکل اور لب و رخسار کے ذکر کی بجائے انسانی رشتوں، کی ناپائیداری ،اپنوں کی بے گانگی ، اخلاص و محبت کی نایابی، جمہور کی حق تلفی ، کینہ و حسد کی فراوانی ،بغض و عداوت کی ارزانی کےحقائق زیادہ پیش ہوئے ہیں۔

اس طرح اس کی شاعری اس کے دور کی آواز بن گئی ہے۔ یہاں مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اس کے کلام میں موسیقیت اور نغمگی بھی بھرپور رہی ہے اس کے ڈکشن میں یہ بات بھی ،خاص طور پر محسوس کی جاتی ہے کہ اس کی غزلوں میں ثقیل اور گرانبار الفاظ کہیں نہیں ملتے حالانکہ اسکی فارسی ادب پر مکمل دسترس تھی۔ اسے اپنے اظہار خیال اور انداز بیان پر مکمل قدرت حاصل تھی۔ جس کے موضوعات میں دنیا کو پرامن دیکھنے اور اس پرانتشار عہد میں گمشدہ انسان کو دریافت کرنے کا ایک واضح تصور بھی تھا۔

ہم سب کو الوداع کہنے سے دو ایک ماہ قبل میری اس سے دہلی میں ملاقات ہوئی اس کے بعد جتنے دن وہ دہلی میں رہا ہم ہر روز ملتے رہے۔ خصوصاً رات کا ملنا تو بے حد ضروری ٹھہرا۔ ایسی شامیں شاید میری زندگی میں پھر نہ آ سکیں۔ میں نے دیکھا وہ سب سے دوستیاں پالتا تھا حالانکہ ان میں اور اس پر مرنے کے بعد کالم لکھنے والوں میں ایسے بھی ہیں جن میں نفاق کی وہ تمام علامتیں پائی جاتی ہے جو الہامی کتابوں میں بتائی گئی ہیں۔ چڑھتے سورج کے پجاری ،موقع پرستوں اور منافقوں سے بھی اس کے تعلقات رہے لیکن ان کے پسینے کے چھینٹے اپنے بے داغ لباس پر نہ پڑنے دیئے۔ یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔

ایک رات ایمسٹرڈیم میں میرے گھر پر ابھی ہم نے گلاسوں کو ہاتھ ہی لگایا تھا کہ وہ موڈ میں آ گیا ،کہنے لگا ایک بات بتائو ؟ میری کون سی بات تمہیں اچھی نہیں لگتی ؟‘‘

میں نے کہا ’’موقع پرستوں اور مقصد حاصل کرنے کیلئے چاپلوسی اور خوشامد کرنے والوں کی پذیرائی ، آپ کے حلقے میں ایسے بہت سے لوگوں کو میں جانتا ہوں‘‘ یہ سن کر اس نے معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھا مگر چپ رہا۔

ہنوز زندگی کی سب سے بڑی حقیقت موت ہے۔ غالب نے موت کو ابن آدم کی مراث کہا ہے ،فراز کو بھی یہ مراث حاصل ہوئی لیکن نظریے اور عقیدے اس بات پر مضر ہیں کہ انہیں صرف مانا جائے جبکہ ادب کا مطالعہ کرنے کیلئے اسے جاننا،سمجھنا اور محسوس کرنا بنیادی تقاضے ہیں۔ منزل ادب سلیقے کی منزل ہے ہم نے جو دیکھا سمجھا، ہو گا اور محسوس کیا اسے کتنی کامیابی کے ساتھ دنیا تک پہنچایا ہے؟ ۔ فراز نے یہی فعل کر دکھایا ہے ،وہ زندہ تھا تو بھی زندہ تھا ،کومے میں تھا جب بھی زندہ تھا اور اب وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہے تو بھی زندہ ہے،فراز کی شاعری اور زندگی لازم و ملزوم ہے۔ اسکا ادب انسان کو زندگی کی حقیقتوں سے روشناس کراتا ہے۔ شاعری و ادب زندگی کا آئینہ ہے اگر زندگی کی تمام تر اچھائیوں ،برائیوں، تہذیبی و معاشرتی و سیاسی کشاکش اور ہم آہنگی کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ تو اسے صرف ادب و شاعری کے ذریعے ہی دیکھی جا سکتی ہے سو یہی فراز کی شاعری نے کہا ،آج دل سے ایک ہی آواز ری آ ہے کہ وہ ایک مثالی شخص اور زمانہ ساز شاعر تھا وہ نہ صرف یاد آتا رہے گا بلکہ فیض کے ساتھ رہ رہ کر یہ کہنے پر مجبور کرتا رہے گا۔

’’جنہیں جرم عشق پہ ناز تھا وہ گنہگار چلے گئے‘‘

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں