Advertisement

بی آر ٹی منصوبہ: تاخیر کی اصل کہانی

March 28, 2019
 

سلطان صدیقی، پشاور

یوم پاکستان23مارچ2019کو اعلان کے مطابق بس ریپڈ ٹرانزٹ(بی آر ٹی) منصوبے کا افتتاح تو نہ ہو سکا البتہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کے حوالے سے انکوائری کرنے اور رپورٹ جلد پیش کرنے کے لئے صوبائی انسپکشن ٹیم کو ہدایات جاری کی ہیں تاکہ غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے کی افتتاح سے انکار کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا ہے کہ یہ منصوبہ خالصتاً غریب عوام کی سہولت اور فلاح کے لئے شروع کیا گیا تھا تاکہ پشاور میں عوام کو درپیش ٹریفک کے دیرینہ مسائل کا دیرپا حل ممکن ہو سکے لیکن منصوبے میں تاخیر کی وجہ سے عام آدمی کو تکالیف کا سامنا ہے جس پر وہ مزید خاموش نہیں رہیں گے۔ آئے روز نئی تاریخیں لینے کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہئے اور منصوبے کو جلد مکمل کیا جائے وزیراعلیٰ کے مطابق وہ تختی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے جب منصوبہ عوام کے لئے دستیاب ہو گا تب اس کا افتتاح کریں گے۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی وزیراعلیٰ محمود خان کو یہی مشورہ دیا تھا کہ نامکمل منصوبے کا افتتاح نہ کریں۔

گذشتہ سال سابقہ حکومت کا دور ختم ہونے سے چند روز قبل پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف جنہیں خادم اعلیٰ کہنے پر زیادہ ناز تھا، نے لاہور میں اورنج ٹرین کے آزمائشی دوڑ کا افتتاح کیا تھا، اسی طرح صوبہ خیبر پختونخوا میں اس وقت کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے سوات ایکسپریس وے کے ایک حصے کا افتتاح کیا تھا مگر نہ تو شہباز شریف کا اورنج ٹرین ابھی تک چل سکا ہے اور نہ ہی پرویز خٹک کے ایکسپریس وے جسے عرف عام میں سوات موٹر وے کہا جاتا ہے پر ابھی تک گاڑیوں کی دوڑیں شروع ہو سکی ہیں۔ ایسے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کا منصوبے کے افتتاح سے انکار اور تکمیل میں تاخیر کی وجوہات معلوم کر کے ذمہ داروں کو سزا دینے کے فیصلے سے عوام میں ان کی قدر و منزلت بڑھ گئی ہے۔ البتہ یوم پاکستان سے ایک روز قبل22مارچ کو صوبائی حکومت کے ترجمان وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی، جو ایک عام صحافی سے اخباری مالک اور صحافت سے سیاست کا سفر مکمل کر چکے ہیں، نے بی آر ٹی منصوبے کی سافٹ اوپننگ کی بجائے ٹسٹ سروس کا افتتاح کر کے اس میں حیات آباد سے چمکنی تک کا سفر کر لیا ہے۔ ان کے مطابق ٹسٹ سروس کا مقصد منصوبے کے نقائص کا پتہ چلانا اور انہیں دور کرنا ہے کہ منصوبے کے گیارہ سٹیشنز ابھی مکمل نہیں ہو سکے ہیں جبکہ اور بھی بہت سارے کام کرنے ابھی باقی ہیں۔

بی آر ٹی منصوبے پر کئی حوالوں سے عوامی سطح پر بھی اعتراضات اٹھائے جاتے رہے ہیں اور صوبائی اسمبلی میں بھی ہر اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے خدشات کا اظہار اور اس میں کرپشن کے الزامات کی بازگشت سنائی دیتی رہی ہے۔ صوبائی اسمبلی کا رواں اجلاس جو اپوزیشن کی درخواست پر اسپیکر نے اپوزیشن کے ایجنڈے کے تحت طلب کیا ہے، میں بی آر ٹی منصوبے پر عام بحث بھی شامل ہے۔ پچھلے اجلاس میں یہ معاملہ ایوان میں اٹھایا گیا تو اپوزیشن کے پرزور اصرار پر حکومت نے اس کا جائزہ لینے کے لئے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل پر آمادگی ظاہر کی تھی تاہم موجودہ اجلاس میں جب اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی نے حکومت کو کمیٹی کی تشکیل کا وعدہ یاددلایا تو صوبائی وزیر بلدیات شہرام ترکئی اور وزیر قانون سلطان محمد نے کہا کہ یہ موضوع اپوزیشن کے ایجنڈے میں شامل ہے جب اس پر تفصیلی بحث ہو جائے گی تو اس کے بعد اگر حکومتی جواب سے وہ مطمئن نہ ہوئے اور ضرورت پڑی تو پھر پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل پر بات ہو گی یوں حکومت اس حوالے سے اپنے وعدے سے یوٹرن لے چکی ہے البتہ بلین ٹری سونامی کے حوالے سے حکومت نے اپوزیشن کے مطالبے پر پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

بی آر ٹی کے حوالے سے اسمبلی میں اٹھائے گئے نکات کا جواب وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے یہ دیاہے کہ بی آر ٹی کا اصل تخمینہ 66.7 ارب نہیں بلکہ 29 ارب ہے جبکہ اس سے دس سال قبل بننے والی لاہور میٹرو بس منصوبہ 31 ارب میں مکمل ہوا تھا شوکت یوسفزئی کے مطابق منصوبے کے باقی اخراجات اس سے متعلق دیگر منصوبوں کے لئے ہیں یعنی بی آر ٹی کے ساتھ ساتھ اس میں حیات آباد، ڈبگری گارڈن اور چمکنی کے مقامات پر تین کمرشل پلازے بن رہے ہیں جو سینٹورس کی طرز پر ہیں جن پر دس ارب روپے خرچ ہوں گے۔ اسی طرح 8 ارب روپے دو سو بسوں کی خریداری کے لئے ہیں ۔گیارہ ارب چالس کروڑ روپے بی آر ٹی کے دونوں جانب تین رویہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت سیمت نکاسی آب کے نالوں کی تعمیر ، گیس پائپ لائن و بجلی اور ٹیلیفون کی ترسیل وغیرہ کے لئے جبکہ ایک ارب روپے پرانی بسوں کی خریداری اور انہیں سکریپ کرنے کے لئے ہیں ان کے مطابق اس منصوبے میں 68 کلو میٹر فیڈر روٹس بھی شامل ہیں جبکہ جی ٹی روڈ سے شمع امن چوک تک ساڑھے چھ کلو میٹر مکمل ایلیو یٹڈ روٹ ہے۔ شوکت یوسفزئی کے مطابق اپوزیشن خواہ مخواہ منصوبے کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش نہ کرے ۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ سابقہ دور حکومت میں جب کابینہ کے سیکنڈ لاسٹ اجلاس میں یہ منصوبہ زیر غور لایا گیا تو اس وقت کے وزیر بلدیات جماعت اسلامی کے نائب صوبائی امیررکن اسمبلی عنایت اللہ خان نے اس سے اتفاق نہ رکھتے ہوئے اختلافی نوٹ لکھا تھا اوراس کی بھرپور مخالفت کی تھی تاہم اتحادی حکومت کی صوبائی کابینہ میں جماعت اسلامی کے وزراء کی تعداد صرف 3 تھی باقی سارے تحریک انصاف سے تعلق رکھتے تھے اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے سامنے منصوبے کے مخالفانہ بات کی جرات نہیں رکھتے تھے ۔ ایشیائی ترقیاتی بنک جس کے تعاون سے یہ منصوبہ شروع کر کے تکمیل تک پہنچایا جارہاہے نے اس منصوبے پر کام کی رفتار اور معیار پر اطمینان کااظہار کیاہے اور کہا ہے کہ دنیا بھر میں ایسے منصوبوں کا سٹرکچر 24 سے 30 ماہ کی مدت میں تیار ہوتا ہے جبکہ یہ صرف 15 ماہ میں تیار کیا گیا ۔ بنک حکام کے مطابق اقوا م متحدہ کی جانب سے پشاور اب بھی امن و امان کے حوالے سے ریڈزون میںہے جس کی وجہ سے انٹرنیشنل فرمز کو یہاں کام کرنے کے لئے راضی کرنا مشکل تھا جبکہ تعمیراتی میٹریل اور ٹیکنیکل لیبر کی عدم موجودگی بھی بڑے مسائل تھے تاہم اس کے باوجود پنجاب سے تکنیکی لیبر اور مقامی اداروں کو اس منصوبے کا کنٹریکٹ دیتے ہوئے اس کی تعمیر کو یقینی بنایا گیا بعض مقامات پر سیکورٹی نکتہ نظر سے بی آر ٹی کی دیواروں کو بم پروف بنایا گیا ہے اور ہر ممکن کوشش کی گئی ہے کہ اس منصوبے کی وجہ سے عوام کو سہولت بھی ہو اور کوئی مشکل بھی پیش نہ آئے۔ حکام کے مطابق بی آرٹی منصوبہ صرف ایک بس روٹ نہیں بلکہ جدید پشاور کی بنیاد ہے اور اس کی وجہ سے پشاورکی شکل ہی تبدیل ہو کر رہ جائے گی۔ منصوبے کی تعمیر میں مسائل ومشکلات اور بوجوہ ڈیزائن میں تبدیل واضافے کے،اب جبکہ یہ منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے کوشش کی جانی چاہیے کہ اس کی تعمیر و تکمیل میں معیار پر کوئی سودا بازی نہ ہو اور جلد از جلد عوام کے فائدے کے لئے کھول دیا جائے ۔


مکمل خبر پڑھیں