گندم امپورٹ کے معاملے پر پنجاب حکومت کی نااہلی سامنے آگئی

May 06, 2024

لاہور(ٹی وی رپورٹ)گندم امپورٹ کے معاملے پر پنجاب حکومت کی نااہلی سامنے آگئی، گندم خریداری پر پنجاب حکومت نے تاخیر سے نشاندہی کی جبکہ 31 مارچ کو آخری جہاز آنے سے 6 روز پہلے اعتراض اٹھایا۔مجموعی طور پر پاکستان سے گندم درآمد گی کے لیے ایک ارب 10 کروڑ ڈالرپاکستان سے باہر گئے،گندم درآمد اسکینڈل کی تحقیقات میں نئے حقائق سامنے آئے ہیں جن کے مطابق پنجاب حکومت کے منع کرنے کے باوجود وفاق نے ساڑھے 8 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کی تاہم اب اس معاملے پر پنجاب حکومت کی نااہلی سامنے آگئی، پنجاب حکومت پہلے خاموش بیٹھی گندم درآمد ہوتے دیکھتی رہی۔26 لاکھ ٹن گندم امپورٹ پر پنجاب نے سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی کو امپورٹ روکنے کا خط لکھا تھا جبکہ 31 مارچ کو گندم درآمد سے 6 روز پہلے 25 مارچ 2024 کو سیکرٹری فوڈ پنجاب کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی سامنے آئی ہے۔ سیکرٹری فوڈ پنجاب نے خط میں لکھا تھا کہ اب تک ساڑھے 34 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کی جا چکی ہے، پنجاب میں پیدواری رقبہ ایک کروڑ 60 لاکھ ایکڑ سے بڑھ کر ایک کروڑ 74 لاکھ ایکڑ ہوگیا ہے جبکہ گندم کی پیداوار 2 کروڑ 13 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 42 لاکھ ٹن متوقع ہے۔خط میں لکھا گیا تھا کہ امپورٹ جاری رہی تو نہ صرف مارکیٹ میں گندم سر پلس ہوگی بلکہ کسان بھی متاثر ہوگا، پنجاب میں گزشتہ برس 40 لاکھ ٹن گندم خریداری کی گئی، مارکیٹ میں امپورٹڈ گندم کی موجودگی سے گندم کی ریلیز محض 18لاکھ ٹن ہو سکی۔خط میں مزید لکھا گیا تھا کہ پنجاب کے پاس 22 لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے، صوبائی حکومت کے پاس موجود اسٹاک کی مالیت 80 ارب ہے جس پر سود دینا ہے۔خط میں پنجاب کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ گندم کی مزید امپورٹ سے سرکاری خزانے کو نقصان ہو گا، مکمل پابندی لگائی جائے۔گندم درآمد اسکینڈل کی تحقیقات کے حوالے سے قائم انکوائری کمیٹی کے سامنے گندم کی درآمد کے اگست 2023 سے مارچ 2024 کے اعداد و شمار پیش کردیے گئے۔انکوائری کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ گندم روس یوکرائن سمیت دیگر ممالک سے بھی درآمد کی گئی، درآمد کنندگان کی فہرست بھی کمیٹی میں پیش کی گئی، وزیراعظم شہبازشریف کو گندم درآمدگی تحقیقات سے آگاہ رکھا جارہا ہے۔ سیکریٹری کابینہ ڈویژن اور سیکرٹری خوراک نے اب تک کی تحقیقات سے متعلق وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق اگست 2023سے مارچ 2024 تک 330ارب روپے کی گندم درآمد ہوئی، پی ڈی ایم گورنمنٹ نے جولائی 2023 میں گندم درآمدگی سے متعلق فیصلہ معلق رکھا تھا، نگراں حکومت کے دور میں 250 ارب کی لاگت کی 28 لاکھ میٹرک ٹن درامد گندم پاکستان لنگراندازہوئی، موجودہ حکومت میں 80 ارب کی لاگت کی 7لاکھ میٹرک ٹن درامد گندم پاکستان پہنچی۔رپورٹ کے مطا بق مجموعی طور پر پاکستان سے گندم درآمد گی کے لیے ایک ارب 10کروڑ ڈالر پاکستان سے باہر گئے، اکتوبر 2024میں ساڑھے 4 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن گندم درامد کی گئی، نومبر 2023 میں 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کی گئی، ساڑھے3 لاکھ 35 ہزارمیٹرک ٹن گندم دسمبر 2023 میں درآمد کی گئی، جنوری 2024 میں 7 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کی گئی، فروری 2024میں ساڑھے 8لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کی گئی۔رپورٹ کے مطابق گندم کے 70جہاز6 ممالک سے درآمد کیے گئے، پہلا جہاز پچھلے سال 20 ستمبر کو اور آخری جہاز 31 مارچ رواں سال پاکستان پہنچا، باہر سے گندم 280 سے 295 ڈالرز پرمیٹرک ٹن درآمد کی گئی۔وزارت خزانہ نے نجی شعبہ کے ذریعے صرف دس لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت بھی دی تھی۔دوسری جانب سرکاری سطح پر گندم کی خریداری نہ ہونے کے باعث کسان اتحاد پاکستان کے مرکزی چیئرمین خالد حسین باٹھ نے وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کو خط لکھ دیا۔خالد حسین باٹھ کی جانب سے لکھے گئے خط میں وزیر اعظم میاں شہباز شریف سے گزارش کی گئی ہے کہ کسانوں کی گندم کی فصل کو آئے ہوئے 2 سے ڈھائی ماہ ہو چکے ہیں، پاکستان بھر میں کسانوں نے اپنی گندم نکال لی ہے، کسانوں نے اس سال پاکستان میں وافر مقدار میں گندم کی پیداوار کی ہے جو کہ کسانوں کا جرم بن گیا۔مرکزی چیئرمین کسان اتحاد کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ سب سے پہلے باہر سے امپورٹ ہونے والی گندم کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیئے، پنجاب حکومت نے 3900 روپے فی من ریٹ مقرر کیا جس پر ابھی تک ایک دانہ نہیں خریدا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پرامن احتجاج کرنے پر کسانوں پر تشدد ہوا گرفتاریاں کی گئی، سوشل میڈیا پر کسانوں کو انتشار کی طرف دھکیلنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے، کسانوں اور اداروں کو آمنے سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، کسان ملک کی حفاظت کا ضامن ہے۔ خالد حسین باٹھ نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے کسانوں کے اوپر تشدد قابل قبول نہیں، کسانوں کی گندم اس وقت 2600 سے لے کر 3 ہزار روپے تک خریدی جا رہی ہے جو کہ مڈل مین خرید رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو عام شہری کو اٹا مہنگا ملے گا اور کسانوں کا اربوں روپے کا نقصان ہوگا،ہمارا مطالبہ ہے ہماری گندم حکومتی ریٹ پر خریدی جائے تاکہ ہم اگلی فصل کاشت کر سکیں۔