پیسہ بولتا ہے

March 10, 2018
 

آخر کار سینیٹ کے انتخابات بھی وقت پر ہو ہی گئے اوراس حوالے سے گزشتہ ایک سال سے پھیلائی جانے والی سازشی تھیوریاںبالآخر دم توڑ گئیں۔ پچھلے ایک سال کے دوران جہاں ایک طرف اپوزیشن کے بعض رہنما ،فرزند ِراولپنڈی شیخ رشید کی سربراہی میں سینیٹ انتخابات سے قبل سسٹم کے پیک ہو جانے کی نوید سناتے دکھائی دئیے، تو دوسری طرف حکومتی جماعت مسلم لیگ ن بھی یہ کہتی نظر آئی کہ سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی ممکنہ کامیابی سے شاکی دائمی اقتدار رکھنے والے حلقے سینیٹ انتخاب سے قبل ہی حکومت کورخصت کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں اطراف سے دیئے جانے والے تاثر کے برعکس انتخاب کا مقررہ وقت پر انعقاد بلاشبہ جمہوریت کی مضبوطی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
لیکن کیا جمہوریت صرف انتخابی عمل کے وقت پر ہو جانے کا ہی نام ہے؟ سینیٹ کا انتخاب تو وقت پر ہو گیا مگر کیا اس انتخاب کے دوران پیش آنے والے واقعات سے آنکھیں چرائی جا سکتی ہیں؟ کیا یہ درست نہیں کہ اس انتخاب میں شامل تقریباََ ہر جماعت نے ہی مروجہ قوانین کو کچھ خاص اہمیت نہیں دی اور ووٹ خریدنے اور بیچنے کی جو داستانیں اس بار سننے کو ملیں پہلے کبھی نہیں سنی تھیں۔ ان باتوں میں کچھ تو صداقت ہو گی، آ خر یہ کیسے ممکن ہے کہ صوبائی اسمبلیوں میں کچھ خاص نمائندگی نہ رکھنے والی سیاسی جماعتیں بھی دو تین نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو گئیں۔ خیبر پختونخوامیں تو پاکستان تحریک انصاف کے سولہ سے زائد ایم پی ایز پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے کئی کروڑ کے عوض اپنے ووٹ کسی اورجماعت کے امیدوارکی جھولی میں ڈال دیئے۔ اس ضمن میں پارٹی کی سطح پر انکوائری کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے لیکن اس بات کے بہت کم امکانات ہیں کہ ووٹ بیچنے والے افراد کی نشاندہی ہو پائے گی۔ خفیہ رائے شماری میں پارٹی لائن سے ہٹ کر ووٹ ڈالنے والے کا پتہ چلانا بہت ہی مشکل کام ہے۔
خیبر پختوانخوا میں تو پھر بھی پی ٹی آئی کے کچھ امیدوار کامیاب ہوگئے لیکن بلوچستان سے مسلم لیگ ن کا ایک بھی سینیٹر منتخب نہیں ہو سکا۔ وزیر اعلیٰ ثناء اللہ زہری کے خلاف بغاوت کرنے کے بعد سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پرمنتخب ایم پی ایز خود کو آزاد ہی تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بلوچستان سے منتخب بھی آزاد امیدواروں کو ہی کیا ہے۔ پارٹی پالیسی کی قدغن سے آزاد یہ سینیٹرز چیئرمین کے انتخاب کے لئے ووٹ دیتے ہوئے بھی اپنے لئے بارگین کرنے کی بہت اچھی پوزیشن میںہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس گروہ نے مختلف سیاسی جماعتوں سے اپنی سپورٹ کے عوض چیئرمین کی سیٹ کا تقاضا کیا ہے۔ یہ بھی پاکستانی سینیٹ کی تاریخ میں شایدپہلی مرتبہ ہورہا ہوگا کہ سات سینیٹرز پر مشتمل ایک گروپ اپنے ووٹوںکے بدلے چیئرمین کی سیٹ ہی مانگ لے ۔اسی طرح کے آزاد منش سینیٹر فاٹا سے بھی منتخب ہوئے ہیں، فاٹا کے آٹھ سینیٹرز نے بھی اپنے ووٹ کے بدلے ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ اپنے ایک گروپ ممبر کے لئے مانگ لیا ہے۔ فاٹا سے سینیٹ کی چار نشستوں پر منتخب ہونے والے سینیٹرز کا قصہ بھی بہت دلچسپ ہے۔یہ چاروں سینیٹرز پہلے سے طے شدہ فارمولے کے تحت کامیاب ہوئے، اس فارمولے میں فاٹا سے چھ اراکین قومی اسمبلی اپنا ایک پول بنا لیتے ہیں چونکہ سینیٹ کے انتخاب میں فاٹا سے منتخب ہونے کے لئے ایسے رولز بنائے گئے ہیں کہ چھ افراد پر مشتمل یہ پول ہر تین سال بعد چار سینیٹر منتخب کرنے کی پوزیشن میں آجاتا ہے۔ یعنی ایک بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کے بعد چھ ایم این ایز پر مشتمل یہ پول اپنے پانچ سالہ دور میں آٹھ سینیٹرز منتخب کرتا ہے اور اطلاعات کے مطابق ایک ایک سیٹ کے لئے کئی کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں۔
اس بار سینیٹ انتخاب میں محض پیسے کی ریل پیل کے سبب ہی قواعد و ضوابط کی دھجیاں نہیں اڑائی گئیں بلکہ امیدواروں کو ٹکٹ دیتے وقت بھی ایسے فیصلے کئے گئے جو ادارے کی روح کے منافی تھے۔ انیس سوتہتر کے آئین میں جب سینیٹ کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا تو اس کا مقصد یہ تھاکہ پنجاب کوآبادی کے تناسب سے دی جانے والی قومی اسمبلی کی نشستیں باقی صوبوں کی نسبت بہت زیادہ تھیں۔ اس لئے آئین تشکیل دینے والوں نے سینیٹ کے ادارے کے قیام کا فیصلہ کیا،جس میں تمام وفاقی اکائیوں کو برابر کی نمائندگی دی گئی تاکہ قومی اسمبلی میں پنجاب کو حاصل عددی برتری کو کسی صورت دوسرے صوبوں کے حقوق سلب کرنے کے لئے استعمال نہ کیا جاسکے۔ لیکن اگر سینیٹ کے انتخاب میں لاہورکا رہائشی خیبر پختونخوا سے سینیٹر منتخب ہو جاتا ہے تو اس سے سینیٹ کے ادارے کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ اس بار بھی بہت سی سیاسی جماعتوں نے بہت سے ایسے افراد کو ٹکٹ دیئے جو کہ رہنے والے تو کسی اور صوبے کے تھے لیکن آخری وقت پر کسی اور صوبے سے سینیٹ کے امیدوار بن گئے۔ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لئے ایسی قانون سازی کی ضرورت ہے جس کی مدد سے ایسے امیدواروں کا راستہ روکا جا سکے۔ میرے نزدیک اس کا سب سے بہتر حل یہ ہے کہ سینیٹ کا رکن بننے سے قبل امیدوار کو کم از کم دس سال تک اس صوبے میں رہائش پذیر ہونا چاہئے جس سے وہ الیکشن لڑنے کا خواہاں ہے ۔
چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے دوران بھی یقیناََ کچھ لینے اور دینے کی سیاست جاری رہے گی، کوئی پیسے کے عوض سودا کرے گا تو کوئی عہدے کے بدلے۔۔۔ اور پاکستان میں جمہوریت ایک بار پھر امراء کی میراث نظر آئے گی۔
کالم پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998


مکمل خبر پڑھیں