فوج اور جمہوریت

June 10, 2018
 

آئندہ عام انتخابات بروقت ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے خدشات اور قیاس آرائیوں کے ماحول میں پاک فوج کے ادارہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور کی 5 جون کو اسلام آباد میں ہونے والی پریس کانفرنس نہ صرف بہت زیادہ اہم ہے بلکہ انتہائی خوش آئند ہے ۔ انہوں نے پاک فوج کے ترجمان کی حیثیت سے جمہوری حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے پر قوم کو مبارک باد دی اور کہا کہ ہم ( یعنی فوج ) سے زیادہ کسی کو خوشی نہیں ۔ انہوں نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ انتخابات وقت پر ہونے چاہئیں ۔ پاک فوج کے ترجمان نے 2018 ء کو ملک میں تبدیلی کا سال قرار دیا اور کہا کہ مختلف جماعتیں انتخابات میں ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہی ہیں تاہم فوج کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہئے ۔
اگرچہ میجر جنرل آصف غفور نے سوشل میڈیا پر پاکستان اور سیکورٹی اداروں کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے حوالے سے پریس کانفرنس کی تھی لیکن صحافیوں کے دیگر سوالوں کے جوابات بھی دیئے ، جن کی وجہ سے نہ صرف قیا س آرائیوں کا سلسلہ کم ہوا بلکہ عام انتخابات بروقت نہ ہونے کے خدشات بھی بہت حد تک ختم ہو جانے چاہئیں ۔ انتخابات بروقت ہونے کے حوالے سے پاک فوج کے ترجمان نے جس خواہش کا اظہار کیا ہے ، وہی دیگر اداروں کی خواہش بھی ہونی چاہئے کیونکہ عام انتخابات کا انعقاد اسمبلی کے تحلیل ہونے کے 60 دنوں کے اندر ہونا آئین کا تقاضا ہے ۔ تمام اداروں کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ 25 جولائی 2018 ء کو پر امن طریقے سے شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہو ۔ پاکستان تاریخ کا ایک اور سنگ میل عبور کرے اور مسلسل تیسری منتخب جمہوری حکومت قائم ہو ۔ کچھ حلقوں کا خیال یہ ہے کہ پاک فوج کے ترجمان کو سیاسی معاملات پر بات نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی صحافیوں کے سیاسی سوالوں کا جواب دینا چاہئے لیکن اس طرح صرف ان ملکوں میں ہوتا ہے ، جہاں سیاسی استحکام ہے اور کسی قسم کی سیاسی غیر یقینی نہیں ہوتی ہے ۔ ہر ادارہ اپنا کام کر رہا ہوتا ہے اور آئین و قانون اپنا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔ پاکستان تیسری دنیا کے ان ملکوں میں شامل ہے ، جہاں نہ صرف فوجی حکومتیں رہی ہیں بلکہ سیاسی قوتیں بھی خود فوج کو سیاست میں گھسیٹتی رہی ہیں ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں آج بھی سیاسی قوتیں فوج کی طرف دیکھتی ہیں اور کسی نہ کسی طرح فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ گزشتہ جمہوری حکومت کے پانچ سالوں کے دوران کئی مرتبہ ایسی صورت حال پیدا ہوئی ، جب سیاسی قوتیں اپنے معاملات طے نہیں کر سکیں اور انہوں نے فوج کو ملوث کیا خصوصاََپاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے اسلام آباد کے دھرنے اور بعد ازاں تحریک لبیک پاکستان کے اسلام آباد میں دھرنے میں ایسی صورت حال پیدا کی گئی لیکن فوج نے سیاسی قوتوں کے کہنے پر جو بھی کیا ، اس سے سیاسی بحران ختم ہوا اور پاکستانی قوم نے یہ مرحلہ بھی دیکھا کہ دوسری جمہوری حکومت نے بھی اپنی آئینی مدت پوری کی اور آج ہم مسلسل تیسری جمہوری حکومت بنانے کے لئے انتخابی عمل سے گزر رہے ہیں ۔
صحافیوں کے سیاسی سوالوں پر پاک فوج کے ترجمان نے جو باتیں کیں ، وہ پاکستان جیسے ملک میں اس لئے بھی ضروری ہیں کہ ان سے خدشات اور بے یقینی کی کیفیت ختم ہوتی ہے ۔ اس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں فوجی حکومتیں بھی رہی ہیں اور پاکستان کے سیاسی داخلی اور خارجی امور میں فوج کا عمل دخل بھی رہا ہے ۔ اس طرح کے سوالات اور جوابات دراصل اس مباحثے کا حصہ ہیں ، جو قومی سطح پر چل رہا ہوتا ہے ۔ سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ فوج کی طرف سے جمہوری عمل کو جاری و ساری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا جا رہا ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم بہتری کی طرف گامزن ہیں ۔
اچھی بات یہ ہے کہ ادارے اپنی آئینی حدود میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ آئین میں اداروں کے کردار کو مزید واضح کرنے اور اس حوالے سے قومی اتفاق رائے کے ساتھ قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس وقت اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ جمہوریت کو فوج سے خطرہ ہے بلکہ اصل مسئلہ جمہوری حکومتوں کی کارکردگی اور جمہوری حکمرانوں پر کرپشن کے مختلف الزامات کا ہے ، جن کی وجہ سے جمہوریت اور جمہوری عمل کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں ۔ لوگ یہ سوالات کرتے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات کے بعد بھی کیا یہی صورت حال رہے گی ۔ کچھ لوگ ان سوالات کے ساتھ اس مفروضے کو بھی جوڑ دیتے ہیں کہ فوج اس صورت حال کو برداشت نہیں کرے گی ۔ ماضی میں بھی احتساب کے نام پر فوجی حکومتیں قائم ہوئیں ۔ سوالات اور مفروضے پھر قیاس آرائیاں اور خدشات پیدا کرتے ہیں لیکن پاک فوج کی طرف سے بار بار یہ واضح کیا گیا ہے کہ وہ جمہوری عمل کی حامی ہے اور اس میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گی ۔ اس یقین دہانی کے بعد پاکستان کے عوام پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ووٹ اور اپنے شعور کے ذریعہ نہ صرف احتساب کریں بلکہ تبدیلی بھی لائیں ۔ نئی منتخب جمہوری حکومت پر بھی لازمی ہو گا کہ وہ پہلے والی صورت حال پیدا نہ کرے ، جس سے لوگوں میں جمہوریت سے مایوسی پیدا ہو اور جمہوری حکمرانوں کے خلاف جذبات جنم لیں ۔ اب سیاسی اور جمہوری قوتوں کو گنجائش اور موقع میسر ہے کہ وہ جمہوریت پر لوگوں کے یقین کو مستحکم کریں ۔ لوگوں نے جمہوریت کی خاطر بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور وہ ملک میں جمہوری نظام ہی چاہتے ہیں ۔ لوگوں کی جمہوریت سے مایوسی کا اصل سبب خراب حکمرانی اور مبینہ کرپشن ہے ۔ اگر ان دو معاملات پر قابو پا لیا جائے تو پھر نہ بے یقینی ہو گی نہ جمہوری حکومت کے بارے میں خدشات پیدا ہوں گے اور نہ ہی پاک فوج کے ترجمان سے پریس کانفرنسوں میں اس طرح کے سوالات ہوں گے ۔ آج اگر پاک فوج جمہوری عمل کے تسلسل کی حامی ہے تو اس سے بہتر اور بات کیا ہو سکتی ہے ۔ احتساب کے لئے عوام کو بھی فوج کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ جمہوری احتساب کے نظام پر اپنا یقین پختہ کرنا چاہئے ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں