معاشرے کا نباض مشتاق احمد یوسفی

June 28, 2018
 

کہا جاتا ہے جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے ربّ کو جانا۔ اسی سے غور و فکر کرنے اور اشیا کی ماہیت کو جاننے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ آج دنیا میں جتنے بڑے ادیب اور فنکار ہیں یہ بھی اپنے اپنے شعبے کے سائنس دان ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ ظاہری مشاہدے کو باطنی کیفیات سے جوڑ کر نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ علم کی دنیا میں کیفیات اور احساسات کے علم کو نفسیات کہا جاتا ہے۔ مشتاق احمد یوسفی کی تحریریں پڑھیں تو وہ ایک بڑے نفسیات دان کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ معاشرے کے ایسے نباض جس پر اس کی صحت کی ہر اچھائی برائی واضح ہے وہ صرف صورت حال سے باخبر نہیں کرتے بلکہ کبھی کاٹ دار جملے کے طنز کے تیر سے اور کبھی گدگدی کرنے والی میٹھی بات کے مزاح سے توجہ کا دَر کھٹکھٹاتے ہیں۔ جہاں ایک صفحے پر بکھرے بہت سارے جملے آپ کو قہقہے بخشتے ہیں وہیں کوئی ایک جملہ واقعات کی تلخی کا احساس دلا کر دل کو درد سے لبریز بھی کر دیتا ہے۔ خدا نے انہیں خاص نظر، خاص دل اور خاص وژن عطا کر کے بھیجا۔ انہوں نے عمر بھر کوشش کی کہ لوگوں کو اُس درجے تک لے جا کر رفعت کا احساس دلائیں جس پر وہ خود فائز تھے۔
ارسطو نے کہا تھا سب لوگ برابر نہیں ہوتے۔ غور کیا جائے تو یہ بات سچ معلوم ہوتی ہے۔ مشیت ِ ایزدی کے مطابق کائنات کا نظام چلانے کے لئے مختلف لوگوںکو مختلف صلاحیتیں دے کر بھیجا جاتا ہے۔ علم، ادب اور فن سے جڑے لوگ خاص ہوتے ہیں۔ کچھ لوگوں کوقدرت ایسا ہنر عطاکر کے بھیجتی ہے جو خوشبو کی طرح ہر جگہ پہنچتاہے اور ماحول کو معطر کر دیتا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک بہت بڑا کرم ہے۔ سیکھ کر لکھنا، کسی سے متاثر ہو کر کسی صنف میں طبع آزمائی کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔ ایسا کرنے والے کی شہرت اور تگ و دو صرف کسی کتاب کی پیشانی پر لکھے نام تک محدود ہوتی ہے۔ جس سے اس کی ذاتی تسکین تو ہوسکتی ہے مگر لوگوںکی نظروں سے وہ اوجھل ہی رہتاہے۔ تاہم وہ ساری عمر اپنی کتابوں کے تحفے دے کر مہنگے ہوٹلوں میں نگر نگر تقاریب منعقد کرکے چند گھڑیوں کے لئے میڈیا کی زینت بن جاتا ہے، مگر تاریخ کے ورق اسے قبول نہیں کرتے۔ تاریخ صرف انہیں اپنے عجائب خانے میں داخلے کی اجازت دیتی ہے جو صلاحیتوں کے بہترین ترجمان ہوتے ہیں۔ ہر میدان اور طبقۂ فکر کے عظیم لوگوں کو قدرت کی طرف سے مخصوص صلاحیتیں ودیعت کی جاتی ہیں۔ موافق ماحول اور فرد کی ذاتی کاوش سے ان میں مزید نکھار پیدا ہوتاہے۔ شاعر، ادیب اور فنکار پیدا ہوتا ہے بنایا نہیں جاتا۔
مشتاق احمد یوسفی کی شخصیت میںظاہری تعلیم کے علاوہ تہذیبی رچاؤ بھی شامل تھا، ایسے میں قدرت نے انہیں مشاہدے کی بے مثال قوت، گہرائی تک چیزوں کو محسوس کرنے اور انہیں جداگانہ اندازمیں بیان کرنے کی صفت سے سرفراز کیا۔ ظاہری اور باطنی خوبیوں نے مل کر انہیں ایک ایسا شاہکار بنا دیاجسے دیکھنے والی آنکھ سراہے بغیر نہیں رہ سکتی۔ کئی بار تحریر اور شخصیت میں فرق ہوتا ہے۔ مشتاق احمد یوسفی کا تن من مزاح کی چاشنی اور خوبصورتی سے مزیّن تھا۔ مزاح ذہانت سے گہری جڑت رکھتاہے۔ مزاح لکھنے والا فطین اور لطافت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوتا ہے۔ ایک کندذہن یا اوسط درجے کی ذہانت رکھنے والا پھکڑ مذاق اور جملے بازی کرکے وقتی طور پر ہنسا سکتا ہے مگر روح کی بشاشت، دل کی آسودگی اور فکر کے در نہیں کھول سکتا۔ مشتاق احمد یوسفی نے اپنی تحریروں میں معاشرے کی تلخ حقیقتوں، بے انصافیوں، طبقاتی تفریق اور سماج میں پھیلے مختلف ناسوروں کے علاوہ ہماری چھوٹی چھوٹی حرکتوں، خواہشوں اور ردِعمل کے پسِ پشت کارفرما جذبوں کو دلنشیں انداز میں بیان ہی نہیں کیا بلکہ ان کی حقیقت عیاں کی ہے۔ ان کا فقرہ صرف ہنساتا نہیں جگاتا بھی ہے۔ سوچنے پر مجبور بھی کرتا ہے اورمعاشرے کی اصلاح کی طرف راغب بھی کرتا ہے۔ وہ جتنا ادب تخلیق کر کے گئے ہیںوہ کئی نسلوں کی حسِ مزاح کو نکھارنے اور زندگی کو جگمگانے کے لئےکافی ہے۔
کوئی دس سال قبل کی بات ہے، میں ٹیکسٹ بک بورڈ میں فرائض انجام دے رہی تھی، ایک دن اپنے کمرے میں بیٹھی روٹین کا کام کررہی تھی کہ موبائل پر ایک انجان نمبر گنگنایا، بے دھیانی میں فون اٹھا کر ہیلو کہا تو فون کرنے والے نے بڑی شائستگی اور دھیمے لہجے میں کہا’میں مشتاق احمد یوسفی بول رہا ہوں اور میں نے آپ کا نمبر ڈاکٹر فاطمہ حسن سے لیاہے۔ ‘یقین کیجیے اس لہجے کے سحر اور شخصیت کا ایسا رعب کہ میں غیر ارادی طور پر ان کے احترام میں کھڑی ہوگئی۔ وہ جیسے جیسے مجھ سے باتیں کر رہے تھے مجھ پر حیرتیں منکشف ہو رہی تھیں۔ اصل میںان دنوں میں ایک ادبی میگزین نکالتی تھی۔ لاہور میں مشتاق احمد یوسفی کے ساتھ ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ مجھے پہلی بار ان کے سامنے بیٹھ کر انہیں سننے کا موقع ملا۔ ان کی تحریروں سے محبت تو پہلے ہی تھی، ان کی زبانی سن کر زیادہ اچھا لگا۔ انہیں دوبارہ پڑھنا شروع کیا اور پھر ایک مضمون لکھا جو میگزین میں شائع کر دیا۔ یہ میری ذاتی خوشی تھی۔ کوئی کریڈٹ لینا مقصود نہیں تھا۔ ۔ پھر میرا خیال تھا اتنا بڑا ادیب میری عام سی تحریر کو کیا وقعت دے گا۔ یہ سوچ کر ان کا پتہ معلوم کرنے کی کوشش کی نہ پوسٹ کیا۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن نے وہ مضمون پڑھاتو یوسفی صاحب سے نہ صرف تذکرہ کیا بلکہ میگزین بھی انہیں بھیج دیا۔ میرے عام سے لفظوں کی جس طرح یوسفی صاحب نے پذیرائی کی، اسے یاد کر کے آج بھی عجیب سی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ لوگوں کو ادب، فن وثقافت کے ستاروں سے ملانے کا کریڈٹ احمد شاہ کو جاتا ہے۔ انہوں نے آرٹس کونسل کراچی میں ایسے ہیروں تک رسائی ممکن بنائی جنہیں دیکھنے اور ملنے کا ہر شخص تمنائی ہوتا ہے۔ کئی سالوں سے ہر برس مجھے بھی احمد شاہ کی’’ اردو کانفرنس‘‘ میںمادری زبانوںکے سیشن کے لئے کراچی جانے کا موقع عنایت ہوا تویوسفی صاحب سے ضرور ملاقات ہوئی۔ کھانے کے دوران ان کی خوبصورت مجلس میں بیٹھنے کا موقع ملا۔ ان کے ہر عمل میں ذہانت اور مزاح تھا۔ حتیٰ کی ان کی ہنسی بھی معنی خیزتھی کہ کئی بار کچھ باتوں کا جواب ان کی مسکراہٹ میں پوشیدہ ہوتا تھا۔ صرف پچھلے سال ہونے والی کانفرنس میں وہ تشریف نہ لاسکے۔ میں، ڈاکٹر فاطمہ حسن اور ڈاکٹریوسف خشک کے ہمراہ یوسفی صاحب سےملنے ان کی رہائش گاہ حاضر ہوئی۔ وہ بڑی محبت سے ملے۔ اگرچہ وہ بہت کمزور تھے مگر کافی دیر ہمارے پاس بیٹھے رہے۔ باتیں کرتے اور مسکراتے رہے۔ اب بھی یاداشت میں ان کی مسکراہٹ کی مہک محسوس ہوتی ہے۔ ان کی یاد زندہ اور تازہ ہے۔ ویسے بھی جو سنہری حروف کی دولت چھوڑ کر جائیں وہ بھلائے نہیں جاسکتے حکومت کراچی کی کسی بڑی سڑک، ہال اور لائبریری کو ان کے نام سے منسوب کر دے تو اس سڑک، ہال اور لائبریری کے لئے باعثِ فخر ہو گا ، جب تک لفظوں سے ربط باقی ہے وہ دلوں میں خوشگوار یاد بن کر موجود رہیں گے۔ ہمارے لئے یہی اعزاز کی بات ہے کہ ہم نے انہیں دیکھا، ان سے بات کی اور ان کو سنا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں