کتنے آسان ہیں جال پھیلانے

July 01, 2018
 

کراچی سے ایک دوست کا فون آیا وہ مجھ سے پوچھنے لگے آپ کے صوبہ کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو کس نے مشورہ دیا تھا کہ وہ انتخابی مہم جوئی کا آغاز کراچی سے کریں۔ سابق صوبے دار صاحب بہادر کراچی میں خواص کی حیثیت سے آئے، مزار قائد پر حاضری بھی رسمی سی لگی۔ کاش وہ عوام میں آتے اور دعوے کرتے۔ انہوں نے کراچی کے عوام کو مکمل طور پر مایوس کیا۔ ان کو عبوری حکومت کے لوگوں نے یرغمال بنا رکھا تھا۔ جب وہ گورنر سندھ کے بھائی کے گھر گئے تو گھر کے باہر مسلم لیگی کارکنوں کی نعرہ بازی نے خادم اعلیٰ کی پوزیشن خاصی خراب سی کردی۔ کراچی آکر ان کو بھی احساس ہوگیا ہوگا کہ ان کا اس وقت انتخابی دورہ مناسب نہیں ہے۔ پھرایک بڑے ہوٹل میں گانے کا مقابلہ بھی لوگوں کو اچھا نہیں لگا۔ سندھ بھر میں ان کا بیانیہ اچھا تاثر نہ چھوڑ سکا۔ میں شہباز شریف کی صفائی تو پیش نہیں کرسکتا تھا مگر ان کا یہ فیصلہ ان کے بھائی سابق وزیر اعظم نواز شریف کے حوالہ سے بھی قابل تعریف نہیں۔ انہوں نے جلد بازی میں سب کچھ کیا۔ اس سے مسلم لیگ نواز کراچی بھی خوش نہیں لگی۔
اس وقت ملک بھر میں انتخابات کے حوالہ سے خاصا شور و غل ہے۔ ڈھیر ساری سیاسی جماعتوں کے ہزاروں رکن ان انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ شہروں میں تو تحریک انصاف، نواز لیگ اور کسی کسی جگہ پیپلز پارٹی کا شور سنائی دیتا ہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کے دعوے بہت ہیں۔ سب سے زیادہ حیرانگی پنجاب میں پیپلزپارٹی کے دعوئوں پر ہوتی ہے ان کو اپنی عوامی حیثیت اور اہمیت کا اندازہ ہے۔ پنجاب میں ان کا ایک ووٹ بینک تھا اور ان کے کچھ جیالے اب بھی امید سے ہیں۔ مگر زمینی حقائق بالکل مختلف ہیں۔ پنجاب میں برادری سسٹم اور تھانہ گروپ بہت ہی مضبوط ہے۔ اگر پنجاب کے دیہی علاقوں میں جانے کا اتفاق ہو تودیہاتوں میں پارٹی کی پہچان زیادہ نظر نہیں آتی۔ ہاں برادری کی بنیاد پر تقسیم ضرور نظر آتی ہے۔ اس بار ایک تبدیلی ضرور ہے، جو لوگ کچھ پڑھے لکھے ہیں اور ملازمت کر رہے ہیں ان کی کوئی نہ کوئی پسند ضرور ہے۔ اور اس حوالہ سے مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف میں مقابلہ نظر آتا ہے۔ دوسرے ہمارے ہاں دوسری دفعہ قابض جماعت بہت کم اپنی حیثیت برقرار رکھتی ہے اور اس ہی وجہ سے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی سیٹیں پہلے کے مقابلے میں کچھ کم ہوں گی۔
اس دفعہ کافی مذہبی گروپ جماعتی حیثیت میں انتخابات میں نظر آ رہے ہیں ان میں ایم ایم اے اور تحریک لبیک کا زیادہ شور شرابہ ہے۔ ایم ایم اے کی مذہبی جماعتوں کا مسلک کے حوالے سے کافی اختلاف رائے ہے مگر اس کے باوجود ایم ایم اے سابق صوبہ سرحد میں کافی حرکت میں نظر آتی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق ان کا مقابلہ صرف تحریک انصاف ہے مگر ایم ایم اے کا منشور ابھی تک منظر عام پر نہیں آیااور اس ہی وجہ سے سوشل میڈیا پر ان کو بالکل اہمیت نہیں مل رہی۔ ایم ایم اے میں شامل جماعت اسلامی کو اندازہ ہو چکا تھا کہ ان کی جماعت عوام میں اپنی حیثیت کھو چکی ہے اور ذیلی تنظیمیں بھی اب قوت کھو رہی ہیںاور اس ہی وجہ سے جماعت اسلامی نے ایم ایم اے میں شمولیت اختیار کی۔ جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق جو ایک زمانہ میں صوبہ پختونخوا کے وزیر خزانہ تھے۔ مگر اس کے باوجود وہ صوبےکے مالی معاملات کو شفاف نہ بنا سکے۔ ان کا ذاتی کردار کتنا ہی شفاف کیوں نہ ہو مگر وہ صرف سود کے معاملہ پر بھی کوئی قانون سازی نہ کروا سکے اور نہ ہی معیشت میں بہتری لا سکے۔
اس وقت تک کسی بھی سیاسی جماعت کا منشور منظر عام پر نہیں آیا اور تو اور ابھی تک ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملات پر سیاسی جماعتیں مشکلات کا شکار ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کو حالات کی نزاکت کا اندازہ اب ہو رہا ہے، وہ اب بھی عام آدمی کی دسترس سے باہر ہیں۔ ان کی جماعت کے لوگ اب یہ انتخابی جنگ ذاتی حیثیت میں لڑتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کے لئے سابق چیف جسٹس چودھری افتخار بھی کوئی خاص کردار ادا نہ کرسکے۔ سابق چیف جسٹس نے اپنی پارٹی کی طرف سے کپتان پر مقدمہ بھی کیا،مگر وہ قانونی جنگ ابتدا میں ہی ہار گئے۔ اس وقت ملک بھر میں اخلاقی اور اصولی معاملات پر نیت کا بحران نظر آ رہا ہے۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی تو نئی بات نہیں مگر عدالتوں اور اداروں پر الزام تراشی جمہوریت کے دعوے داروں کی قلعی کھول دیتی ہے۔ ایک طرف جمہوریت جمہوریت کا شور ہے اور اس کے لئے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ مستانہ بلند ہوا مگر ووٹ کی طاقت ہی جمہوریت کو کمزور کرتی نظر آ رہی ہے اور جس طریقہ سے سیاسی پارٹیوں میں ٹکٹوں کی تقسیم ہوئی ہے وہ بالکل جمہوریت پسند کردار نہیں ہے۔
اس انتخابی مہم جوئی کے درمیان پاکستان کی اعلیٰ عدالت بڑے اہم فیصلے کرتی نظر آرہی ہے۔ اصل میں یہ فیصلےسیاسی حکومتوں کو کرنے تھے جو صرف مفادات اور مشکلات کی وجہ سے بروقت نہ ہوسکے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے پانی کے بحران کے حوالہ سے جو موقف اختیار کیا ہے وہ پاکستان کے حوالے سے بہت بروقت اور ضروری ہے۔ کالاباغ ڈیم کو ہماری سیاسی جماعتوں نے متنازعہ بنا رکھا ہے اور کوئی بھی پاکستان کے مفاد میں بات کرنے کو تیار نہیں۔ اب بھاشا ڈیم کی بات بھی ہو رہی ہے۔ کالا باغ ڈیم کو تو جمہوریت لے ڈوبی ایسے میں سپریم کورٹ کی رہنمائی غنیمت ہے۔
راہ دکھلائو رات اندھیری ہے
شمع بن جائو رات اندھیری ہے
اس وقت انتخابی شور کی وجہ سے معاشی معاملات پر زیادہ توجہ نہیں ہے۔ ملک کی معاشی حالت جتنی ابتر ہے اس کا اندازہ ہمارے سیاسی قائدین کو بالکل نہیں ہے۔ ایک طرف آئی ایم ایف کا دبائو ہے دوسری طرف درآمدی اشیا پر کوئی قانون لاگو نہیں۔ سرکاری اخراجات پر کنٹرول نہیں اور ماضی میں ہماری سیاسی حکومتوں نے معیشت پر کوئی منصوبہ بندی بھی نہیں کی۔
اب الیکشن میں گنتی کے دن نظر آ رہے ہیں اور عبوری دور کے حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ انتخابات وقت پر ہوں گے اور شفاف ہوں گے۔ دوسری طرف حالات ان دعوئوں کے برعکس نظر آ رہے ہیں تحریک انصاف والوں کی خواہش ہے کہ جلد از جلد انتخابات ہو جائیں دیگر جماعتیں منتشر خیال ہیں ۔ پھر سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ان انتخابات کے بعد جمہوریت کے دعوے دار ہی اپنا موقف نہ بدل لیں اور جمہوریت کا نظریہ ووٹ کو عزت دو پر قربان ہی نہ ہو جائے۔ مجھے ان انتخابات کے نتیجہ میں ملکی معاملات مزید خراب ہوتے نظر آ تے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ عدالتوں کو ہم مانتے نہیں۔ اصول کی بات ماننا کمزوری ہے۔ اخلاقی دیوالیہ پن پورے معاشرے میں عروج پر ہے۔ پارٹی منشور دکھاوے کا سودا ہوں گے۔ اگرچہ مایوسی کفر ہے مگر سیاسی افراتفری ملک کے مستقبل کو دائو پر لگا رہی ہے۔ دعا پر اعتبار ہے۔ مگر دعا کون مانگے۔
کتنا مشکل ہے منزلوں کا حصول
کتنے آسان ہیں جال پھیلانے


مکمل خبر پڑھیں