Muhammad Sajid Khan - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
جمعہ 27 رمضان المبارک 1438ھ 23 جون 2017ء
محمد ساجد خان
حرفیہ
June 17, 2017
اک دعا ،گورے شہر میں کالی بلی نہ ہو!

دنیا میں ترقی ہو رہی ہے۔ اس ترقی کی دوڑ میں پاکستان بھی کسی سے کم نہیں۔ ہمارے نیتا ترقی کے معاملہ پر بہت ہی بھاشن دیتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں ترقی اور توانائی کا مقابلہ جمہوریت کے ساتھ ہے۔ اگر جمہوریت پر اعتبار کرنا اور اسے لاگو کرنا ہے تو ترقی کے معاملات کو نظر انداز کرنا ہوگا۔ پاکستان ایک عرصہ سے بجلی کے بحران سے دوچار ہے۔...
June 10, 2017
معصوم اور شریف لوگوں کی باتیں

سوال تھا سیدھی اور سچی بات میں کیا فرق ہے۔ قومی اسمبلی کا بجٹ سیشن چل رہا تھا۔ حسب روایت قائد حزب اختلاف خورشید شاہ بجٹ کو نظر انداز کرکے ہماری ہر دل عزیز مسلم لیگ نواز کی تعریف اور تنقید میں مصروف تھے۔ خواجہ آصف کو نہ جانے کیا سوجھی انہوں نے مداخلت کی۔ ایوان میں شور میں اضافہ ہوگیا۔ بے چارے اسپیکر بے بسی کے عالم میں معزز ایوان سے...
June 03, 2017
یہ خلق خدا صرف دہائی کے لئے ہے

راستے تو بہت ہیں مگر منزل کوئی نہیں، ترقی کا شور گلی گلی ضرورہے لوگوں میں،دوستوں میں، اداروں میں مقابلہ بہت ہے بلکہ مقابلہ ہو بھی رہا ہے جبر اور ضبط کی بھی جنگ ہمارے ہاں ہی لڑی جا رہی ہے ۔پرانے بزرگ کیا کرتے تھے مایوسی کفر ہے۔آج کل اس کفر پر سب کو یقین ہے پہلے زمانہ میں تو کافر پر بھی پیار آ جاتا تھا اب زمانہ بدل چکا ہے کافر قابل...
May 27, 2017
زرد پتوں کا بن اور کامیاب لوگ

ایک اہم سوال ہے خواب آنے اچھے ہیں یا خواب دیکھنے، ہم سب پاکستانیوں کو بہت خواب آتے ہیں بند آنکھوں کے خواب کھلی آنکھوں سے غائب ہو جاتے ہیں۔ مگر جو لوگ خواب دیکھتے ہیں اور بند آنکھوں سے نہیں۔ وہ ہی تعمیر اور تعبیر کا بھی سوچتے ہیں۔ میں ڈاکٹر امجد ثاقب کو نوکر شاہی کے تناظر میں جانتا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے کینیڈا میں ہی ان کی کتاب...
May 20, 2017
سنا ہے کہ بجٹ آرہاہے!

پاکستان کے متوقع بجٹ پر بہت ہی خاموشی اور رازداری سے کام ہو رہا ہے۔ پاکستان کے وزیر خزانہ جناب اسحاق ڈار اب بجٹ کے معاملات میں خاصے تجربہ کار ہو چکے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے ان پر مکمل اعتبار کرتے ہیں۔ پاکستان کا بجٹ ایک عرصہ سے عالمی مالیاتی اداروں کی مشاورت سے بنایا جاتا رہا ہے۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف پاکستان کی معیشت سے خاصے...
April 29, 2017
ایک تیرا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا

چند دن پہلے ٹورنٹو کے ایک دیسی ایف ایم ریڈیو کی طرف سے فون آیا۔ ان کا کہنا تھا 20اپریل کو پاناما کا فیصلہ سنایا جا رہا ہے۔ ٹورنٹو کا یہ ایف ایم ریڈیو اس دن اس وقت ایک لائیو ٹرانسمیشن کرنے جا رہا ہے آپ بھی ہمارے پروگرام کا حصہ بنیں۔ فون کرنے والے دوست سے پرانا تعلق خاطر تھا اور انکار بھی مناسب نہ لگا، مگر ان کے پروگرام کا مقامی وقت...
April 22, 2017
اپنے بیان کی جنہیں پہچان تک نہیں

میں ٹورنٹو سے قریبی شہرملٹن جانے کے لئے ہائی وے پر جارہا تھا کہ مجھے اندازہ ہوا کہ میرے پیچھے پولیس کار ہے۔ میں نے اپنی رفتار برقرار رکھی کچھ ہی وقت کے بعد پولیس کار کی بتیاں جلنے بجھنے لگیں اور یہ اشارہ تھا کہ مجھے رکنا ہوگا۔ میں نے اشارہ دے کر سڑک کے ایک طرف گاڑی لگادی۔ یہاں کے قانون کے مطابق مجھے کار میں ہی رہنا تھا۔ میں شیشے میں...
April 15, 2017
کینیڈا کی ایک شام کا احوال

میرے لئے تمام لوگ ہی اجنبی تھے میرے میزبان اس حلقہ فکر میں لوگوں کو بتا رہے تھے کہ اس سال ماہ رمضان میں خیرات اور صدقات کی رقم پاکستان کے علاوہ اپنے اس شہر میں بھی ضرورت مند لوگوں کو دی جاسکے گی۔ میں گزشتہ ہفتے ہی کینیڈا آیا ہوں اور جہاں جہاں ہمارے پاکستانی تارکین وطن ہیں، وہاں ایک سوال تو ضرور ہی پوچھا جاتا ہے ’’کیا پاکستان بدل...
April 08, 2017
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں…

ایک دفعہ پھر سفر درپیش ہے۔ دوستوں کا خیال ہے پاناما کا فیصلہ میرے سفر پر روانہ ہونے کے بعد ہی آسکتا ہے۔ سفر کے پہلے مرحلہ میں ٹورنٹو (کینیڈا) جانا ہے۔ جن لوگوں نے زاد سفر کا ذمہ اٹھایا ہے۔ وہ سب کتابوں کی دنیا کے باسی ہیں۔ میرا خیال تھا کہ میں راستے میں دبئی قیام کروں اور پھر لندن سے ہوتا ہوا ٹورنٹو جا اتروں مگر میرے ہم سفر کا خیال ہے...
March 18, 2017
بدل رہے ہیں زمانہ کو ہم اشاروں سے

گزشتہ دنوں عوامی اورانقلابی شاعر حبیب جالب کو حسب سابق دوستوں اور مہربانوں نے خوب یاد کیا۔ چند صاحب فکر نوجوانوں نے جالب کی شاعری پر بات کرنے کے لئے محفل سجائی۔ مجھے حیرانی تھی کہ اس زمانہ میں بھی خواص اوراحباب کے علاوہ نوجوان جالب کی شاعری کو قابل توجہ خیال کرتے ہیں۔اکثر نوجوانوں کو جالب کے شعر ازبر تھے اور موجودہ حالات میں جالب...
March 11, 2017
کھلے پڑے تھے ورق، لفظ دیکھتے تھے مجھے

پڑھنے اور لکھنے کے دشت میں معرفت دیوانوں کو ہی ملتی ہے مگر مجھے اپنی منزل ابھی بھی دور ہی لگتی ہے۔ کالم تحریر کرنے والے لوگ درزی اور کھوجی قبائل سے ہوتے ہیں۔ اس لیے کالم نویس بھی خبروں کی کانٹ چھانٹ سے کالم کا لباس تیار کرتا ہے اور کھوجی کی طرح خبر کے وقوع کا جائزہ لے کر کالم میں خانہ پری کرتا ہے۔ میں تو کالم میں انتظار حسین مرحوم کے...
March 04, 2017
ایک میچ جو میں ہار گیا

مجھے خفت بھی اور شرمندگی بھی، میری بیٹی نے ایک عرصہ کے بعد کوئی فرمائش کی تھی۔ کاش میں اس کے لئے منصوبہ بندی کرسکتا اور اس کی فرمائش کوئی ایسی بھی نہ تھی کہ میں پوری نہ کرسکتا۔ زمانے سے شکایت کیسی۔ حالات ہی ایسے ہیں۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میری بیٹی کرکٹ میں بھی دلچسپی رکھتی ہے۔ کچھ وقت بھی ایسا آگیاہے کہ زندگی مصروف ترین ہے۔...
February 25, 2017
کیسے تبدیل ہو رُت، رنگ نیا کیا آئے

پاکستان کے لوگ اس وقت غیریقینی کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ مگر کچھ لوگ ایسے ضرور ہیں جویقین میں زندہ ہیں اور کامیاب ہیں۔ لو گ مجھ سے اکثر پوچھتے ہیں کہ آپ کا رزق کہاں سے آتا ہے؟ تو میرا جواب ہوتا ہے کہ میرے رزق کی ذمہ داری میرے پالن ہار اللہ پر ہے اور مجھے یقین کامل ہے کہ میں رزق سے محروم نہیں ہوسکتا۔ بظاہر میرے ذرائع آمدنی دنیا کی نظر...
February 18, 2017
کیسی مٹی چاٹ گئی ان پتھر کی دیواروں کو

صاحبو کیا وقت آگیا ہے۔ پورا دیس آسیب زدہ لگ رہا ہے۔ خوف اور موت کا شور گلی گلی ہے۔ اب خوف بھی نامعلوم کا ہے۔ ہمارے عہد کے ایک اہم کردار کا نام اب ’’نامعلوم‘‘ ہے۔ لٹنے والا بھی نامعلوم اور شکایت کرنے والا بھی اعلیٰ سرکاری ہرکاروں کو بتانے سے قاصر کہ وہ کیا بتائے کہ جرم ثابت ہوسکے۔ ایک عدالت عوام کی ہے جو تمام مقدمےسنتی ہے۔ مگر...