نعرۂ مستانہ یا پھر شہباز شریف کی کاٹھ کی ہنڈیا

July 10, 2018
 

چلئے سُکھ کا سانس لیں وہ سیاسی عناصرجو ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی گردان سے زِچ تھے اور ووٹ کی عزت کا تمسخر اُڑائے بنا نہیں رہتے۔ اب راستے کا کانٹا صاف ہوا اور پاکستان کی تاریخ کے ’’اہم ترین انتخابات‘‘ کی راہ ہموار ہو چلی ہے۔ تین بار منتخب وزیراعظم نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی مریم نواز سزاوار ٹھہرے اور اُن کے برادرِ خورد شہباز شریف کو فکر دامن گیر ہوئی ہے تو بس اتنی کہ وہ بھی ’’کون بنے گا وزیراعظم‘‘ کی دوڑ میں شاملِ باجہ ہو جائیں،خواہ کچھ بھی کرنا پڑے۔ وہ یہ گُر اپنے بڑے بھائی صاحب سے بہت پہلے سیکھ چکے تھے تو بڑے بھائی کے ماضی کے کئے دھرے سے تائب ہو کر جمہور کی اذاں پر لبیک کہنے سے ’’کون بنے گا وزیراعظم‘‘ کی دوڑ سے باہر ہونے کو تیار کیوں ہوتے۔ ہائے! تاریخ بھی کیسی بے رحم! جو کام محمد خان جونیجو کے ساتھ میاں نواز شریف نے کیا تھا، اُسی کو برادرِ بزرگ کے ساتھ دہرانے میں کیا قباحت اگر وہی منصب جسے حسرت سے تکا کیے کسی طرح اُن کی جھولی میں آن گرے۔ ایسے میں بڑے میاں صاحب اور اُن کی صاحبزادی مزاحمت کا رستہ لیں بھی تو کیسے؟ گو کہ لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے ایسے مقتدرہ مخالف بیانیے کو دو آتشہ کر دیا اور واپسی کا دلوں کو گرمانے والا اعلان بھی۔ لیکن برادرِ خورد کو لاہور کی پریس کانفرنس میں سفید جھنڈی لہراتے دیکھ کر وہ واپسی کی تاریخ کا اعلان کرتے کرتے رُک سے گئے۔ جب برادر خورد نے ہی احتجاج کی سیڑھی کھینچ لی تو بڑے میاں صاحب کس زور پہ عازمِ جہاد ہوتے۔ ویسے بھی عدل و انصاف کا آج کل بہت بول بالا ہے۔ اور میاں صاحب کو کیفرِ کردار تک پہنچانے سے عمران خان کے نئے پاکستان کا آغاز شکرانے کے دو نفل ادا کرنے سے ہو چکا ہے۔ ایسے میں وہ واپس آئیں اور قانون کے آہنی ہاتھ اُنہیں باندھ کر جیل کی کوٹھڑی میں ڈال دیں اور مسلم لیگیوں کو انتخابی چناؤ (Electoral Selection) کی فکر دامن گیر ہو تو وہ اکیلے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا بھاڑ جھونکنے سے رہے۔ سزا انہیں خوب ٹھوک کر دی گئی ہے اور ضمانت کی کنجی اُسی عطار کے لونڈے کے پاس ہے جس کے ہاتھوں یہ دن نصیب ہوئے۔ اب مسلم لیگیوں کو کوئی کیا طعنہ دے جو ہمیشہ سے میٹھا میٹھا ہڑپ اور کڑوا کڑوا تھو کرنے کے عادی ہیں اور اُن کے رول ماڈل بڑے میاں صاحب نہیں، چھوٹے میاں سبحان اللہ ہیں۔ بس وہ ہاؤ ہو کریں گے اور بڑے میاں کی قربانی سے بیلٹ باکس کا پیٹ بھرنے کا جتن۔ ویسے بھی بہت سے جیت کے چکر میں میاں کی کشتی سے اُتر بھاگے ہیں اور جو بچ رہے ہیں انہیں جیپ یا کسی فارورڈ بلاک میں شامل ہونے میں کیا عار ہوگی، جب میاں شہباز خود ن لیگ سے ق نما ہو گئے ہیں۔ ہاں! یاد آیا جب ن کے لاحقے والی لیگ پر نواز کی صدارت ہی غیرقانونی ٹھہری، تو ن کا لاحقہ کیوں برقرار رہ سکے گا اور اسے مسلم لیگ شین بننے میں کیا قباحت ہوگی۔ آخر الیکشن کمیشن نے بھی تو قانون کی حکمرانی کی لاج رکھنی ہے۔
لیکن برا ہو نواز شریف اور مریم نواز کا کہ وہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کی تان پر بضد ہیں۔ انہیں بہت کہا گیا اور سمجھایا گیا اور اعلیٰ سطحی پیغامات بھی دیئے گئے کہ کیوں میاں اپنے آپ کو ایک نئی مصیبت میں مبتلا کرتے ہو۔ اپنی بیگم کی تیمارداری اور دُعائے خیر کیا کرو۔ لیکن میاں صاحب ہیں کہ جمہوریت کے ناطے اپنے پرانے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے پہ تلے ہیں۔ آخر اُنہوں نے وہ اعلان کر دیا جس کی کم ہی لوگوں کو اُمید تھی۔ اب باپ بیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ 13؍ جولائی کو لاہور ایئرپورٹ پر اُتریں گے۔ اُن کا یہ اعلان کسی دھماکے سے کم نہیں۔ پچھلی بار جب انہیں عمر قید ہوئی تو وہ کال کوٹھڑی سے ڈیل کرکے چلے گئے تھے۔ اس بار وہ اپنی لغزشوں کا ازالہ کرنے پہ تُلے ہیں۔ اب اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ کیا اُن کے استقبال کے لیے واقعی لوگ آئیں گے یا پھر کچھ اور ہو جاتا ہے۔ 13؍ جولائی اور اس کے بعد جو حالات بننے ہیں وہ انتخابات کے لیے شاید فیصلہ کُن ہوں۔ میاں صاحب اور اُن کی بیٹی کا جیل جانا مسلم لیگ کو چار چاند لگائے گا یا اس کا بھٹہ بٹھا دے گا؟ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے لیکن یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ مسلم لیگ کی تاریخ میں پہلی بار کسی نے نعرۂ مستانہ لگایا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ بڑے میاں صاحب کا نعرۂ مستانہ کام دکھاتا ہے یا پھر شہباز شریف کی کاٹھ کی ہنڈیا چولہے چڑھتی ہے۔
یہ دن ہم بہت پہلے سے دیکھتے آئے ہیں۔ کیسے کیسے نابغۂ روزگار وزرائے اعظم آئے اور راہِ عدم سدھار گئے۔ خواجہ ناظم الدین سے زیادہ شریف النفس انسان کون ہوگا؟ حسین شہید سہر وردی سے معتبر عالم فاضل اور ملک کے دونوں بازوؤں کو تھام کے رکھنے کی صلاحیت والا اس وقت کوئی تھا؟ ذوالفقار علی بھٹو سے بڑا قوم پرست اور عالمی رہنما کبھی پاکستان میں پیدا ہوا؟ اور بے نظیر بھٹو جیسی جمہوریت پسند اور چاروں صوبوں کی زنجیر کبھی میسر آئے گی؟ سب کے سب منظر سے ہٹا دیئے گئے۔ اور میاں نواز شریف تو اُنہی کے باغ کی مولی تھے۔ مقتدرہ کے بیورو کریٹ اعلیٰ غلام اسحق خان سے تنازع ہوا تو ایک تقریر کر کے لیڈر تو بن گئے لیکن وزارتِ عظمیٰ سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پھر دوسری بار بڑے مینڈیٹ کے ساتھ آئے تو سویلین بالادستی کے زعم میں انہی سے ٹکرا گئے جنہوں نے انہیں بھٹوز کے خلاف کھڑا کیا تھا۔ ہماری بلی ہمیں ہی میاؤں کوئی کیوں سنتا اور کمانڈو صاحب کے ہتھے چڑھ گئے۔ عمر قید ہوئی، گھر بار چھنے اور پھر لمبی جلاوطنی۔ بے نظیر بھٹو کے ساتھ میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیے اور پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ اور جب تیسری بار وزیراعظم بننے کا ریکارڈ قائم ہوا تو واقعی میاں صاحب کچھ بڑا کر گزرنے کی فکر میں تھے۔ یار لوگ تاڑ چکے تھے اور ایسا دھرنا کیا کہ وفاقی حکومت عضو معطل بن کے رہ گئی۔ بھلا ہو پیپلز پارٹی اور دوسری جمہوریت پسند جماعتوں کا اُن سب نے ایکا کیا اور پارلیمنٹ کو ڈھے جانے سے بچایا۔ یہ دس سالہ جمہوری عبور ہی کی دین تھی کہ میاں صاحب چار برس سے اوپر وزارتِ عظمیٰ پہ فائز رہے۔ جونہی انتظامیہ کا منتخب چیف سر اُٹھاتا تو اولے پڑتے۔ اب میاں صاحب جان چکے تھے کہ اصل اختیار اُن کے پاس نہیں۔ لیکن جس عدلیہ کو بحال کرانے میں اُنھوں نے سب سے زیادہ زور لگایا تھا بھلا وہ اپنی انتظامیہ سے خود مختاری پہ کیوں آنچ آنے دیتی۔ کرپشن کرپشن کے شور میں پانامہ کا گولہ آن گرا۔ پھر کیا تھا ’’گو نواز گو‘‘ کی قوالی ایسی چلی کہ اقامہ کی بھول چوک کے ہاتھوں وزارتِ عظمیٰ گئی۔ اور جب میاں صاحب ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا سوال لے کر ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا آزادجمہور کا نعرہ لے کر جی ٹی روڈ پہ روانہ ہوئے تو اُن کی نظریاتی کایا پلٹ ہو گئی۔ مسلم لیگی بھی طوعاً و کرہاً اس اُمید پر پیچھے پیچھے چل پڑے کہ اُن کے نام پہ ووٹ ملنے کی اُمید روشن ہو چلی تھی۔ بھلا ووٹ ہمارے ملک میں کب صحیح پڑنے دیا گیا ہے؟ ایک بار 1970ء میں آزادانہ و منصفانہ انتخابات کروانے کا تلخ تجربہ ہو چکا تھا، اُسے کوئی کیوں دہرانے دے گا؟
میاں نواز شریف اور دختر نیک بخت کے میدان سے باہر ہوتے ہی، آزادانہ انتخابات کی راہ ہموار ہو چلی ہے۔ اب اصطبل میں تین گھوڑے ہیں جو ’’کون بنے گا وزیراعظم‘‘ کی دوڑ میں شامل ہیں، بھلے ووٹ کی کیسی ہی بے توقیری ہو۔ اب مقابلہ عمران خان، شہباز شریف اور آصف علی زرداری میں ہے اور یہ سب اقتدار کی درگاہ پر کاسۂ گدائی لیے کھڑے ہیں۔ جو بھی آیا گلشن کے کاروبار میں کوئی فرق پڑنے والا نہیں۔ چلیے سُکھ کا سانس لیں وہ جو ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی گردان سے زِچ تھے، اور ووٹ کی عزت کا تمسخر اُڑائے بنا نہیں رہتے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں