| |
Home Page
بدھ 30 ذیقعدہ 1438ھ 23 اگست 2017ء
امتیاز عالم
August 13, 2017
ستر برس کی دُہائی اور نواز شریف کی واپسی

جی ہاں! کلیجہ منہ کو آتا ہے، جب پاکستان کی ستر سالہ تاریخ کے گھومتے چکر پہ نظر ڈالیں تو۔ قائداعظم محمد علی جناح نے سوچا کیا تھا اور تاریخ کے سنگدل ہاتھوں سے مملکتِ خداداد کے ساتھ بیتی کیا۔ جناح تو آئین پرست، جمہوری اور سیکولر انسان تھے۔ اُن کا گاندھی جی سے اختلاف ہی یہ تھا کہ آپ بہت زیادہ ہندو مہاتما بن رہے ہیں جو قومی آزادی کو...
July 30, 2017
آخر کب دیکھیں گے؟ جس کا کہ وعدہ تھا

ستر سال بیت چلے، بس یہی سرکس دیکھتے دیکھتے۔ جو منظر ایک اور وزیراعظم کی بے توقیر روانگی کا گزشتہ روز نظر آیا، یہ کتنی ہی بار دیکھ چکے۔ اب اس سے اتنی دلخراش اُکتاہٹ ہونے لگی ہے کہ سوچتا ہوں کہ ’’آخر ہمیں وزیراعظم چاہیے کیوں؟‘‘ منتخب کریں عوام، فارغ کرے کوئی اور جس کا رائے دہندگان کی منشاؤں سے کوئی واسطہ ہے نہ اُن کے فیصلے یا...
July 23, 2017
شالہ "بیچارہ" کوئی وزیراعظم نہ تھیوے "ہو"

جی ہاں! احتساب اور کڑا احتساب۔ قوم و ملک اور عوام کی خون پسینے کی کمائی کی لوٹ مار کی ایک ایک پائی کا حساب اور ہر زخم کا حساب۔ ہم خاک نشینوں اور قلم کاروں کو کیا ڈر اور اُن محنت کشوں کو کیا خوف جن کے پاس لٹنے کے لیے دو ہاتھوں کی مشقت کے سوا بچا کیا ہے۔ کاش احتساب ہوتا، اس ملک کی تمام لٹیری اشرافیہ، غاصب آمروں اور کالے دھن سے بنے محلات...
July 16, 2017
وہ نہیں تو پھر کوئی نہیں

وزیر اعظم کے گرد جتنا گھیرا تنگ کیا جارہا ہے اتنا ہی وہ تنگ آمد بجنگ آمد پہ مائل ہوتے دکھائی پڑتے ہیں۔ انہوںنے آخر تک لڑنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تئیں وہ سمجھتے ہیں کہ انہوںنے قومی خزانے میں کوئی خیانت کی نہ اپنے عہدوں سے ناجائز فائدہ اٹھا کر کسی طرح کی کرپشن میں ملوث ہوئے۔ ہر طرف سے گھرے نواز شریف کو اگر کچھ دکھائی پڑ رہا...
July 09, 2017
پانچ جولائی کا شب خون کب تھمے گا؟

پھر پانچ جولائی آئی اور دل کے زخم تازہ ہو گئے اور تلخ یادوں نے آن گھیرا کہ کہیں تو جا کے رُکے گا سفینہ غمِ دل۔قومی اتحاد اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مابین سمجھوتہ ہو چکا تھا۔ حفیظ پیرزادہ نے بھٹو صاحب کو سیاسی بحران حل ہونے پر مبارکباد دی، لیکن بھٹو کچھ اور سوچ رہے تھے کہ دیر ہو چکی۔ وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ اور ٹیلی فون پر...
July 02, 2017
خارجہ پالیسی کے چار ستون

اچھا لگا کہ دفتر خارجہ کی قسمت جاگی اور وہاں وزیراعظم کی زیرِ صدارت ایک بہت ہی اہم اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اور بھی مناسب دکھائی دیا کہ بدلتی عالمی صف بندیوں اور اُن سے اُبھرتے نئے چیلنجوں کا مدبرانہ سامنا کرنے کے لئے پاکستان کی سول قیادت دانشمندانہ احتیاط سے کام لے رہی ہے۔ اس کے باوجود کہ وزیراعظم پر پانامہ کی آفت کے سائے گہرے ہوتے...
June 25, 2017
جمعۃ الوداع پہ بہنے والے خون سےکوئی فرق پڑ سکے گا؟

رمضان المبارک میں ایسی قیامت کبھی ٹوٹ پڑتی دیکھی۔ پارا چنار میں پھر خون کی ہولی کھیلی گئی، کوئٹہ میں پولیس اہلکاروں کو پھر شہید کیا گیا اور کراچی میں سپاہیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اب تو گنتی بھی ختم ہو چلی ہے، کتنوں کا شمار کریں اور کتنوں کی تعزیت۔ اور یہ سب جمعۃ الوداع کو ہوا۔ قبل از اسلام اور ظہورِ اسلام کے وقت بھی رمضان کے دوران...
June 18, 2017
تجھے پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو!

وزیراعظم نواز شریف اتنے پانامہ لیکس پہ پریشان نہیں تھے، جتنے کہ وہ سعودی عرب اور قطر کے مابین جاری سفارتی جنگ پر متفکر۔ ایک گہرے مخمصے نے اُنہیں آن گھیرا تھا۔ کریں تو کیا اور وہ بھی کیسے۔ بادشاہ سلامت کا پیغام ہی کچھ ایسا تھا۔ ہمارے (سعودی عرب کے) ساتھ ہو یا اُس کے (قطر کے) ساتھ؟ قازقستان کے دورے کے دورانِ سفر اُنہوں نے کئی گھنٹے...
June 11, 2017
حکومت کے چار آزمائشی سال اور پانچویں کی خبر نہیں

نواز شریف حکومت کے پہلے دو برس تو مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف عمران خان کی دھرنا سیاست کی نذر ہوئے، بعد ازاں گلے آن پڑی ڈان لیکس اور اب چار سال مکمل ہوئے اور آخری برس میں داخل ہوتے ہوئے پانامہ لیکس کے پھندے سے جان چھٹتی نظر نہیں آتی۔ اب جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیشیاں ہیں اور پھر عدالتِ عظمیٰ کی جلد احتساب کی لٹکتی...
June 04, 2017
بیسویں معاشی قوت کا مژدہ! مگر کیسے اور کس کیلئے؟

ایک منتخب حکومت کے وزیرِ خزانہ کو پانچواں بجٹ پیش کرتے فقط دوسری بار دیکھا۔ آنکھوں پہ یقین کرنے کے سوا چارا نہ تھا۔ ظاہر ہے کہ مروجہ روایت کے مطابق انتخابی سال کے بجٹ میں کوئی بھی حکومت خرچے بڑھانے اور رعایتیں دینے کے سوا کیا کر سکتی ہے، بھلے مستعار لے کر۔ لیکن گرمی میں بلکتی اور لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں بے حال جنتا کو کیا پڑی تھی کہ وہ...
May 07, 2017
ہے کوئی دیس، جو ہمارے جیسا ہو

ہے کوئی ایسا دیس جہاں یہ ہوتا ہو؟ حکومت کا آئینی سربراہ کوئی بھی ہو، اُس کے احکام کی ایسی بے توقیری کہیں ہوتی ہے؟ کوئی بھی ادارہ، حکومت یا ریاست اور کسی طرح کا نظام کیا کہیں کسی ضابطے کے بغیر چل سکتا ہے، اگر نائبین حکم عدولی کرنے لگیں؟ اگر کوئی حکم وزیراعظم کے دفتر سے ڈان لیکس سے متعلق تحقیقات کے نتائج کا پوری طرح غماز نہیں بھی...
April 30, 2017
اندھیروں میں صادق و امین کی تلاش

اک ہنگامہ بپا ہے کہ تھمنے کو نہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے بوجھو تو جانے کی پہیلی کیا کی کہ عوامی مشاعرہ شروع ہو گیا۔ وزن کی کسی کو کیا پروا۔ بس ہر کوئی غزل سرا، اپنی اپنی راگنی اور اپنا اپنا سُر بھلے کیسا ہی بے سُرا۔ بس اک شور ہے کہ کان پڑی آوازیں سنائی نہیں پڑتیں۔ اسے جمہوریت کا آرکسٹرا کہیں یا پھر وہ کٹورہ جسے پی پی بھوکا اپھر گیا۔ سال...
April 23, 2017
اب بغلیں بجائیں تو کیسے اور کس کے لئے؟

کس کی آس ٹوٹی اور کس کی اُمید بر نہ آئی، ہر کوئی اپنا سا منہ لے کے رہ گیا۔ سیاسی دھماکہ ہوا نہ وزیراعظم کی نااہلی، عدالتی اختیار حد سے پھلانگا نہ انصاف کا قتل، انقلابی فیصلہ ہوا نہ اعتدال کا دامن چھوٹا، کرپشن کے نظام کا مداوا ہوا نہ مبینہ کرپشن سے دامن پاک ہوا، سیاسی دھماکہ ہوا نہ احتسابی نظام کی کوئی اصلاح، مدعی بھی خوش اور مدعا...
April 09, 2017
بھٹو امر ہوئے اور عوامیت پسند سیاست انحطاط پذیر

ہمالیہ نے آنسو بہائے تھے کہ نہیں، پھانسی پہ چڑھائے جانے کے 38 برس بعد بھی اُن کے لئے آج بھی لاکھوں آنکھیں اشکبار ہیں۔ بھلے رجعتی لوگ اُن کا نام کیسے ہی مٹایا کریں۔ اور اُن کے مردِ مومن جنرل ضیاء الحق کی فاتحہ پڑھنے والا شاید ہی کہیں کوئی ملے۔ جن ججوں نے اُن کا ’’عدالتی قتل‘‘ کیا، اُن کا فیصلہ آج بھی ہماری عدالتی تاریخ کے چہرے...