Imtiyaz Alam - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
منگل 3؍ جمادی الثانی 1439ھ 20؍ فروری 2018ء
امتیاز عالم
February 18, 2018
عاصمہ:تم جاوداں ہو اور کامران بھی

عاصمہ کی یاد میں کیسے کیسے نذرانے، نوحے اور نغمے فضاؤں میں بکھر رہے ہیں۔ ایسا کسی کے انتقال پر اک مدت کے بعد سننے اور دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کشور ناہید رقم طراز ہیں: اذیت پرستی کے سارے ناخدا نابود ہو جائیں گے، تمہاری بے چین اور پاک روح عاصمہ، تمام خاک پسند لوگوں کے چہروں کی خراشیں، سُبک نرم رو تازہ شگوفوں میں بدل دے گی، سب اُجاڑ...
February 11, 2018
ڈنڈا پیر اے وگڑیاں تگڑیاں دا

یہ جو پنجابی محاورے ہوتے ہیں، بڑے ہی ظالم! آج جب متحدہ قومی موومنٹ (MQM) بارے لکھنے کا سوچ رہا تھا تو ڈاکٹر فاروق ستار کا نہایت متاسفانہ بیان نظر پڑا۔ نہایت کسمپرسی کی حالت میں ایم کیو ایم (پاکستان) کے مجہور سربراہ نے آہ بھر کے کہا کہ: ’’میرے پاس بانی اور قائد جیسا ڈنڈا نہیں۔‘‘ وہ سپہ سالار تو ہیں لیکن سپاہ کے بغیر۔ وگرنہ موصوفہ...
February 04, 2018
ٹھنڈا ٹھنڈا چلیں اس سے پہلے کہ منہ کے بل گریں

بی جمہوریت تو ویسے بھی کبھی کبھار چکھنے اور سونگھنے کو ملتی رہی ہیں۔ اِس بار پاکستانی پیمانوں پر دورانیہ ذرا لمبا ہوا لگتا ہے، اور وہ بھی بے یقینی اور وسوسوں میں ایسا گھرا ہوا کہ کل کی خبر نہیں۔ صبح شام جمہوریت پر لعنت بھیجنے والے ناشکروں اور ناقدوں کو خبر ہو کہ مملکتِ خداداد میں تو جمہوریت نامی پودا حسب نسب کے اعتبار سے مخلوط...
January 28, 2018
ایک فیصد کے گلچھرے یا پھر 99 فیصد کی معیشت

عالمی فلاحی ادارے آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس ایک فیصد اُمرا نے 83 فیصد دولت کمائی۔ نتیجتاً دُنیا کی آدھی غریب آبادی (3.7 ارب لوگ) کے ذرائع آمدن میں کوئی اضافہ ہوتا نظر نہ آیا۔ صرف 8 افراد کے پاس اللہ کے فضل سے اتنی دولت ہے جتنی کہ تین ارب اور ستر کروڑ لوگوں کی کل جمع پونجی ہے۔ سرمائے کی لوٹ مار کے اس عالمی نظام میں ہر دوسرے...
January 21, 2018
جو بادہ کش تھے پُرانے، وہ اُٹھتے جاتے ہیں

ایسا بزلہ سنج، ایسا بھلا مانس، ایسا راست باز، ایسا حلیم، ایسا انساں دوست اور ایسا رفیقِ سفر! راہِ عدم ہوا۔ ایک پُرہول کسک وہ جاتے جاتے دل کے نہاں خانوں میں تڑپنے کو چھوڑ گیا۔ جی ہاں! یہ تھے ہمارے اور سب کے اپنے منو بھائی جنہوں نے ہمیں کبھی حالات کی سفاکیوں کے آگے رونے نہیں دیا۔ وہ ایسی طربیہ پھبتی کستے کہ آزار چھٹ جاتے اور ہم اپنی...
January 14, 2018
ایک زینب اور کس کس کو روئیں؟

کس کا ماتم کریں، کس کس کو روئیں؟ اِک بنت ہوا (زینب) کے بہیمانہ قتل نے جیسے سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجھوڑ دیا اور لوگ فرطِ جذبات میں آپے سے باہر ہو گئے۔ یہ ایک نوخیز روح کی کچرے سے ملی لاش کا نوحہ تھا، یا پھر اجتماعی احساسِ گناہ اور سماجی ضمیر کی خلش جس نے قصور کے شہریوں کو سوتے سے جگا دیا۔ ایسے پہلے بھی ہوتا رہا تھا، بار بار ہوتا رہا ہے...
January 07, 2018
سو پیاز، سو جوتے ہمارا مقدر کیوں؟

صدر ٹرمپ کا جلا کٹا ٹوئٹ کیا آنا تھا کہ راج سنگھاسن پہ بیٹھے جغادریوں میں کیا کھلبلی تھی کہ نہ مچ گئی۔ اور میرے پرانے دوست خواجہ آصف کی رگِ ظرافت کہیے یا بھانڈپن، ٹرمپ کو اُنہوں نے وہ وہ سنائی ہیں کہ شاید اُس پر چھپنے والی آگ اور بگولہ نامی کتاب کا مصنف بھی مات ہو جائے۔ ارے بھئی ٹرمپ کے ٹویٹس تو ایسے غضبناک ہیں کہ اتحادی کیا، دشمن...
December 31, 2017
بے نظیر یادیں اور این آر او کی بازگشت

27؍ دسمبر 2007ء کی وہ سرد اور خونچکاں شام، بی بی بے نظیر کے خون میں لتھڑ کر دل و دماغ پر جم سی گئی ہے۔ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں دہشت گرد وحشی ہر جانب سے حملہ آور ہوئے تھے اور وہ نہ رہی جس نے دہشت گردوں، مذہبی انتہاپسندوں اور مقتدرہ کے آمرانہ عناصر کے گٹھ جوڑ کو للکارا تھا۔ القاعدہ کے ایمن الظواہری، مصطفےٰ ابو یزید (سعید المعصری)،...
December 24, 2017
نواز شریف ’’مائنس ون‘‘ پہ راضی ہو گئے؟

سیاست کا آسماں بھی ایسے ایسے رنگ بدلتا ہے کہ تجزیہ نگاروں کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ جائیں۔ شہباز شریف کو اگلے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے وزیراعظم کے اُمیدوار کے طور پر سامنے لا کر نواز شریف نے اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں خود ہی بڑا سوال کھڑا کر دیا۔ کیا نواز شریف اپنی نااہلی پہ قناعت کر چکے اور ’’مائنس ون‘‘ فارمولے پہ راضی ہو گئے؟...
December 17, 2017
سقوطِ ڈھاکہ: حکایت خونچکاں

16؍ دسمبر کو جب یہ سطور لکھ رہا ہوں تو دل سقوطِ ڈھاکہ کی حکایت خونچکاں پہ ویسے ہی ملول ہے، جیسے 36 برس پہلے مضروب ہونے پر۔ خون کی جو ہولی کھیلی گئی، اُس کا انجام پلٹن میدان میں ہو چکا تھا۔ لیکن اگلے روز مغربی پاکستان کے تمام سنسر شدہ اخبارات میں ابھی بھی فتح کے جھنڈے بلند نظر آئے اور جب کمانڈر انچیف جنرل یحییٰ خان نے اُس سے اگلے روز...
December 10, 2017
بھٹوز اور دیومالائی ققنس Phoenix

پیپلز پارٹی اور بھٹوز کو پچاس برس ہوئے۔ پارٹی ہے کہ ختم ہونے کو نہیں۔ چاہے آپ کیسی ہی بددُعائیں دیا کریں! تاریخ کیسی ہی کنگال ہو، مگر بھٹوز ذوالفقار علی اور محترمہ بے نظیر کا رزمیہ پہ رزمیہ ایسا دو آتشہ ہے کہ لوگ بھولنے کو نہیں۔ جب کوئی عوامی گائیکی اور سائیکی میں سما جائے تو دلوں سے کیسے نکلے۔ بھٹوز کا رزمیہ اُس یونانی دیومالائی...
December 03, 2017
میلادِ رحمت للعالمینﷺ

ہر سو میلاد النبیؐ کی صدائیں ہیں اور میں اپنی خلوت میںھُو ھُو کا ورد کیے جا رہا ہوں۔ ابنِ عربی نے منصور حلاج کے ھُوھُو کو حقیقتِ محمدیہ، عقلِ اوّل، روح العرش، انسانِ کامل اور آدمِ حقیقی سے پکارا ہے۔ اور کہا کہ حقیقتِ محمدیہ کائنات کا سبب ہے اور وحدت حقیقتِ محمدیہ ہے۔ انا من نور اللہ و الخلق کلھم من نوری‘‘، جس کے مظاہر عین و عیاں...
November 26, 2017
چین عوامی ترقی کی شاہراہ پر

چین سے میرا لگاؤ پچاس برس سے ہے۔ کبھی ماؤزے ڈونگ نے ہمیں یونیورسٹیاں چھوڑ کھیتوں اور فیکٹریوں کے مزدوروں اور کسانوں سے جُڑنے پہ ایسا اُکسایا تھا کہ بیس برس واپسی میں لگے۔ ہمارے لئے پاک چین دوستی ایسے وقت میں رومانی ہوئی جب پالتو لوگ امریکہ کے بڑے اتحادیوں میں بڑے ہی اتحادی کہلائے جانے پہ بغلیں بجایا کرتے تھے۔ کیسے کیسے شاندار...
November 12, 2017
کہیں تو جا کے رُکے قافلۂ غمِ دل

کہیں تو جا کے رُکے قافلۂ غمِ دل۔ نہ نشانِ راہ نہ منزل کا دُور دُور تک نشاں۔ بس تاریخ کی خزاں کے سائے ہیں کہ بڑھتے جاتے ہیں۔ جدھر نظر ڈالو، تو بقول فیض لوٹ جاتی ہے اُدھر کو بھی نظر کیا کیجے، ’’کچھ بھی تو ٹھیک نہیں چل رہا۔‘‘ یہ ہیں الفاظ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کے جو ’’اداروں کی غیرآئینی مداخلت‘‘ پر نوحہ کناں۔ وفاقی اکائیوں کے...