Imtiyaz Alam - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
منگل23 ربیع الاوّل 1439ھ 12 دسمبر2017ء
امتیاز عالم
December 10, 2017
بھٹوز اور دیومالائی ققنس Phoenix

پیپلز پارٹی اور بھٹوز کو پچاس برس ہوئے۔ پارٹی ہے کہ ختم ہونے کو نہیں۔ چاہے آپ کیسی ہی بددُعائیں دیا کریں! تاریخ کیسی ہی کنگال ہو، مگر بھٹوز ذوالفقار علی اور محترمہ بے نظیر کا رزمیہ پہ رزمیہ ایسا دو آتشہ ہے کہ لوگ بھولنے کو نہیں۔ جب کوئی عوامی گائیکی اور سائیکی میں سما جائے تو دلوں سے کیسے نکلے۔ بھٹوز کا رزمیہ اُس یونانی دیومالائی...
December 03, 2017
میلادِ رحمت للعالمینﷺ

ہر سو میلاد النبیؐ کی صدائیں ہیں اور میں اپنی خلوت میںھُو ھُو کا ورد کیے جا رہا ہوں۔ ابنِ عربی نے منصور حلاج کے ھُوھُو کو حقیقتِ محمدیہ، عقلِ اوّل، روح العرش، انسانِ کامل اور آدمِ حقیقی سے پکارا ہے۔ اور کہا کہ حقیقتِ محمدیہ کائنات کا سبب ہے اور وحدت حقیقتِ محمدیہ ہے۔ انا من نور اللہ و الخلق کلھم من نوری‘‘، جس کے مظاہر عین و عیاں...
November 26, 2017
چین عوامی ترقی کی شاہراہ پر

چین سے میرا لگاؤ پچاس برس سے ہے۔ کبھی ماؤزے ڈونگ نے ہمیں یونیورسٹیاں چھوڑ کھیتوں اور فیکٹریوں کے مزدوروں اور کسانوں سے جُڑنے پہ ایسا اُکسایا تھا کہ بیس برس واپسی میں لگے۔ ہمارے لئے پاک چین دوستی ایسے وقت میں رومانی ہوئی جب پالتو لوگ امریکہ کے بڑے اتحادیوں میں بڑے ہی اتحادی کہلائے جانے پہ بغلیں بجایا کرتے تھے۔ کیسے کیسے شاندار...
November 12, 2017
کہیں تو جا کے رُکے قافلۂ غمِ دل

کہیں تو جا کے رُکے قافلۂ غمِ دل۔ نہ نشانِ راہ نہ منزل کا دُور دُور تک نشاں۔ بس تاریخ کی خزاں کے سائے ہیں کہ بڑھتے جاتے ہیں۔ جدھر نظر ڈالو، تو بقول فیض لوٹ جاتی ہے اُدھر کو بھی نظر کیا کیجے، ’’کچھ بھی تو ٹھیک نہیں چل رہا۔‘‘ یہ ہیں الفاظ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کے جو ’’اداروں کی غیرآئینی مداخلت‘‘ پر نوحہ کناں۔ وفاقی اکائیوں کے...
October 29, 2017
پھر سے سوچنے کا وقت اور جلی کٹی سفارت کاری

جلی کٹی سنانے میں میرے دوست خواجہ آصف سے تو گلی محلے کی طعنے باز بڑی بیبیاں بھی مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ اپنے اس فن کا مظاہرہ وہ یونیورسٹی کے زمانے سے پارلیمنٹ اور اب وزارتِ خارجہ میں نہایت طمطراق سے کر رہے ہیں۔ کاش وہ جان سکتے کہ خارجہ پالیسی اور سفارت کاری کا جلی کٹی سنانے، پھبتیاں کسنے اور اُشکل بازی سے کوئی واسطہ نہیں۔ یہ کام...
October 22, 2017
چھری پھرے بھی اور چیخ بھی نہ نکلے

چھری پھرے بھی اور چیخ بھی نہ نکلے۔ کچھ ایسا ہی تقاضا ہے، لیکن تکلیف ہوگی تو چیخیں تو نکلتی ہی ہیں اور ایسے میں جب دستِ قاتل کو جھٹکنے کی سکت بھی نہ ہو۔ سوائے اس کے کہ ایک اچھے خاصے منتخب وزیراعظم کو ایک خالی کھاتے کی تہمت پر چلتا کرنے سے جو دھول اڑی ہے، پاکستان پہ ایسی کیالئے آفت ٹوٹی ہے کہ ہر طرف ’’گو جمہوریت گو‘‘ کے بے ہنگم ڈھول...
October 15, 2017
بُری نہیں، تو اچھی بھی نہیں

معیشت بارے ’’بُری نہیں تو اچھی بھی نہیں‘‘کا تبصرہ، اور وہ بھی عسکری، تو دو آتشہ ہونا ہی تھا۔ اس تبصرے نے اُس اشتہار کی یاد دلا دی جس میں ایمپائر اپنا پسندیدہ بسکٹ کھانے میں ہمہ تن مصروف ہے کہ اچانک ’’ہاؤ از اِٹ‘‘ کی زوردار اپیل گونجتی ہے اور بے خبر ایمپائر ففٹی ففٹی کا فیصلہ سنا دیتا ہے۔ یہ تبصرہ ایسے وقت پہ ہوا جب وزیرِ...
October 08, 2017
ہائے ری جمہوریت تیری بُکل میں چور

ہائے ری جمہوریت! تیرے لئے کیا جتن تھے جو نہ کئے۔ کیا آزمائشیں تھیں کہ جن سے نہ گزرے۔ تیرا وصل ملا بھی تو کبھی کبھار اور وہ بھی گہنایا ہو، خستہ خستہ، اور شب خونوں کے وسوسوں میں گھرا ہوا۔ تیرے لئے جاں سے گئے کوئی اور، لے اُڑے تجھے وہ جو تیری عصمت کو تار تار کرنے میں غاصبوں کے حواری رہے۔ تجھ پہ کیا تہمتیں تھیں کہ نہ لگیں اور تیری عصمت...
September 24, 2017
نواز شریف کھڑے رہتے ہیں یا

پاکستان مسلم لیگ ن کے ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ میں حلقہ 120 کے ضمنی انتخاب کے بعد لوگوں کاہجوم تھا، لیکن ویسا نہیں جیسا 2013ء کے عام انتخابات کے بعد دیکھنے کو ملا تھا۔ لوگوں کے پُرجوش نعروں کا جواب دینے کو وہاں نواز شریف تھے نہ شہباز شریف، حمزہ شہباز اور دوسرے سینئر لیڈر۔ اظہارِ تشکر کے لئے اگر بالکنی پہ کوئی تھا تو وہ تھیں مریم نواز اور...
September 10, 2017
آبادی کا بم اور بے دل سیاست و ریاست

لیجئے ایک اور بم دھماکہ چھٹی مردم شماری نے ظاہر کر دیا۔ جی ہاں! یہ بم دھماکہ سب سے مہلک ہے: زمین کیلئے، قدرتی ذرائع کیلئے، ملکی خوشحالی کیلئے، وطن کی سلامتی کیلئے اور سب سے بڑھ کر انسانوں کی بھلائی کیلئے۔ اور یہ ہے آبادی کا دھماکہ۔ 19 برس میں ہم تیرہ کروڑ سے تقریباً 21 کروڑ (20 کروڑ 78 لاکھ) ہو گئے ہیں۔ پہلے ہی کیا ہماری بھاری اکثریت...
August 27, 2017
ٹرمپ کی بڑھکیں

کوئی بائولا ہو جائے، تو آپ تو بائولے ہونے سے رہے۔ شاید امریکہ بہادر کے ساتھ ایسی نہیں بیتی جیسی ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں امریکی اقدار کی مٹی پلید ہو رہی ہے۔ سفید فام برتر قوم پرستی، نسل پرستی اور فسطائیت کو امریکی صدر ہی ہوا دے رہے ہیں اور شہری آزادیوں کے مبلغ ہزاروں کی تعداد میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ یہ کوئی نئی تقسیم نہیں، سینکڑوں...
August 13, 2017
ستر برس کی دُہائی اور نواز شریف کی واپسی

جی ہاں! کلیجہ منہ کو آتا ہے، جب پاکستان کی ستر سالہ تاریخ کے گھومتے چکر پہ نظر ڈالیں تو۔ قائداعظم محمد علی جناح نے سوچا کیا تھا اور تاریخ کے سنگدل ہاتھوں سے مملکتِ خداداد کے ساتھ بیتی کیا۔ جناح تو آئین پرست، جمہوری اور سیکولر انسان تھے۔ اُن کا گاندھی جی سے اختلاف ہی یہ تھا کہ آپ بہت زیادہ ہندو مہاتما بن رہے ہیں جو قومی آزادی کو...
July 30, 2017
آخر کب دیکھیں گے؟ جس کا کہ وعدہ تھا

ستر سال بیت چلے، بس یہی سرکس دیکھتے دیکھتے۔ جو منظر ایک اور وزیراعظم کی بے توقیر روانگی کا گزشتہ روز نظر آیا، یہ کتنی ہی بار دیکھ چکے۔ اب اس سے اتنی دلخراش اُکتاہٹ ہونے لگی ہے کہ سوچتا ہوں کہ ’’آخر ہمیں وزیراعظم چاہیے کیوں؟‘‘ منتخب کریں عوام، فارغ کرے کوئی اور جس کا رائے دہندگان کی منشاؤں سے کوئی واسطہ ہے نہ اُن کے فیصلے یا...
July 23, 2017
شالہ "بیچارہ" کوئی وزیراعظم نہ تھیوے "ہو"

جی ہاں! احتساب اور کڑا احتساب۔ قوم و ملک اور عوام کی خون پسینے کی کمائی کی لوٹ مار کی ایک ایک پائی کا حساب اور ہر زخم کا حساب۔ ہم خاک نشینوں اور قلم کاروں کو کیا ڈر اور اُن محنت کشوں کو کیا خوف جن کے پاس لٹنے کے لیے دو ہاتھوں کی مشقت کے سوا بچا کیا ہے۔ کاش احتساب ہوتا، اس ملک کی تمام لٹیری اشرافیہ، غاصب آمروں اور کالے دھن سے بنے محلات...