Imtiyaz Alam - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
جمعہ 29 محرم الحرام 1439ھ 20 اکتوبر 2017ء
امتیاز عالم
October 15, 2017
بُری نہیں، تو اچھی بھی نہیں

معیشت بارے ’’بُری نہیں تو اچھی بھی نہیں‘‘کا تبصرہ، اور وہ بھی عسکری، تو دو آتشہ ہونا ہی تھا۔ اس تبصرے نے اُس اشتہار کی یاد دلا دی جس میں ایمپائر اپنا پسندیدہ بسکٹ کھانے میں ہمہ تن مصروف ہے کہ اچانک ’’ہاؤ از اِٹ‘‘ کی زوردار اپیل گونجتی ہے اور بے خبر ایمپائر ففٹی ففٹی کا فیصلہ سنا دیتا ہے۔ یہ تبصرہ ایسے وقت پہ ہوا جب وزیرِ...
October 08, 2017
ہائے ری جمہوریت تیری بُکل میں چور

ہائے ری جمہوریت! تیرے لئے کیا جتن تھے جو نہ کئے۔ کیا آزمائشیں تھیں کہ جن سے نہ گزرے۔ تیرا وصل ملا بھی تو کبھی کبھار اور وہ بھی گہنایا ہو، خستہ خستہ، اور شب خونوں کے وسوسوں میں گھرا ہوا۔ تیرے لئے جاں سے گئے کوئی اور، لے اُڑے تجھے وہ جو تیری عصمت کو تار تار کرنے میں غاصبوں کے حواری رہے۔ تجھ پہ کیا تہمتیں تھیں کہ نہ لگیں اور تیری عصمت...
September 24, 2017
نواز شریف کھڑے رہتے ہیں یا

پاکستان مسلم لیگ ن کے ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ میں حلقہ 120 کے ضمنی انتخاب کے بعد لوگوں کاہجوم تھا، لیکن ویسا نہیں جیسا 2013ء کے عام انتخابات کے بعد دیکھنے کو ملا تھا۔ لوگوں کے پُرجوش نعروں کا جواب دینے کو وہاں نواز شریف تھے نہ شہباز شریف، حمزہ شہباز اور دوسرے سینئر لیڈر۔ اظہارِ تشکر کے لئے اگر بالکنی پہ کوئی تھا تو وہ تھیں مریم نواز اور...
September 10, 2017
آبادی کا بم اور بے دل سیاست و ریاست

لیجئے ایک اور بم دھماکہ چھٹی مردم شماری نے ظاہر کر دیا۔ جی ہاں! یہ بم دھماکہ سب سے مہلک ہے: زمین کیلئے، قدرتی ذرائع کیلئے، ملکی خوشحالی کیلئے، وطن کی سلامتی کیلئے اور سب سے بڑھ کر انسانوں کی بھلائی کیلئے۔ اور یہ ہے آبادی کا دھماکہ۔ 19 برس میں ہم تیرہ کروڑ سے تقریباً 21 کروڑ (20 کروڑ 78 لاکھ) ہو گئے ہیں۔ پہلے ہی کیا ہماری بھاری اکثریت...
August 27, 2017
ٹرمپ کی بڑھکیں

کوئی بائولا ہو جائے، تو آپ تو بائولے ہونے سے رہے۔ شاید امریکہ بہادر کے ساتھ ایسی نہیں بیتی جیسی ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں امریکی اقدار کی مٹی پلید ہو رہی ہے۔ سفید فام برتر قوم پرستی، نسل پرستی اور فسطائیت کو امریکی صدر ہی ہوا دے رہے ہیں اور شہری آزادیوں کے مبلغ ہزاروں کی تعداد میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ یہ کوئی نئی تقسیم نہیں، سینکڑوں...
August 13, 2017
ستر برس کی دُہائی اور نواز شریف کی واپسی

جی ہاں! کلیجہ منہ کو آتا ہے، جب پاکستان کی ستر سالہ تاریخ کے گھومتے چکر پہ نظر ڈالیں تو۔ قائداعظم محمد علی جناح نے سوچا کیا تھا اور تاریخ کے سنگدل ہاتھوں سے مملکتِ خداداد کے ساتھ بیتی کیا۔ جناح تو آئین پرست، جمہوری اور سیکولر انسان تھے۔ اُن کا گاندھی جی سے اختلاف ہی یہ تھا کہ آپ بہت زیادہ ہندو مہاتما بن رہے ہیں جو قومی آزادی کو...
July 30, 2017
آخر کب دیکھیں گے؟ جس کا کہ وعدہ تھا

ستر سال بیت چلے، بس یہی سرکس دیکھتے دیکھتے۔ جو منظر ایک اور وزیراعظم کی بے توقیر روانگی کا گزشتہ روز نظر آیا، یہ کتنی ہی بار دیکھ چکے۔ اب اس سے اتنی دلخراش اُکتاہٹ ہونے لگی ہے کہ سوچتا ہوں کہ ’’آخر ہمیں وزیراعظم چاہیے کیوں؟‘‘ منتخب کریں عوام، فارغ کرے کوئی اور جس کا رائے دہندگان کی منشاؤں سے کوئی واسطہ ہے نہ اُن کے فیصلے یا...
July 23, 2017
شالہ "بیچارہ" کوئی وزیراعظم نہ تھیوے "ہو"

جی ہاں! احتساب اور کڑا احتساب۔ قوم و ملک اور عوام کی خون پسینے کی کمائی کی لوٹ مار کی ایک ایک پائی کا حساب اور ہر زخم کا حساب۔ ہم خاک نشینوں اور قلم کاروں کو کیا ڈر اور اُن محنت کشوں کو کیا خوف جن کے پاس لٹنے کے لیے دو ہاتھوں کی مشقت کے سوا بچا کیا ہے۔ کاش احتساب ہوتا، اس ملک کی تمام لٹیری اشرافیہ، غاصب آمروں اور کالے دھن سے بنے محلات...
July 16, 2017
وہ نہیں تو پھر کوئی نہیں

وزیر اعظم کے گرد جتنا گھیرا تنگ کیا جارہا ہے اتنا ہی وہ تنگ آمد بجنگ آمد پہ مائل ہوتے دکھائی پڑتے ہیں۔ انہوںنے آخر تک لڑنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تئیں وہ سمجھتے ہیں کہ انہوںنے قومی خزانے میں کوئی خیانت کی نہ اپنے عہدوں سے ناجائز فائدہ اٹھا کر کسی طرح کی کرپشن میں ملوث ہوئے۔ ہر طرف سے گھرے نواز شریف کو اگر کچھ دکھائی پڑ رہا...
July 09, 2017
پانچ جولائی کا شب خون کب تھمے گا؟

پھر پانچ جولائی آئی اور دل کے زخم تازہ ہو گئے اور تلخ یادوں نے آن گھیرا کہ کہیں تو جا کے رُکے گا سفینہ غمِ دل۔قومی اتحاد اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مابین سمجھوتہ ہو چکا تھا۔ حفیظ پیرزادہ نے بھٹو صاحب کو سیاسی بحران حل ہونے پر مبارکباد دی، لیکن بھٹو کچھ اور سوچ رہے تھے کہ دیر ہو چکی۔ وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ اور ٹیلی فون پر...
July 02, 2017
خارجہ پالیسی کے چار ستون

اچھا لگا کہ دفتر خارجہ کی قسمت جاگی اور وہاں وزیراعظم کی زیرِ صدارت ایک بہت ہی اہم اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اور بھی مناسب دکھائی دیا کہ بدلتی عالمی صف بندیوں اور اُن سے اُبھرتے نئے چیلنجوں کا مدبرانہ سامنا کرنے کے لئے پاکستان کی سول قیادت دانشمندانہ احتیاط سے کام لے رہی ہے۔ اس کے باوجود کہ وزیراعظم پر پانامہ کی آفت کے سائے گہرے ہوتے...
June 25, 2017
جمعۃ الوداع پہ بہنے والے خون سےکوئی فرق پڑ سکے گا؟

رمضان المبارک میں ایسی قیامت کبھی ٹوٹ پڑتی دیکھی۔ پارا چنار میں پھر خون کی ہولی کھیلی گئی، کوئٹہ میں پولیس اہلکاروں کو پھر شہید کیا گیا اور کراچی میں سپاہیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اب تو گنتی بھی ختم ہو چلی ہے، کتنوں کا شمار کریں اور کتنوں کی تعزیت۔ اور یہ سب جمعۃ الوداع کو ہوا۔ قبل از اسلام اور ظہورِ اسلام کے وقت بھی رمضان کے دوران...
June 18, 2017
تجھے پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو!

وزیراعظم نواز شریف اتنے پانامہ لیکس پہ پریشان نہیں تھے، جتنے کہ وہ سعودی عرب اور قطر کے مابین جاری سفارتی جنگ پر متفکر۔ ایک گہرے مخمصے نے اُنہیں آن گھیرا تھا۔ کریں تو کیا اور وہ بھی کیسے۔ بادشاہ سلامت کا پیغام ہی کچھ ایسا تھا۔ ہمارے (سعودی عرب کے) ساتھ ہو یا اُس کے (قطر کے) ساتھ؟ قازقستان کے دورے کے دورانِ سفر اُنہوں نے کئی گھنٹے...
June 11, 2017
حکومت کے چار آزمائشی سال اور پانچویں کی خبر نہیں

نواز شریف حکومت کے پہلے دو برس تو مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف عمران خان کی دھرنا سیاست کی نذر ہوئے، بعد ازاں گلے آن پڑی ڈان لیکس اور اب چار سال مکمل ہوئے اور آخری برس میں داخل ہوتے ہوئے پانامہ لیکس کے پھندے سے جان چھٹتی نظر نہیں آتی۔ اب جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیشیاں ہیں اور پھر عدالتِ عظمیٰ کی جلد احتساب کی لٹکتی...