صبر و استقامت کا پیکرحاجی غلام احمد بلور

July 15, 2018
 

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ میں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے رب کو جانا۔یعنی میں کرنا تو ایک کام چاہتا ہوں لیکن ہو دوسراجاتا ہے۔یہی کچھ اس خاکسار کے ساتھ ہوا۔گزشتہ روز پختونخوا کی انتخابی صورت ِ حال جاننے کیلئے مختلف علاقوں میں آباد اپنے دوستوںسے معلومات حاصل کیں۔ایک دوست نے بتایا کہ یار باقی تو اے این پی کی پوزیشن اچھی ہےلیکن حاجی غلام احمد بلور صاحب عوامی رابطہ مہم کے دوران کہتے ہیں کہ یہ ان کے آخری الیکشن ہیں اور آئندہ وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔بلور صاحب کو ہر کوئی احترام سے حاجی صاحب کہتا ہے،میرے دوست کی رائے تھی کہ حاجی صاحب کو یہ نہیں کہنا چاہئے ،اُن کے بغیر تو پھر کسی بھی انتخاب میں جذبہ ہی نہیں رہیگا ۔حاجی صاحب سے میر ی پہلی ملاقات کراچی میں این ڈی پی کے جلسے میں ہوئی تھی( نیپ پر پابندی کے بعد این ڈی پی معرض وجود میں آئی تھی) وہ جلسے کے مہمان خصوصی تھے ، اور میں جلسے کا اسٹیج سیکرٹری۔اس کے بعد میں نے این ڈی پی، اے این پی اور پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ایسے درجنوں جلسوں میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دئیے ، جن میں حاجی صاحب کے علاوہ، بعض اوقات خان عبدالولی خان، اجمل خٹک، افضل خان لالہ، لطیف لالہ، عبدالخالق خان مرحوم ہوتے تھے، یہاں تک کہ 23جولائی1987 کو کراچی میں حضرت باچا خان کے آخری جلسے کی نظامت کے فرائض کا اعزاز بھی اس ناچیز کو حاصل ہوا۔کہنا یہ چاہتا ہوں کہ جلسوں میں اسٹیج سیکریٹری ہونے کی وجہ سے مجھے حاجی صاحب سیکریٹری کہہ کر ہی پکارتے تھے۔تو جب مجھے اُن کی انتخابی سیاست سے علیحدگی کاعلم ہوا، تو میں نے جنگ کیلئے ایک مختصر اسٹوری تیار کی ، اور ارادہ کیا کہ اتوار کو اگر خداوندِقدوس نے موقع عطا کیا ، تو حاجی صاحب کی خدمات پر کالم لکھونگا۔میں 10جولائی کو جب یہ اسٹوری فائل کرکے ذرا جلدی گھر آیا تو تھوڑی دیر بعد یہ غمناک خبر ملی کہ شہیدبشیر احمد بلور کے فرزندِ ارجمند ہارون احمد بلور بم دھماکے میں دیگر محترم اصحاب کے ہمراہ شہید ہوگئے ہیں، یہ خبر جیسے تیر کی طرح دل و جگر میں پیوست ہوکر رہ گئی۔یکایک دل میں خیال آیا کہ آہ....میں نے سوچا تھا کہ حاحی صاحب کی قومی وملی خدمات پر لکھونگا،لیکن یہ کیا ہوگیا!اب کیا لکھونگا، مرثیہ یا نوحہ...لاریب !انسان سوچتا کچھ ہے اور ہو کچھ جاتا ہے۔ بابِ العلم نے عقلِ عالم کو کیا خوب یاد دلایا، میں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے اپنے رب کو پہچانا...آئیے حاجی غلام احمد بلور کے حوالے سے میر ی وہ خبر پڑھتے ہیں ، جو جنگ الیکشن سیل کے صفحے پر11جولائی کو شائع ہوئی اور جس کے بعد مجھے حاجی صاحب کی خدمات پر لکھنا تھا۔
’’ وطن عزیز میں پرانے سیاستدان رفتہ رفتہ سیا ست سے کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں۔متعدد تو طویل العمری کی وجہ سے ریٹائر ہوچکے ہیں۔ سردار شیرباز مزاری کی طرح کئی سیاستدان ایسے ہیں جو موجودہ طرز سیاست میں خود کو ان فٹ تصور کرتے ہوئے گوشہ نشین ہوچکے ہیں۔خیر دہر کا قانون بھی ہے کہ پرانے کی جگہ نئے نے لینا ہے۔البتہ پاکستانی سیاستدانوں کے موجودہ ، کردار،لہجے، روش اور طرز تکلم کو دیکھتے ہوئےاکثر پرانے سیاستدانوں کو یاد کیا جاتا ہے۔ 2018کے انتخابات کے بعد کئی ایسے سیاستدان ہونگے ، جو شاید ہی آئندہ کے انتخابا ت کا حصہ بن پائیں۔ان میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور این 31 پشاورسے امیدوار حاجی غلام احمد بلور بھی شامل ہیں۔وہ باقاعدہ اپنی عوامی رابطہ مہم میں یہ کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ یہ اُن کے آخری انتخابات ہیں، آئندہ وہ انتخابات کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ووٹرزاُن سے اظہار یکجہتی کررہےہیں، بعض مقامات پر تو پارٹی کارکن آبدیدہ ہوجاتےہیں، اور وہ ان سے خدمت کا یہ سلسلہ جاری رکھنے پر اصرار کرتے ہیں،وہ آج ماضی سے بھی زیادہ حلقے میں ہر دلعزیز ہیں۔حاحی بلور صاحب طویل سیاسی کیرئیر رکھتے ہیں ۔ وہ 25 دسمبر 1939کو پیدا ہوئے ، اس طر ح وہ 80 برس کے قریب ہیں۔ ا یوب خان کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی انتخابی مہم میںانہوں نے حصہ لیا اور1970 میں نیشنل عوامی پارٹی میں شامل ہوئے اور اب تک یہ رفاقت قائم ہے ۔ اپنے سیاسی سفر میں انہیں کئی بار جیل بھی جانا پڑا۔1997کی انتخابی مہم کے دوران بلور صاحب کےاکلوتے بیٹے کو قتل کردیا گیا۔بشیر بلور شہید ، حاجی صاحب کے چھوٹے بھائی تھے۔اُن کی جدائی کے بعد حاحی صاحب خود کو تنہا تنہا محسوس کرنے لگے، اور شاید وہ اسی باعث پہلے سے زیادہ کمزور ہوگئے۔ ماضی کی طرح ایک بار پھر بلورصاحب کا انتخابی حلقہ خبروں میں ہے۔ایک بات جو ان کے مخالفین بھی کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ بلور صاحب سے سیاسی اختلاف تو کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی شخصیت کے سب ہی گرویدہ ہیں ، اور یہ کہ وہ ان چند سیاستدانوں میں شامل ہیں جو بے داغ کردار رکھتےہیں‘‘۔
آپ نے خبر ملاحظہ فرمائی۔حقیقت یہ ہے کہ ہارون بلور کے غم میں ہر آنکھ اشکبار ہے۔لیکن اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ حاحی بلور صاحب کے دل میں دکھ و غم کے کیا کیا دریا موجزن ہونگے۔اس کے باوجود اُن کا صبر ، استقامت اور استقلال قابلِ تقلید اور بے مثال ہے۔بلا شبہ مولائے کریم مقام و مرتبہ اُنہیں کو عطا کرتا ہے جو اس کے اہل ہوتے ہیں۔ایسے عالم میں جب کارکن شدت جذبات سے مغلوب ہوچکے تھے ، حاجی صاحب نے اُنہیں جس کمالِ ایثار سے اپنے پرُشفقت آغوش میں لیتے ہوئے عدم تشد د کا درس دیا ، اپنے نظرئیے پر عمل کا یہ انداز تاریخ نے بہت کم کم دیکھا ہوگا۔آپ نے باچاخان اور ولی خان سے اپنی عقیدت کی لاج رکھتے ہوئے دنیا پر یہ حقیقت آشکار کردی کہ باچاخان کا فلسفہ عدم تشدد کس طرح کارگر و کارآمد ہے اور یہ کہ یہی وہ فلسفہ ہے جس کو اپنا کر امن و چین سے رہا جاسکتاہے۔راقم کو وہ زمانہ یا د ہے کہ جب مخلوط حکومت میں آپ وفاقی وزیر اور بشیر احمد بلور شہید صوبائی وزیر بنے، تو جب ولی خان صاحب کراچی آئے اور فضل کریم لالہ کے گھر میں ایک صحافی نے ولی خان صاحب سے سوال کیا کہ خان صاحب ،آپ نے دونوں بھائیوں (حاجی بلور،بشیربلور)کو وزیر بنا دیا ہے؟تو خان صاحب نے جواب دیاکہ یہ فیصلہ تو پارٹی کے فورم پر ہواہے، ویسے میں آپ کو بتادوں کہ کل جمہوری جدوجہد کیلئے اگر جیل جانے کا وقت آئیگا، تو جیل بھی دونوں بھائی جائیں گے۔پھر وقت نے ثابت کیا کہ دونوں بھائیوں نے نہ صرف یہ کہ متعدد بار زندانوں کوآباد کیا،بلکہ اس راہ میں پہلے حاحی غلام احمد بلور کے صاحبزادے شہیدہوئے ، پھر بھائی بشیر احمدبلوراور اب پھول جیسے بھتیجے ہارون بلور کو خون میں نہلادیا گیا۔حاحی صاحب!!ہم چھوٹے آپ کو کیا تسلی دینگے،ایسے غم کو بیان کرنے کیلئے الفاظ حقیر بلکہ فقیر بن کر اپنی قدر وقیمت کھو دیتے ہیں۔ آپ تو مگر صبر و استقامت کے پہاڑ ہیں،آپ ہی پر یہ مان ہے کہ آپ قوم کے ارادوں کو شکستگی سے بچانے کی خاطر یوں ہی امید کی شمع روشن کئے رکھیں گے۔اگرچہ ہم آپ کی قلبی کیفیت سے آگا ہ ہیں ...
ہوتا اگر پہاڑ تو لاتا نہ تابِ غم
جو رنج اس نگر میں یہ دل ہنس کے سہہ گیا
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں