پہلا خطاب۔تبدیلی کا نشان!

August 13, 2018
 

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پتا نہیں الیکشن کمیشن کیسے چل رہا ہے ، انتخابات کے روز میں نے چیف الیکشن کمشنر کو تین بار فون کیا ، جواب نہیں ملا ، میرے خیال میں شاید وہ اُس دن سو رہے تھے ، آر ٹی ایس بیٹھ گیا، الیکشن اچھا خاصا چل رہاتھا ،یہ اتنی اہم بات ہے کہ اگر اسکو بنیاد بنا کر غیر جانبدار کمیشن تحقیقات کرے تو دودھ کا دودوھ اور پانی کاپانی ہو سکتا ہے،میرے لئے یہ بات بڑی اطمینان بخش ہے کہ الیکشن کمیشن نے الیکشن مہم کے دوران غلیظ زبان استعمال کرنیوالے بڑے لیڈروں جن میں عمران خان، ایاز صادق ، مولانا فضل الرحمن اور پرویز خٹک شامل ہیں، کو نوٹس کیا اور سب کے غیر مشروط معافی مانگنے پر اُنکے حلقوں سے کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ۔ جبکہ عمران خان کی ووٹ راز داری پر غیر مشروط معافی بھی قبول کر لی ،میرے نزدیک یہ ’’ تبدیلی کا نشان‘‘ ہے کیونکہ اسطرح گزشتہ انتخابات میں بیگم کلثوم نواز نے نہ صرف سرعام مہر لگائی تھی بلکہ پولنگ اسٹیشن پر موجود غیر متعلقہ افراد بھی انکے ہمراہ تھے ، اُسوقت ووٹ کاسٹ کرنے کی خبر تو دی گئی مگراسکو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہ سمجھا گیا ۔ مگر اب عمران کے خلاف جتنا شور الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر مچایا گیا تو اس پر الیکشن کمیشن نےنوٹس لے لیا ۔اسکا مطلب یہ ہے کہ الیکشن کمیشن واقعتاً آزاد اور خود مختار ہو گیا ہے، جسے خواب غفلت سے جگانے کی ابھی ضرورت ہے۔ میں 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات اور خصوصاً 1988ء سے لیکر اب تک ہونیوالے تمام انتخابات کا بڑی باریک بینی سے جائز لے رہا ہوں ،پاکستان میں آج تک ہونیوالے انتخابات میں نہ صرف دھاندلی کی آوازیں اٹھیں بلکہ مختلف نئے نئے طریقوں سے اُسوقت کی ضرورتوں کے مطابق دھاندلی بھی ہوتی رہی۔ یہ دھاندلی امیدواروں کی انفرادی حیثیت سے لیکر پارٹی سطح اور ادارہ جاتی سطح پر بھی دیکھنے کو ملی، اسکی اہم ترین وجہ انتخابی نظا م کی خرابیاں تھیں ، گو وقت کیساتھ ساتھ اصلاحات ہوتی رہیں جن میں موجودہ ووٹر فہرستیں سب سے بڑا کارنامہ ہے جس کیلئے راقم کی تجاویز کا بڑا حصہ ہے ۔ 2017ء میں سیاسی جماعتوں نے کئی سال ضائع کرنے کے بعد ایک ایکٹ دیاہے ،جس میں الیکشن کمیشن کو مضبوط اور خود مختار تو بنا دیا گیا ہے مگر جس طرح کی اصلاحات کی ضرورت تھی ، جسکے ذریعے سے عام آدمی اقتدار کے منصب تک پہنچ پائے ،ایسا کوئی انتظام نہیں اور یہ ا سٹیٹس کو پر یقین رکھنے والوں کی کامیابی ہے , اب یہی اسٹیٹس کو کے حامی اور مستقل اقتدار کے مزے لینے والے ہیں، جنہوں نے الیکشن کی رات جب ابھی 30فیصد تک رزلٹ سامنے آئے تھے، ان انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیکر مسترد کر دیا اور پھر وہ سب اکٹھے ہو کر الیکشن کمیشن کے آفس کے باہر احتجاج کیلئے پہنچے اور وہ الیکشن کمیشن جسکی تعیناتی خود مل کر کی تھی اسکو غلیظ القابات سے نوازا گیا، اسے کہاگیا کہ الیکشن کمیشن کو اسکی اوقات سے زیادہ اختیارات دے دیئے ہیں، عدلیہ کیخلاف بھی نعرے بازی کی گئی ، گو پیپلز پارٹی نے یہ وضاحت کر دی ہے کہ عدلیہ کیخلاف نعروں سے ہمارا تعلق نہیں ۔ بظاہر تو یہ سب سیاسی پارٹیاں اکٹھی ہیں مگر انکی اپنی اپنی جماعتوں کے اندر ایک دوسرے کیساتھ چلنے میں بہت سے تحفظا ت ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ احتجاج کے روز اس احتجاجی تحریک کے سب سے بڑے محرک شہبازشریف کے علاوہ بلاول بھٹو ، آصف زرداری اور سراج الحق خود شریک ہی نہیں ہوئے ۔ متحدہ اپوزیشن نے گو یہ مطالبہ کر دیا ہے کہ پارلیمانی کمیشن بنایا جائے لیکن کسی نے بھی پارلیمنٹ کو چھوڑ نے کا عندیہ نہیں دیا ۔ اس صورتحال سے یہی لگتا ہے کہ یہ احتجاج صرف وقتی نوعیت کا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے اچھے اقدامات کا ساتھ دینگے۔ اس اتحاد میں شامل اسلامی تحریک اور جمعیت اہلحدیث نے بھی احتجاجی تحریک کا حصہ بننے پر اتفاق نہیں کیا، صرف مولانا فضل الرحمن اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اسکی وجہ بھی انکے طویل اقتدار سے علیحدگی ہے حالانکہ انکے مقابلے میں پی ٹی ئی کے جو امیدوار تھے انہوں نے ان کو چیلنج کیا ہے کہ وہ دوبارہ بھی انتخاب کرالیں۔


اپوزیشن دھاندلی کے جو الزامات لگارہی ہے ان میں بڑے بڑے یہ ہیں کہ الیکشن کے روز گنتی کے دوران پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال دیا گیا، آر ٹی ایس کو سازش کے تحت بند کر دیا گیا، فارم 45فراہم نہیں کیا گیا، کراچی سے دو جگہوں اور پشاور میں ایک جگہ سے کچھ بیلٹ پیپرز ملے ۔ نتائج میں تاخیر کی وجہ اس دوران دھاندلی ہے ۔ ایسے الزامات پر گزشتہ تمام انتخابات کے بعد بھی تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ۔ لیکن چونکہ دو بڑی پارٹیاں اس سے استفادہ کر کے جیتتی رہیں اسلئے انکے سدباب کیلئے انتخابی اصلاحات میں کوئی خاطر خواہ انتظام نہ کیا گیا ، الیکشن 2018ء کے بارے میں مبصرین جن میں یورپی یونین ، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان ، فافن اور پلڈاٹ جیسے ادارے شامل ہیں ، ان سب کی ایک ہی رائے ہے کہ الیکشن ڈے کا سارا عمل شفاف تھا،نہ تو اس روز کوئی جعلی ووٹ ڈالنے کی جرات کر سکا۔ نہ پولنگ اسٹیشن کا ماحول خراب تھا ، ووٹرز نے بڑے محفوظ ماحول میںاپنا حق رائے دہی استعمال کیا ۔


اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا متحدہ اپوزیشن دھاندلی کے ان الزامات کی بنیاد پر سیاست کرنا چاہتی ہے یاانکی نشاندہی کے بعد کوئی آئندہ کیلئے اصلاح چاہتی ہے ۔ اگر تو سیاست کرناچاہتی ہے تو پھر زیادہ عرصہ ایسا ہو نہیں پائیگا لیکن آئندہ کیلئے انتخابی نظام کواور زیادہ بہتر بنانا چاہتی ہے تو اسکی بڑی گنجائش ہے کیونکہ تحریک انصاف کے بھی نہ صرف انتخابی اصلاحات کے حوالے سے اپنے تحفظات ہیں بلکہ اُس نے اپوزیشن کے اس مطالبہ سے اتفاق کیا ہے کہ پارلیمانی کمیشن بننا چاہئے ،اب اس کمیشن میں نہ صرف تمام پارلیمانی جماعتوں کی نمائندگی ہونی چاہئے بلکہ اسکو اختیار ہو کہ یہ الیکشن کمیشن ، نادرا سمیت تمام متعلقہ اداروں سے پوچھ گچھ کر سکے ، الیکشن ماہرین ، ان انتخابات کا مشاہدہ کرنیوالے ملکی اور غیر ملکی اداروں کیساتھ ساتھ عوام کو بھی یہ دعوت دے کہ جس کسی کے پاس شکایات بمعہ ثبوت ہیں وہ کمیشن کو دے۔ اس کمیشن کو اختیار ہونا چاہئے کہ وہ مردم شماری سے لیکر حلقہ بندیوں ، ووٹوں کے اندراج سے لیکر پولنگ ا سکیم اور پھر ووٹ کاسٹ ہونے سے لیکر ووٹوں کی گنتی اور حتمی نتائج تک کے تمام مراحل کی تحقیقات کرے اور غیر جانبدار طریقے سے ان تمام بے قاعدگیوں اور مسائل اور ذمہ داران کی نشاندہی کیساتھ ساتھ ایک بہتر انتخابی نظام کی سفارش بھی کرے،لیکن یہ سب کچھ غیر جانبداری سے اُسوقت ممکن ہے جب موجودہ انتخابات کے نتائج کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا کیونکہ اگر کہیں خرابیاں اور بے قاعدگیاں ہوئی ہیں تو اسمیں الیکشن کے پراسیس میں شریک امیدوار ، جماعت اور ادارے کی برابر ذمہ داری ہے اور ہر کسی کو نقصان یا فائدہ ہوا ہے۔ وہ بالواسطہ ہو یابلاواسطہ ۔ اگر یہ سب سیاسی جماعتیں ملک کے اندر حقیقی جمہوریت چاہتی ہیں اور اس کیلئے انتخابی اصلاحات کو بنیاد سمجھتی ہیں تو پھر ہی ممکن ہے ، یہی تبدیلی کا نشان ہوگا ۔ عوام کو امید ہے کہ عمران خان کیلئے ’’ انتخابی اصلاحات ‘‘ اولین ترجیح میں سے ایک ہوگی اور اس کمیشن کے قیام کا اعلان وزیراعظم کا حلف اٹھانے کے بعدوہ اپنے پہلے خطاب میں کریں گے!


(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں