نئے پاکستان کا زاد سفر؟

September 04, 2018
 

وطن عزیز نے گزشتہ ستر برسوں کا سفر اچھے برے وقتوں کے ساتھ طے کیا ہے۔ ہر امیر کارواں نے ترقی و کامیابی کی نئی منزل کے خواب دکھلائے تو مگر بےبس مسافروں کو راندہ سفر کرکے خود منزل پاگئے۔ صد افسوس کہ سادہ لوح پاکستانی عوامی انقلاب اور منزل کے انتظار میں کرپٹ نظام کے ہاتھوں بلیک میل ہی ہوتے رہے۔ قصور کسی اور کا نہیں ہمارا اپنا ہےکہ آزاد و خودمختار قوم کی حیثیت سے اپنی عزت، حرمت اور طاقت کا کبھی احساس ہی نہیں کیا اور نہ ہی اپنی خودی کا اظہار کیا،2018 کے عام انتخابات میں عوامی رویے اور اس کےنتیجے میں آنے والی تبدیلی نے عندیہ دیاہے کہ اب کی بار کچھ سوچ بدلی جس کے نتیجے میں بہت کچھ بدلنے بھی والا ہے؟

نوزائیدہ عمران حکومت کی پرفارمنس کا روز کی بنیاد پر حساب کتاب کیا جا رہا ہے وہ بھی اس انداز اور بنیاد پر، جیسے ہمیشہ اقتدار کا پھل کھانے والوں نے یہاں پہلے دودھ اور شہد کی نہریں بہائیں اور اب خان نے آکر اس پر پہرہ لگا کر ماضی کےحکمرانوں اور عوام کی رسائی بند کردی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ پہلی مرتبہ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والی حکومت کے چند پرانے ناعاقبت اندیش پہلے دن سے ہی چھوٹی بڑی غلطیاں کررہے ہیں، کبھی کوئی غریب وزیراعلیٰ اپنا احساس محرومی مٹانے کو جہازی شوق پورا کر رہا ہے، کہیں کوئی بدزبانی سے اپنی اطلاعاتی خوبی کا پتہ دے رہا ہے تو کہیں ہیلی کاپٹر گروپ کا حصہ رہنے والے اہم وزیر، وزیراعظم کی پروازی سواری کا55 روپے فی کلومیٹر اخراجات کے دعوئوں سے بےچاری اپوزیشن کے دل خراب کر رہا ہے۔ جو بھی ہو مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ابھی دو ہفتے ہوئے نہیں کہ ابتدائی دنوں میں حکومت پر بدترین اور روایتی بھونڈے انداز میں تنقید اور ایک ایک لفظ کا پوسٹ مارٹم شروع کردیا جائے۔ عمران خان کی بطور کھلاڑی پرفارمنس کو سامنے رکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ٹیم سلیکشن میں ایسے کھلاڑیوں کا انتخاب کرکے فتح حاصل کرتا رہا جو جسمانی ساخت، وزن سے لے کر بولنگ ایکشن اور ظاہری شکل و صورت سے لے کر بیٹنگ کے انداز تک ناپسندیدہ سمجھے جاتے تھے، اب سیاسی میدان میں وفاق اور صوبوں میں کپتان کی سلیکٹڈ ٹیم پر بھی اس سے کہیں زیادہ لے دے ہو رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کرکٹ ٹیم میں بری پرفارمنس یا اسپرٹ کا مظاہرہ نہ کرنے والوں کو کپتان بغیر کسی توقف کے فارغ کرنے کے لئے مشہور رہے ہیں تو کیا اب وہ اس پر آنکھیں بند رکھےگا..... تو سیاسی میدان میں پہلی مرتبہ اترنے والی ٹیم پر اتنا شوروغوغہ مچانے سے کیا مقصد؟ پرفارمنس پر اتنی جلدی تنقیدی فتووں سے کیا ملے گا؟ کیا ماضی کی حکومتوں میں وزرا اعلیٰ یا وزیروں کی سلیکشن پر بھی ایسا پوسٹ مارٹم کیا جاتا تھا، کیا کبھی کسی نے اقتدار سنبھالنے والے فرض شناس وشریف وزرا کا کریکٹر چیک کیا تھا، رہن سہن اور صحافیوں سمیت عام آدمی سے رویہ جاننے کی کوشش کی تھی؟ شاید اب کی بار تنقیدی جائزے میں تیزی اور جذباتیت اس لئے بھی ہے کہ تبدیلی کے دعویداروں پر مان بہت ہے، ہر امید برلانے اور عوامی تقاضے پورا کرنے کا یقین بہت ہے، بظاہر تو لگتا ہے کہ نئے آنے والے اس سوسائٹی کے لوگ تھوڑی ہیں جہاں ایک گٹر صاف کرنے والے سے لے کر دہاڑی دار مزدور و مکینک، عام سرکاری ملازم سے لے کر بڑے بیوروکریٹ تک ہر سطح پر بے ایمانی کرنا اور دوسروں کا حق مارنا اپنا فرض سمجھا جاتا ہے۔ شاید اسی لئے نئی نویلی حکومت کو ابتدائی ایک دو ماہ کے ہنی مون پیریڈ کا چانس بھی دینے کو کوئی تیار نہیں۔ روایتی سیاست کےسبب اتحادیوں کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کے باوجود عمران خان غیر روایتی انداز حکومت اپناتے ہوئے پارٹی اور کابینہ اجلاسوں میں واضح کر چکے ہیں کہ وزرا اعلیٰ سمیت کوئی بھی مستقل نہیں جو اچھی پرفارمنس نہیں دے گا وہ ٹیم سے باہر ہوگا۔ انہوں نے میڈیا سے بھی درِخواست کی ہے کہ تین ماہ دے دیں پھر پرفارمنس دیکھیں اور احتساب کرنا شروع کردیں، اب تو عافیت اسی میں ہےکہ کپتان کے کھلاڑی سنبھل کر کھیلیں ورنہ یقینی طور پر ٹیم سے فارغ ہوجائیں گے۔

عمران خان خوش قسمت ہیں کہ وہ عوام بالخصوص نوجوانوں میں بےحد مقبول ہیں تبھی انکے100روزہ منصوبے میں ایک کروڑ نوکریوں کا مشکل ترین ہدف بھی شامل ہے، پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ عوام کی چھت کی دیرینہ خواہش پورا کرے گا۔ سب سے اچھی بات یہ ہےکہ عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے کہہ چکے تھے کہ ہر محاذ پر لڑنے کیلئے ٹیموں نے ورکنگ کر رکھی ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ ملک کی معاشی، تجارتی، معاشرتی اور زمینی و سماجی بہتری کے حوالے سے کمیٹیاں، ٹاسک فورسز اور کونسلز بن چکی ہیں، عمران خان ہر پندرہ روز بعد ہر ٹیم کے ذمہ ٹاسک کی اپ ڈیٹ لیا کریں گے، ایک بڑا فیصلہ ملک بھر میں بلدیاتی نظام کی تبدیلی کا ہے جس کیلئے براہ راست ناظم یا مئیر کا انتخاب ہوگا جبکہ عمران خان کا عزم ہے کہ امریکہ اور برطانیہ میں رائج مقامی حکومتوں کے نظام کی طرز کو اپنایا جائے تاکہ عوام کے اہم اور بنیادی مسائل گھر کی دہلیز پر حل ہوسکیں اسی مقصد کے لئے اعلیٰ سطح کمیٹی بنا کر ایک ہفتے میں نئے و موثر نظام کی تجاویز تیار کرنے اور آئندہ ایک ماہ میں وفاق اور تین صوبوں سے منظور کرانے کی ہدایت کردی گئی ممکن ہے قبل از وقت نئے بلدیاتی انتخابات کیلئے پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں اور سپریم کورٹ سےبھی رجوع کیا جائے؟ نئی حکومت کیلئے اہم محاذ اور چیلنج خارجہ پالیسی اور سیکورٹی کا بھی ہے۔ مصدقہ اطلاع یہ ہے کہ عمران خان کے 8گھنٹے کے اہم دورہ جی ایچ کیو کے دوران ایک متفقہ حکمت عملی طے کرلی گئی ، بڑی خوش قسمتی یہ ہےکہ چیف ایگزیکٹو کے طور پر آمد کےموقع پر دئیے جانیوالےپروٹوکول اور بریفنگز میں سب ایک صفحے پر آگئے اور ابتداہی سے سول ملٹری خوشگوار تعلقات کا آغاز ہوگیا ہے ۔ فیصلہ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم اور آرمی چیف بلوچستان اور فاٹا کا جلد دورہ کرکے متحارب وناراض گروپس کیساتھ مفاہمتی و علاقائی ترقی کے زینے کی بنیاد رکھیں گے۔ نئے پاکستان کی بطور فلاحی و خوشحال ریاست بننے کا زاد سفر یہی ہے ،خدا کرے سب ایسا ہی ہوجائے!

عمران خان بارہا کہہ چکے ہیں کہ ان کی اپوزیشن انتہائی کمزور ہے اور تقسیم کا شکار ہے لیکن اگر وہ اپنی طرف دیکھیں تو وہ خود بھی اقتدار کی کمزور ترین شاخ پر بیٹھے ہیں لہٰذا انہیں اپنی صفوں میں لالچی اور اقتدار کے بھوکوں پر کڑی نظر رکھنا ہوگی تاکہ وہ اس لاغر ٹہنی کو کاٹنے سے باز رہیں ۔آپ کی جانب سے پارلیمنٹ کو توقیر دینے کافیصلہ یقیناً قابل تحسین ہے اگر آپ نے عوامی، ملکی اور عالمی امور سے متعلق فیصلے جمہور کے نمائندہ ایوانوں میں کئے تو پاکستان عالمی منظرنامے پر ایک ترقی یافتہ مضبوط جمہوری ملک بن کر ابھرے گا۔ مسائل سے اٹے ملک میں پرفارم کرنے کے لئے درست سمت کے تعین کی خاطر تین ماہ کے وقت کا مطالبہ بالکل بجاہے لیکن یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ کوتاہی یا ناکامی کوئی آپشن نہیں، توقعات کےبرعکس نتائج کاپتہ ملتے ہی بظاہر منقسم اپوزیشن متحد بھی ہوسکتی ہے، توقعات سے لبریز عوام الناس کے دل بدل بھی سکتےہیں، دہائیوں کی دن رات محنت، کوششوں، منتوں اور مرادوں سے ملنے والا اقتدار دنوں میں چھن بھی سکتا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں