پاک و ہند دوستی کا ’’پل‘‘ گر گیا

September 05, 2018
 

کلدیپ نائر کا انتقال ہوگیا۔

جس طرح قدرت نے آسمان کی خوبصورتی کے لئے سورج کو تخلیق کیا ہے اور ستاروں کے جھرمٹ میں چاند کو نمایاں کیا ہے اسی طرح دھرتی کی خوبصورتی کے لئے انسان کو تخلیق کیا ہے جس طرح نظام شمسی کا متحرک سیارہ صرف اس لئے ہے کہ وہ اپنے مدار آفتاب کا طواف کرے، اسی طرح انسانوں کے گروہ اور آبادیوں کے ہجوم میں بھی انسانی تشخص میں عظیم شخصیات سوفشاں رہیں گی۔

صحافت۔۔ عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف ایک ایسی آواز کا نام ہے جس کا کوئی عقیدہ نہیں ہوتا اور نہ ہی ہونا چاہئے، صحافت جمہوری نظام کا ایک اہم ترین ستون ہے جس سے معاشرے کے مختلف طبقات کو مساوات، رواداری، ہم آہنگی، بھائی چارہ اور اخوت حاصل ہوتی ہے۔ آج صحافت کے معنی بدل گئے ہیں، بدل رہے ہیں، بدل دئیے گئے ہیں نتیجتاً بعض صحافیوں میں بھٹکنے جیسی کیفیت آگئی ہے لیکن میرے خیال میں صحافت کے ذریعے ہی معاشرے میں تبدیلی اور ترقی ممکن ہے فرض شناس صحافی اپنے ذاتی مسائل سے زیادہ عوامی مسائل اور حالات پر متفکر ہوتا ہے برصغیر کا ایک ایسا ہی فرض شناس صحافی ہمارا ساتھ چھوڑ گیا۔

کلدیپ نائر کو صحافت اور سیاست کی دنیا میں قدر و منزلت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے اور ان کو برصغیر کے تین بہترین صحافیوں میں شمار کیا جاتا ہے جبکہ کالم نگاروں میں وہ پہلے نمبر پر رہے ہیں۔ میں کلدیپ نائر کے بہت قریب رہا ہوں اتنا قریب کہ انہوں نے اپنے ایک کالم میں اس ناچیز کے بارے میں لکھا ’’اگر مجھے اسد مفتی جیسے دس آدمی مل جائیں تو میں ہندوستان اور پاکستان کے بیچ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دوستی کا باغ کھلا سکتا ہوں‘‘۔ مجھ پر جناب کلدیپ نائرکی زندگی کے ان گوشوں کی نقاب کشائی بھی ہوئی جن کی مدد سے ان کی روا داری اور متواضح شخصیت کا علم ہوا۔ یہ باخبر آدمی اپنے کالموں میں بڑے بڑوں کو ہلا کر رکھ دیتا وہ اکثر تشبیہہ، استعارے اور علامات کا سہارا نہیں لیتےتھے براہ راست عوام تک پہنچنے کا ہنر کوئی ان سے سیکھے۔ سچا اور کھرا آدمی، دروغ و مصلحت آمیزی سے کام نہیں لیتا۔ کلدیپ نائر اپنی صحافت و کالم نگاری کے آغاز ہی سے رواداری اور سیکولرازم کے زبردست حامی رہے ہیں میری نظر میں جیسا کہ میرے دوست حسن نثار نے بھی اپنے کالم میں لکھا ہے سیکولرازم کا اردو ترجمہ کلدیپ نائر ہیں۔ میرےخیال میں سیکولرازم ایک ایسی ہمہ گیر عہد آفریں اور انقلاب انگیز تحریک یا نظام ہے جس نے دنیا کے بڑے بڑے رقبے اور چھوٹے چھوٹے خطوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ملکوں کی حدیں اور سرحدیں اس کے سامنے گھر کا آنگن اور صحن بنتی چلی گئیں اس کی مخالفت تو کی جاتی ہے اس کا متبادل نہیں بتایا جاتا اور بتایا جانا ممکن بھی نہیں ہے۔ دراصل مجھے جناب کلدیپ نائرکی عظمت کا ذکر کرنا تھا لیکن بات کا سرا آگے سرک گیا۔

وقت، واقعات کا حساب کتاب بڑی تفصیل سے رکھتا ہے اور ان کے جواب بھی اور یہ جو کتابیں ہیں یہ کسی بھی قوم کا حافظہ ہوتی ہیں اور ان کتابوں کے کھونے کا مطلب حافظے کا کھونا ہے کلدیپ نائر نہ صرف مشاہیر، ہم عصر ادیبوں، صحافیوں، سیاستدانوں، ڈپلومیٹوں، فنکاروں اور دوستوں کی شخصیات کے مختلف النوع پہلوئوں کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ اپنے عصر کے حالات و واقعات، برصغیر کی تقسیم و فسادات، تاریخ و سیاست، صحافت اور رجحانات ہندو پاک پر تنقید و مسائل اور سرگرمیوں کا احاطہ بھی بڑی خوبی سے کرتے ہیں مجھے ان کی ہنرمندی سیاسی و سماجی اور معاشرتی شعور، تخیلی حسیت اور منفرد ذہانت نے بھی بے حد متاثر کیا ہے کالم نگاری و صحافت کے میدان میں اپنی آمد کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ میں صحافت کو ایک مشن اور بے سہارا و کمزور افراد کی آواز بلند کرنے کا ذریعہ جان اور مان کر اس شعبہ میں آیا اور آج تک مانتا چلا آرہا ہوں۔ دہلی میں ایک بار ان کے گھر میں ساحر لدھیانوی کا ذکرچلا، کہنے لگے،

’’تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا‘‘

انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا

یہ صرف ایک گیت نہیں ہے بلکہ انسانیت کا ایک خاکہ ہے جسے ساحر لدھیانوی نے اپنے لفظوں میں کھینچا ہے۔ ان کے خیال میں فسادات تقسیم کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ تقسیم کو یقینی بنانے کا ذریعہ تھا۔ فسادات ایک بڑے منصوبے کے تحت کروائے گئے تاکہ واپسی کا راستہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کیا جاسکے انہوں نے بتایا کہ کئی ہندو اور سکھ خاندانوں نے اپنے مکانوں دکانوں حویلیوں اور کارخانوں کی کنجیاں امانت کے طور پر اپنے مسلمان ہمسائیوں کو دے دیں تھیں کہ چند روز کے بعد جب فسادات رفع دفع ہوجائیں گے تو ہم واپسی اپنے ’’گھر‘‘ آجائیں گے لیکن مارچ 1947ء کے فسادات کے بعد ہی دوبارہ اکٹھے رہنے کی تمام امیدوں نے دم توڑ دیا تھا اس کے بعد کی ’’اطمینان یافتہ‘‘ صورت حال دیکھ کر تقسیم کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا۔

سسکیاں کس زبان میں لکھوں

آج الفاظ آبدیدہ ہیں!

کلدیپ نائر نے ہندو پاک کومحبت بھرا انسان دوستی و امن و امان کا پیغام دیا ہے اس پیغام کی اہمیت اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب برصغیر میں ہر سو بے چینی و بے امنی کا ماحول ہو ،آج دونوں ملکوں کو انسانیت کے نام پر ان کے پیغامات کی سخت ضرورت ہے اس کے بغیر حیات انسان کا کارواں آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ہندو پاک بالخصوص پاکستان کے تناظر میں کلدیپ نائرکے افکار و نظریات کی اہمیت و ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ بھارت میں پاکستان کے ’’سفیر‘‘ سمجھے جاتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے اور ٹھیک سمجھتے تھے کہ دونوں ملکوں میں مثبت اور بھائی چارے کی سوچ پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور یہ سوچ ہر سطح پر پیدا ہونی چاہئے تاہم ’’سخنے و قلمے‘‘ کوششوں کو نظرانداز کرنا بھی درست نہ ہوگا کہ بہرحال ان کوششوں سے درد کے اس احساس کا پتہ چلتا ہے جوہم لوگوں کو مضطرب اور بے قرار کئے ہوئے ہے۔

اب کیا بتائوں کلدیپ نائرکے نہ ہونیکا مطلب کیا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں