سی پیک کی توسیع: مستحسن فیصلہ

September 11, 2018
 

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ دو ملکوں ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی خوشحالی کا ضامن ثابت ہوگا، اس امر کے واضح شواہد موجود ہونے کے باوجود بعض بین الاقوامی حلقے اس تشویش کا شکار چلے آرہے ہیں کہ یہ دنیا پر چین کی بالادستی کا سبب بنے گا ۔ تاہم چین اور پاکستان نے گزشتہ روز دونوں ملکوں کے مشترکہ دوستوں کو بھی ساٹھ ارب ڈالر مالیت کے اس منصوبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دینے پر اتفاق کرکے شکوک و شبہات کا دروازہ بند کرنے کی مؤثر کوشش کی ہے۔علاوہ ازیں دونوں ملکوں نے سماجی شعبے اور علاقائی ترقیاتی اسکیموں کو اس منصوبے کا حصہ بنانے پر بھی رضا مندی کا اظہار کیا ہے جس سے اس عظیم منصوبے کوزیادہ مفید بنانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔یہ فیصلے پاکستان کے کمیشن برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اور چین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کمیشن کے چار گھنٹے طویل مشترکہ اجلاس میں کیے گئے۔ پاکستانی وفد کی سربراہی وزیر برائے منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار نے کی جبکہ این ڈی آر سی کے نائب چیئرمین ’نینگ جزہے‘ نے چینی وفد کی قیادت کی۔ذرائع کے مطابق چین نے دونوں ملکو ں کے مشترکہ دوستوں کی اسپیشل اکنامک زونز میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا کیوں کہ وہ اس منصوبے کے لیے ہونے والے معاہدوں پر امریکہ اور بھارت کی جانب سے شفافیت کے حوالے سے ہونے والی منفی تنقید کا خاتمہ چاہتا تھا جبکہ منصوبے میں دوسرے ملکوں کو سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرنے سے جن میں وسطی ایشیائی ریاستیں، ترکی، روس ، سعودی عرب اور یورپی ممالک شامل ہوسکتے ہیں، ان خدشات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔پاکستان کی خواہش پر سی پیک میں صاف پانی، صحت، تعلیم اور تکنیکی تربیت جیسے سماجی بہتری کے منصوبوں کو بھی شامل کرنے پر اتفاق کرکے چین نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ پاکستان کا سچا دوست ہے۔ ان مستحسن فیصلوں کے نتیجے میں سی پیک کی افادیت میں یقینا مزید اضافہ ہوگا اور پوری دنیا کی خوشحالی کے راستے کھلیں گے لہٰذاعالمی برادری کو اس معاملے میں تنگ نظری سے اجتناب کرنا اورکشادہ دلی سے کام لینا چاہئے۔


مکمل خبر پڑھیں