سی پیک، قومی ترجیح

September 12, 2018
 

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) پر جب سے عملدرآمد شروع ہوا ہے۔ بھارت اور بعض مغربی ممالک کی مخصوص لابی اسے سبوتاژ کرنے کے لئے مسلسل سرگرم ہے۔ اس سلسلے کی تازہ کڑی ایک برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی یہ رپورٹ ہے جس میں وزیراعظم کے مشیر صنعت و تجارت عبدالرزاق دائود کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت سی پیک منصوبے پر نظرثانی کرنا اور فی الحال ایک سال کے لئے اس پر عملدرآمد روکنا چاہتی ہےمعاملہ اتنا سنجیدہ ہے کہ پاکستان اور چین، دونوں ملکوں نے فوری طور اس کی تردید کرتے ہوئے منصوبے کی افادیت اجاگر کی ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صاف کہا ہے کہ سی پیک کے حوالے سے مشاورت کے ذریعے پاکستان کی معاشی اورسماجی ترجیحات کو اولیت دی جائے گی درحقیقت دونوں ملکوں نے منصوبے پر عملدرامد کی رفتار بڑھانے پر اتفاق کیا ہے اور دفاع اور سکیورٹی سمیت تمام شعبوں میں دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم بنانے کا فیصلہ کیا ہے چینی وزارت خارجہ نے برطانوی اخبار کی رپورٹ کو ’’ناپاک ارادے سے مسخ شدہ تفصیلات پر مبنی‘‘ قرار دیا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی کہا ہے کہ پاکستان منصوبے پر کامیاب عملدرآمد کے لئے پرعزم ہے۔ چینی وزیر خارجہ کے دورے کے دوران باہمی مذاکرات میں سی پیک تعاون کو مزید شعبوں تک توسیع دینے پر اتفاق ہوا ہے اور پاکستان کی نئی حکومت کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ سی پیک حکومت کی قومی ترجیح ہے۔ مشیر صنعت و تجارت نے برطانوی اخبار میں ان سے منسوب انٹرویو کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹرویو کے کچھ حصے سیاق و سباق سے ہٹ کرپیش کئے گئے ہیں مسلم لیگ ن کے تین سینیٹروں نے اس معاملے پر بحث کے لئے سینٹ میں تحریک التوا پیش کردی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ گوادر سے کاشغر تک ون بیلٹ ون روڈ کے چینی وژن کا حصہ ہے۔ اس کے تحت چین پاکستان میں تقریباً 60ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ چین نے یہ سرمایہ کاری ایسے حالات میں شروع کی جب سابق وزیر اقتصادی منصوبہ بندی احسن اقبال کے بقول کوئی ملک یہاں دس روپے لگانے کو بھی تیار نہیں تھا۔ منصوبے پر عملدرآمد سے نہ صرف پاکستان میں انفرا اسٹرکچر بہتر ہو گا بلکہ تجارتی سرگرمیاں بھی تیز ہوں گی اور عوام کی معاشی حالت میں انقلاب آئے گا۔ نتائج کے اعتبار سے یہ پاکستان ہی نہیں پورے خطے کے لئے گیم چینجر ثابت ہو گا۔ منصوبے کی سب سے زیادہ مخالفت بھارت کر رہا ہے۔ اس نے سی پیک کے خلاف پراپیگنڈہ مہم کے لئے خصوصی سیل قائم کر رکھا ہے۔ اس معاملے میں اسے امریکہ کی بھرپور حمایت حاصل ہے کیونکہ وہ چین کے مقابلے میں بھارت کو کھڑا کرنا چاہتا ہے، جہاں تک چینی کمپنیوں کو ملنے والی مراعات کا تعلق ہے تو جو بھی ملک کسی دوسرے ملک میں سرمایہ کاری کرتا ہے اس طرح کی مراعات تو لیتا ہے۔ مغربی ممالک بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کی بھاری قیمت وصول کرتے رہے ہیں۔ تاہم منصوبے پر عملدرآمد کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیتے رہنا چاہئے اور اگر کوئی غلطی نکلے یا غلط فہمی پیدا ہو تو اس کا باہمی مشاورت سے ازالہ کیا جانا چاہیئے۔ برطانوی اخبار نے متنازع رپورٹ شائع کر کے چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے کی جو مذموم کوشش کی ہے وہ بھارت اور مغربی دارالحکومتوں میں ہونے والی سازشوں کا حصہ ہے جن کا مقصد ایک طرف اس عظیم اقتصادی منصوبے کو ناکام بنانا اور دوسری جانب پاک چین دوستی میں دراڑیں ڈالنا ہے۔ اچھا ہوا کہ دونوں ملکوں نے اس رپورٹ کا بروقت نوٹس لیا اور ہر قسم کے شکوک و شبہات کی تردید کردی یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے باقی ممالک کے لئے بھی اقتصادی ترقی کا دروازہ کھولنے کا سبب بنے گا یہی وجہ ہے کہ ایران افغانستان اور کئی دوسرے ممالک نے بھی اس میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا ہے پی ٹی آئی حکومت کو چاہئے کہ سابق حکومت کی قائم کردہ پارلیمانی کمیٹی برائے سی پیک کا احیا کرے اور منصوبے کی کامیابی میں کسی طرح کی کوئی بھی رکاوٹ حائل نہ ہونے دے۔


مکمل خبر پڑھیں