تعمیرات میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات

September 01, 2019

اکثر ہم بڑے بڑے گھر اور بلند عمارتیں تو تعمیر کرلیتے ہیں لیکن حادثات سے بچاؤ، خاص طور پر آگ لگنے سے محفوظ رکھنے والے انتظامات اور تدابیر کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے زیادہ تر واقعات کچن میںہوتے ہیں، جہاں سے پھیلنے والی آگ پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میںلے لیتی ہے۔ اس ضمن میں وہاں محفوظ گیس پائپ لائن یا الیکٹرک وائرنگ کروائی جائے، تاکہ آگ لگنے کے واقعات ختم ہوجائیں۔ اسی طرح غیر معیار ی وائرنگ اور اس میں استعمال کئے جانے والے غیر معیاری تار اور آلات بھی شارٹ سرکٹ کا باعث بنتے ہیں، جو آگ لگنے کے واقعات میںاضافہ کرتے ہیں۔

دفاتر اور بلند و بالا عمارتوں میںہنگامی حالات بالخصوص آگ لگنے کی صورت میں اخراج (Emergency Exit)کے راستے نہ صرف موجود ہوں بلکہ تصاویر کی صورت میںرہنمائی بھی کی گئی ہو۔ مزید یہ کہ آگ بجھانے کے آلات باقاعدہ کام کررہے ہوں اوران کی موزوں دیکھ بھال بھی کی جارہی ہو۔ ساتھ ہی ہر چھ ماہیا سال میں فائر فائٹنگ کی مشقوںکے لیے بھی لازمی انتظامات کیے جائیں تاکہ نقصانات کا احتما ل کم سے کم ہو۔

آگ لگنے کے واقعات دنیا بھر میںہوتے ہیں لیکن فوری رد عمل اور حفاظتی اقدامات کےباعث ان سے نقصانات کم ہوتے ہیں، تاہم پاکستان میں صورتحال کچھ اچھی نہیں۔ بعض ممالک میںفائر فائٹنگ کے ادارے اپنے نمائندوں کو گھر گھر بھیج کر آگ سے بچاؤ کی تربیت فراہم کرتے اور خطرات سے آگاہ کرتے ہیں لیکن پاکستان میںآگ سے بچاؤ کی تدابیر کے بارے میںدلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔

گھریلو آگ کی اقسام

ماہرین نے گھر میں لگنے والی آگ کو پانچ اقسام میںتقسیم کیا ہے ۔

٭پہلی قسم کی آگ Aکہلاتی ہےجو کہ ٹھوس چیزوں جیسے پلاسٹک ، کاغذ ، لکڑی وغیرہ میں لگتی ہے۔

٭دوسری قسم B کہلاتی ہے جو مائعات جیسے پیٹرول، مٹی کے تیل سے لگتی ہے۔

٭تیسری قسم C ہوتی ہے جو مختلف گیسوںکےنتیجے میںبھڑکتی ہے۔

٭چوتھی قسم Dہوتی ہے جو دھاتوں(المونیم اور میگنیشیم وغیرہ ) سے لگ سکتی ہے۔

٭پانچویں قسم کو Fیا Kکہاجاتا ہے جو کوکنگ آئل وغیرہ سے لگتی ہے۔

برقی آلات سے لگنے والی آگ کی قسم Aہوتی ہے۔ ایک عام تاثر یہ پایا جاتاہے کہ جب بھی آگ لگے اس پر پانی ڈال دولیکن ایسا کرنا ہرقسم کی آگ کیلئے مناسب نہیںہے کیونکہ ہوا میں موجود آکسیجن ملنے سے آگ مزید بھڑک سکتی ہے۔ اس ضمن میںبھی آگہی کی ضرورت ہے۔

آگ بجھانے والے آلات

ہر گھر میںآگ بجھانے والا ایک آلہ تو لازمی ہونا چاہئے۔ آگ بجھانے والے آلات کو فائر ایکسٹنگویشر (Fire Extinguisher)کہا جاتا ہے۔ جس طرح آگ مختلف اقسام کی ہوتی ہے، اسی طرح اسے بجھانے کیلئے فائر ایکسٹنگویشر بھی مختلف ہوتے ہیں، مثلاً واٹر ایکسٹنگویشر، فوم ایکسٹنگویشر، ڈرائی کیمیکل ایکسٹنگویشراور کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2)ایکسٹنگویشر۔ یہ تمام فائر ایکسٹنگویشرز مارکیٹ میںبآسانی دستیاب ہوتے ہیں اور ان پر لگے لیبل سے پتہ چل جاتا ہے کہ انہیںکن حالات میںاور کیسے استعمال کرنا ہے۔ اس کے علاوہ دوران تعمیر یا مکان میںشفٹ ہونے سے پہلے اسموک ڈیٹیکٹر اور ہیٹ ڈیٹیکٹربھی لگوائے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آگ بجھانے کی تدابیر میں فائر بلینکٹ کو بھی شامل کیا جاسکتاہے۔ عموماً دن کے اوقات میںخواتین گھر میںاکیلی ہوتی ہیں، اس لیے انہیں فائر ایکسٹنگویشر کا استعمال لازمی سیکھنا چاہئے تاکہ خدانخواستہ آگ لگنے کی صورت میںفوری سد باب کیا جاسکے۔

کچن میں احتیاط

ایک رپورٹ کے مطابق 60فیصد کیسز میں گھر میں لگنے والی آگ کچن سے شروع ہوتی ہے، جس میں سے 19فیصد آگ فرائی پین جیسے برتنوں کے استعمال کے نتیجے میں لگتی ہے۔ لہٰذا کچن میںکام کرنے والی خواتین کو انتہائی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اور انہیںچولہے کو جلتا چھوڑ کر کسی اور کام، خاص طور پر موبائل استعمال کرنے میں مصروف نہیںہونا چاہئے۔ کسی بھی قسم کا کپڑا چولہے کے پاس نہ رکھیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اوون، چولہے، گرل فین اور دیگر آلات پر کسی قسم کا گھی، تیل یا چکنائی نہ لگی ہو کیونکہ یہ جلد ہی آگ پکڑ لیتے ہیں۔ آگ لگنے کیصورت میںتمام تر حفاظتی اقدامات اور آگ بجھانے کے آلات استعمال کرنے کے باوجو د بھی اگر آگ نہ بجھ رہی ہو توکچھ مشوروں پر عمل کریں ۔

٭ افراتفری میںحواس کھونے سے بہتر ہےکہ خود کو پرسکون رکھتے ہوئے تمام لوگوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کریں۔

٭ آگ کی وجوہات جاننے کی کوشش نہ کریں بلکہ کسی محفوظ مقام پر پہنچ کر فائربریگیڈ کو فون کریں ۔

٭ کمرے میںدھواں بھر رہا ہوتو رینگ کر نکلنے کی کوشش کریں۔ دھواں ہوا سے ہلکا ہوتا ہے ، آپ زمین سے قریب رہتے ہوئے بآسانی باہر نکل سکیں گے اور دم بھی نہیںگھٹے گا۔

٭ دروازہ کھولنے سے قبل اس کا ہینڈل یا ناب چیک کرلیں، بہت زیادہ گرم ہونے سے کہیں آپ کا ہاتھ نہ چپک جائے یا زخمی ہو جائے۔

٭ دروازہ اگر بہت گرم ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دوسری طرف آگ ہے ، اسے کھولنے کی کوشش نہ کریں ورنہ دروازے کے کھلتے ہی آگ آپ تک پہنچ سکتی ہے۔

٭ خدانخواستہ آ پ کو یا کسی اور کو آگ لگ جائے تو بھاگیںمت بلکہ زمین پر لیٹ جائیں اور اپنے دونوں ہاتھوں سے چہرے کو ڈھانپ کر لوٹنیاں لگائیں۔ آپ بھاگیںگے تو ہوا کی وجہ سے آگ مزید بھڑکے گی۔

٭ اگر قریب کوئی بھاری کمبل یا چادرہو تو فوراً آگ والے حصے پر ڈالیں تاکہ وہ فوری طور پر بجھ سکے، یہ طریقہ بچوں اور خواتین کو لازمی سکھانا چاہئے۔