Advertisement

عراق کا حالیہ بحران

November 06, 2019
 

عراق ایک بار پھر سولہ برس بعد شدید احتجاج اور بڑے مظاہروں کی زد میں آگیا ہے لگ بھگ ایک ماہ کا عرصہ ہوچکا ملک کے طول و عرض ہنگاموں اور حکومت مخالف احتجاج کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ذرائع کے مطابق جاری مظاہروں میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں تقریبا ً پانچ سو شہری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکےہیں۔

آئی اے نے احتجاج کیاہے کہ سیکورٹی اہلکار مظاہرین پر جو ربڑ کی گولیاں چلا رہے ہیں وہ عام ربر کی گولی سے دس گنا زیادہ طاقتور ہے جو فوجی جنگ میں بھی استعمال کرتے ہیں، اس کے علاوہ آنسو گیس کے بے شمار گولے پھینکے گئے اور نشانہ بناکر عوام پر فائرنگ کی گئی، جس پر شیعہ رہنما علی السیستانی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت دو ہفتوں کے اندر ان پیشہ ور نشانچیوں کا پتہ لگائے اور انہیں گرفتار کیا جائے جو نشانہ بناکر مظاہرین کو ٹارگٹ کررہے تھے۔

اکتوبر کا مہینہ عراق کے عوام کے لئے بہت بھاری گزرا ۔ عوام کا احتجاج اور غم و غصہ بڑھتا جارہا ہے۔ان کا کہناہے کہ ملک میں شدید بے روز گاری ، مہنگائی اور کرپشن ہے ۔ موسم گرما میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ الگ، یہ حکومت کی نااہل ہے۔ عوامی نمائندوں کا دعویٰ ہے کہ ایران ملکی سیاست میں مداخلت کررہا ہے اور اس کا اثر بڑھ رہا ہے۔ حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے ملک کی اشرافیہ کو خوش کرنے پر مامور ہوچکی ہے۔ بے روزگاری کا عفریت پورے معاشرے کو نگل رہا ہے۔ بے روزگاری کی شرح بڑھ کر سترہ فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ملک کے چار کروڑ عوام روزانہ دو ڈالر پر گزارہ کرنے پر مجبور ہیں اور سالانہ فی کس آمدنی نچلی سطح پر آچکی ہے۔

عوام حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ حکومت نااہل ہے اور کابینہ میں شامل وزراء بدترین کرپشن میں ملوث ہیں۔ عراق کے صدر برہام صالح نے کہا کہ وہ وزیراعظم عادل مہدی کو عہدے سے سبکدوش کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس کے بعد جلد نئی پارلیمان لے آئیں گے اور عوامی مطالبات بھی پورے ہوں گے، مگر عراقی عوام بھپرے ہوئے ہیں وہ اس طرح کے وعدے اور مصنوعی اعلانات برداشت کرتےکرتے تنگ آچکے ہیں۔اب وہ ملک میں حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ عراق دنیا میں تیل پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے، اس کے علاوہ دیگر قیمتی معدنیات سے بھی مالا مال ہے۔ عراق کی اشرافیہ انتہائی دولت مند ہے اور ان کی دولت میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہا ہے، جبکہ عوام الناس غریب سے غریب تر ہوتے جارہے ہیں۔

بغداد کے التحریر اسکوائر پر عوام کا ہجوم حکومت کے خلاف مسلسل نعرے لگارہاہے، مظاہرے ہورہے ہیں۔ حکومت وعدے کررہی ہے۔ اس تناظر میں عراق کے مقبول سیاسی شیعہ رہنما مقتدر الصدر نے کہا کہ حکومت نے اگر جلد ہی کوئی فیصلہ نہیں کیا اور عوام کے مطالبات تسلیم نہیں کئے تو وہ اپنے ساتھیوں سے پارلیمان چھوڑ دینے کو کہیں گے۔ الصدر کا نچلے طبقہ میں بہت زیادہ اثر ہے ۔وہ معروف شیعہ ملیشیا کے کمانڈر بھی ہیں جو عراق میں فلاحی کاموں کی وجہ سے بھی ایک شہرت رکھتی ہے۔ عراق میں ساٹھ فیصد شیعہ مسلک، چالیس فیصد سنی مسلک سے وابستہ لوگ آباد ہیں۔

ان میں اٹھتر فیصد عرب، پندرہ فیصد کرد اور باقی دیگر لسانی اور نسلی دھڑے ہیں۔ عراق کی تاریخ گیارہ ہزار سال سے زائد عرصے سے پرانی ہے۔ دنیا کے اہم تہذیب یافتہ خطوں میں شمار ہوتاہے۔ عظیم تہذیبوں اور حکومتوں نے یہاں جنم لیا، عروج پایا، پھر زوال پذیر ہوگئیں۔ اسلامی تاریخ میں بنو عباس کے دور میں بغداد دنیا کا خوبصورت ترین اور امیر ترین شہر کہلاتا تھا۔ دنیا کی عظیم علمی، ادبی، سائنسی ہستیاں یہاں علم کے چراغ روشن کرکے دنیا کے اندھیرے مٹا رہی تھیں۔

اس کو رنگوں، روشنیوں اور خوشبوئوں کا شہر بھی کہا جاتا تھا۔سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں یورپی نوآباد کاروں نے مشرق وسطی سمیت دنیا کے دیگر خطوں کو بھی تباہ و تاراج کیا۔ مشرق وسطیٰ کی سلطنتوں کو فرانس اور برطانیہ نے نئے نقشوں میں بانٹ دیا اور یہاں کی تمام قدرتی دولت پر قبضہ کرکے اس کا بھرپور استعمال کیا، تب سے مشرق وسطیٰ پسماندگی، خستہ حالی اور بدنظمی کا شکار رہا۔ فرانسیسی اور برطانوی نوآبادکاروں نے ایک بڑا ظلم یہ کیا کہ سلطان صلاح الدین کرد کی بہادری کا بدلہ لینے اور اس کا یروشلم فتح کرنے کے جرم میں کردستان کو چار حصوں میں تقسیم کردیا۔ کردستان کی ریاست جو زیادہ تر پہاڑی سلسلوں پر پھیلی ہوئی تھی، اس کا ایک حصہ ترکی، دوسرا عراق، تیسرا شام اور چوتھا حصہ ایران کے پاس آگیا۔ آج غیور اور بہادرکرد عوام چار حصوں میں تقسیم ہیں۔

سال 2006میں عراق میں نیا دستور بنایا گیا، جس کے تحت مجلس النواب کا قیام عمل میں آیا۔اس عراقی پارلیمان میں اراکین کی تعداد تین سو انتیس رکھی گئی۔ عراق کی سالانہ فی کس آمدنی چار ہزار ڈالر ہے۔ تین دہائیوں پر محیط جنگوں، دہشت گردی، لوٹ مار اور خانہ جنگی نے عراق کی معیشت، معاشرت، انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا۔ صدر صدام حسین کے دور میں عراق خوشحال ملک شمار ہوتا تھا۔ بجلی، پانی، صحت عامہ اور تعلیم کے شعبے مستحکم تھے۔ 2008میں عراقی حکومت نے امریکا سے وسیع تر معاہدہ کیا جس کے تحت امریکا عراق کے تمام شعبوں کی ترقی کے لئے جدید ٹیکنالوجی فراہم کرے گا۔

امریکا نئی صدی کے پہلے عشرے میں ٹریڈ ٹاورز کے سانحے سے گزرا۔ القاعدہ اور امریکا کی سرد اور گرم جھڑپیں نوے کے عشرے میں جاری ہوگئیں تھیں۔ امریکا اور اس کے اتحادی مشرق وسطیٰ میںاس وقت کے عراقی صدر، صدام حسین اور شام میں صدر حافظ الاسد کو اپنا شدید نظریاتی حریف تصور کرتے تھے اور ان کی حکومتوں کا خاتمہ چاہتے تھے۔ بعدازاں مغرب نے اس فہرست میں صدر معمر قذافی کا نام بھی شامل کرلیا تھا۔ امریکا جارج بش دوئم کی حکومت میں ایک نیو کونز گروپ تشکیل پایا۔ اس قدامت اور شدت پسند گروپ میں صدر بش، برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر، امریکی فوجی سربراہ ،کولن پاول اور وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس شامل تھے، انہوں نے صدر صدام کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کیا کہ، صدام جوہری ہتھیار بنانے کی تیار کررہے ہیں، ساتھ ہی عراق میں کیمیاوی ہتھیار بھی جمع کررہے ہیں۔

اس پروپیگنڈے کے پس منظر میں صدر صدام کی حکومت کو خطہ کے امن اور عالمی امن کے لئے خطرہ کہنا شروع کیا اور عراق سے جنگ کی تیاری کا ماحول بننا شروع ہوا۔ اس ضمن میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے امریکی حکومت کو خبردار کیا کہ عراق سے جنگ امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کو بھاری پڑے گی۔ اس کے مستقبل میں بہت مہیب اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ویٹی کن سے پوپ جان پال نے بھی عراق سے جنگ نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ امریکی کانگریس کے دو سو نو اراکین میں سے ایک سوپچیس اراکین نے جنگ کی شدت سے مخالفت کی۔ فرانس اور جرمنی کے وزراء خارجہ نے بھی عراق سے جنگ کو خطرناک نتائج کا حامل فیصلہ قرار دیا۔

2003میں امریکا اور برطانیہ نے پوری شدت سے عراق پر حملہ کردیا۔ اس جنگ کو امریکا نے ’’آپریشن عراق کی آزادی‘‘ کا عنوان دیا۔ اس جنگ میں امریکی صدر بش اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کا کردار عالمی تنقید کا نشانہ بنتا رہا، مگر نیو کانسز یہودی دانشوروں کا نظریہ ہے جس میں وہ مشرقی وسطیٰ میں اسرائیل کا دفاع اور خطے میں امریکی سیاسی اثرات اور رسوخ میں اضافے کو اہمیت دینا ہے۔ 2002میں ٹریڈ ٹاورز پر حملے کے بعد سے یہ پروپیگنڈہ شروع کیا کہ عراق، ایران اور شمالی کوریا تین شیطانی ریاستیں ہیں جن سے پوری دنیا کو خطرہ ہے اور اب امریکا ٹریڈ ٹاورز پر حملے جیسے دوسرے واقعہ کا انتظار نہیں کرسکتا۔

سابق امریکی صد،ر بش کے نیو کانسز میں نائب صدر ڈیک چینی، وزیر دفاع ڈونالڈریمس فیلڈ، وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس، فوجی سربراہ کولن پاول اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر شامل تھے، جو صدر جارج بش کے نظریہ کی بھرپور حمایت کررہے تھے۔ ایک اطلاع کے مطابق ان میں زیادہ تر تیل کی کمپنیوں کے مالک شیئر ہولڈرز تھے۔ ٹونی بلیئر کی تیل کی کمپنی تھی۔ 2003میں امریکا اور برطانیہ نے عراق پر بھرپور حملہ کیا۔ پورے ملک میں جنگ کے شعلے بھڑکادیئے۔ صدر صدام کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا، بعدازاں انہیں گرفتار کرکے اذیتیں دے کر موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔

عراق میں اربوں ڈالر کا تیل اسمگل اور ملک میں لوٹ مار کا بازار گرم کیا گیا۔ عراق کی سیاست، معیشت، معاشرت تباہ کردی گئی۔ ملک کو مذہبی، نسلی، لسانی، مسلکی اور انارکی دلدل میں دھکیل دیاگیا۔ عراق میں القاعدہ مضبوط ہوئی۔ ابو غریب کے قیدیوں نے جیل توڑ کر فرار حاصل کی، ان میں سے بیش تر نے دولت اسلامیہ عراق شام یا داعش قائم کی اور دہشت گردی کا ایک طویل، خوفناک سلسلہ مشرقی وسطیٰ اور دنیا کے دوسرے ممالک میں پھیلا۔

صدر صدام پر جو الزامات لگائے گئے تھے وہ تمام غلط ثابت ہوئے۔ ٹونی بلیئر نے معافی مانگی اور قبول کیا کہ عراق کے پاس کیمیاوی ہتھیار نہیں تھے۔ امریکی عوام کو پتہ چلا کہ صدر صدام حسین اور لیبیا کے صدر معمر قذافی کو منظر سے ہٹا کر مغرب نے بڑی غلطی کی ان کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں طاقت کا جو توازن قائم تھا وہ ختم ہوگیا اور دہشت گرد سر چڑھ کر کارروائیاں کرنے لگے۔ عراق کا حالیہ بحران بھی ماضی قریب کے بحرانوں کا سلسلہ ہے۔


مکمل خبر پڑھیں