چائلڈ سولجرز

March 31, 2013
 

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے ساتھ تعاون سے بہت سے بچوں کی ماؤں کے احتجاج کے بعد ان میں سے کچھ بچوں کو چھوڑ دیا گیا ہے لیکن اب بھی ایک بڑی تعداد میں کم عمر بچے برما کی فوج میں موجود ہیں۔ جس کی ایک بڑی وجہ تو اس ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی اور سیاسی صورت حال ہے۔ برما میں ریاست اورکاچن سٹیٹ اور اقلیتی گروہوں کے درمیان کشمکش اور لڑائی جاری ہے۔ ایسی صورت میں ورلڈ ویژن اور دیگر فلاحی آرگنائزیشنز کے ذریعے چائلڈ سولجرز کو رہائی اور تحفظ دینے کی کوشش کی جارہی ہیں۔ ”یونیسیف“ اور ”سیودی چلڈرن“ بھی اس سلسلے میں کام کررہی ہیں۔برما کے علاوہ افریقہ میں بھی چائلڈ سولجرز سب سے زیادہ جنگی معرکوں میں استعمال ہورہے ہیں۔ سیرا لیون (Siera Leone) کی خانہ میں بچوں نے باغی اور انقلابی گروہوں کے درمیان جھڑپوں اور لڑائیوں میں حصہ لیا ہے۔
Froul United Revolutionary (RUF) کسی بھی علاقے پر حملے کے بعد اکثر بچ جانے والے بچوں کو اغوا کرلیتے ہیں۔ یہ بچے موقع ملتے ہی RUF کے کیمپوں سے فرار ہوجانے کے بعد Kamajors میں شامل ہوجاتے ہیں۔ یہ وہ بچے ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے ماں باپ کو اپنی آنکھوں کے سامنے ایسی جھڑپوں میں مخالف گروہوں کے ہاتھوں ذبح ہوتے دیکھا ہوتا ہے۔ Kamajors میں شامل ہونے کے بعد انہیں تحفظ اور خوراک میسر آجاتی ہے۔ سیرا لیون میں RUF کیمپوں میں قیدی زبوں حال بچوں کو تربیت دی جاتی ہے اور ان کو دھمکایا جاتا ہے کہ حکم نہ ماننے یا بھاگنے کی کوشش میں انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔ اگر ان میں سے کوئی بھی بھاگنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے بہیمانہ طور پر اذیت ناک موت دی جاتی ہے۔
AK-47 جیسے ہلکے ہتھیاروں کی تیاری اور ترسیل کا مقصد بھی یہی ہے کہ کم عمر اور 8 سال تک کی عمر کے بچوں کو ان ہتھیاروں کے استعمال کے لئے تیار کیا جائے۔ اس طرح کی جنگوں میں ان چھوٹے لڑکوں کو خطرناک پوزیشنز پر دشمن کے قریب رکھا جاتا ہے اور ان کو بے خوف اور حوصلہ مند بنانے کے لئے ان پر ڈرگز کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ اکثر جنگی معرکوں میں بچوں پر قبضہ کرکے ان کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اس طرح وہ ہر اس گروپ کے لئے لڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جس کے وہ قبضہ میں ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس زندہ بچنے کا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔ اگر وہ فرار کی کوشش کرتے ہیں تو مارے جاتے ہیں اور ان بچوں کے گھر واپس جانے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوتا۔
آج چائلڈ سولجرز ایک عالمی توجہ طلب مسئلہ ہے کیونکہ جنگجوؤں اور اس کے قاتلوں نے ان معصوم بچوں کو وحشی اور سنگدل بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ بچوں کو جنگی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے اثرات و نتائج انتہائی مہلک اور خطرناک ہوکر سامنے آسکتے ہیں۔ وہ کم عمری میں پر تشدد حالات اور رویوں سے گزرنے کے بعد انتہائی سنگدلانہ ذہنیت اور احساس کے مالک ہوجاتے ہیں۔ شخصیت سازی کے نازک ترین دور میں انہیں جس نفسیاتی اور ذہنی تباہی سے گزرنا پڑتا ہے وہ پوری انسانیت اور اس دنیا کے امن کے لئے ایک چیلنج اور سوال بن کر کھڑا ہوا ہے۔ کیا کرہٴ ارض پر امن و محبت ، شادابی اور خوشحالی کا خواب شرمندہ ٴ تعبیر ہوسکتا ہے جبکہ دو لاکھ 50 ہزار چائلڈ سولجرز جنگ کی آگ میں جھونک دیئے گئے ہیں جس میں 40 فیصد کم عمر لڑکیاں بھی شامل ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں