آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
نئی حکومت کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں یہ ایک انتہائی حساس اور نازک مسئلہ ہے اور اس پر بہت بحث اور اظہار خیال ہو رہا ہے۔ مگر ایک دفعہ پھر اپنی پرانی بات کو دہراتے ہوئے کہوں گا کہ دور سے دیکھنے سے مسئلے اور ان کی اصلی صورت زیادہ واضح نظر آتی ہے اور روزوشب کی بیان بازی اور الزام تراشی اور اکثر گالی گلوچ سے ہٹ کر چیزیں کچھ صاف نظر آتی ہیں۔ مثلاً نئیحکومت کو آج 68 دن گزر چکے ہیں اور مسلم لیگ ن کے الیکشن جیتنے کے بعد یہ جانتے ہوئے کہ وزیراعظم کون ہوگا۔ 3 مہینے اور2 دن گزر گئے ہیں۔ 100 دن کا وقت تو حکومت نے روایتاً مانگا ہی تھا مگر بعض مسئلے اور مملکت کے کام روایتی طریقے سے نہیں چلائے جا سکتے کیونکہ جہاں اور ملک کے اندر لوگوں پر فوج پر، پولیس پر، سیاستدانوں پر، علماء پر، وکیلوں پر، حکومت پر اور تقریباً ہر ایک کے خلاف بموں، راکٹوں، خودکش حملہ آوروں سے حملے ہورہے ہوں وہاں روایتی 100 دن کا سوچنے کیلئے ٹائم مانگنا زیادتی نہیں بلکہ مجرمانہ نااہلی ہے جس دن مسلم لیگ ن نے الیکشن جیتا تھا اس دن سے 100 دن تو پورے ہو چکے تو کیا وزیراعظم نے اور ان کے سوچنے سمجھنے والے ساتھیوں نے کوئی حکمت عملی بنائی ہے ان دہشت گردوں کو روکنے کی۔ کیا انہوں نے یہ بنیادی فیصلہ بھی کیا ہے یا نہیں کہ دہشت گردی ملک کا اول اور اصلی مسئلہ ہے اور باقی ساری

پالیسیاں اور منصوبے اور اقتصادی خرچے اور بڑے بڑے خواب سب باتیں اور حکایتیں ہی رہیں گی کیا انہوں نے ملک کی باقی قوتوں اور خاص کر سیکورٹی کے کرتا دھرتا لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر ایک دو ٹوک اور نیک نیتی پر مبنی غوروفکر کیا ہے کہ اس عفریت پر کس طرح قابو پایا جائے گا۔
لگتا تو یہ ہے کہ حکومت کے پاس اتنا وقت نہیں یا ابھی اس کی ترجیحات میں یہ مسئلہ اوپر کی سطح تک نہیں پہنچ سکا۔ نہ جانے وہ کس حادثے اور کتنے بڑے سانحے کا انتظار کر رہی ہے۔ باہر کے ملکوں کے سوچ بچار کرنے والے ادارے اور لوگ تو دو ہاتھ آگے کی صورتحال کا روڈ میپ بنا کر اس کا توڑ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً جب ڈی آئی خان کی جیل پر حملہ ہوا اور ساری حکومت پولیس، فوج، ایجنسیاں منہ دیکھتی رہ گئیں اور طالبان باقاعدہ دندناتے ہوئے آئے اور نعرے لگاتے ہوئے چلے گئے تو یہاں امریکہ اور دوسرے ملکوں میں فوری الرٹ جاری ہو گئے کہ اب دوسرا بڑا حملہ ہونے والا ہے۔ پاکستان کو صرف خفت سے بچانے کیلئے امریکہ نے سارے عرب اور اسلامی ملکوں میں اپنے سفارت خانے بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ خود پاکستانی فوج کو بھی محسوس ہوا کہ اب حملہ اسلام آباد پر ہو گا اور مارگلہ کی پہاڑیوں پر کمانڈوزنے پہرے دینے شروع کر دیئے مگر یہ خاص اقدامات کب تک ہوں گے مارگلہ سے نہیں تو کسی اور طرف سے 100 سے 150 طالبان کا خودکش دستہ آئے گا اور اسلام آباد یا کسی اور ٹاپ سیکورٹی نشانے کو تہس نہس کر کے واپس چلا جائے گا۔
مگر افسوس یہ ہے کہ حکومت کی نظر ابھی ان سب کے بگڑتے ہوئے حالات پر نہیں ہے۔افواہ یہ ہے کہ حکومتی کیمپ کا اپنی ہی فوجی قیادت پر پورا اعتماد نہیں ہے اورتاثر یہ ہے کہ فوج اپنی پالیسی ان پر تھوپنا چاہتی ہے۔ پھر بھارت کے ساتھ اچانک تعلقات بگڑنے کی وجہ بھی حکومتی کیمپ میں شک وشبہ کے ساتھ دیکھی جا رہی ہے اس سارے بے یقینی کے دور میں حکومت کے لوگ اپنی اپنی ان کارروائیوں میں پوری تندہی سے لگے ہیں جہاں انہیں دوچار آنے ہاتھ لگ سکیں۔ اسحق ڈار صاحب 5 ارب ڈالر آئی ایم ایف سے لینے کو ہر شرط منظور کرتے رہے لیکن وزیر اعظم نے5 ارب ڈالر آئی پی پی والوں کو دینے کیلئے ایک سوال بھی نہیں پوچھا اور فوراً چیک جاری کر دیئے گئے۔ ہوائی جہازوں کے مشیر نے آنے کے ساتھ ہی سب کچھ چھوڑ کر جہاز خریدنے کا اعلان کر دیا اوروقت بھی 60 دن کا دیا کہ جتنی جلدی سودا ہو جائے جو ملنا ملانا ہے وہ ہو سکے وہ تو شکر ہے عدالت نے ان کے منصوبے خاک میں ملا دیئے۔ خاقان عباسی صاحب اور دوسروں نے پوری کوشش کر لی کہ قطر سے LNG بغیر کسی کی مداخلت کے فوراً خرید لیں مگر لوگ بیچ میں آگئے۔ نندی پور کی ہڈی بھی گلے میں پھنس گئی ہے تو وزیر اعظم نے جن لوگوں کو چھوٹ دے رکھی ہے وہ تو کام پر لگے ہیں مگر یہ نہیں معلوم کہ عوام اور ملک کو اس خوفناک بدامنی اور دہشت گردی سے بچانے کیلئے کیا کوئی نیشنل سیکورٹی پالیسی بھی کہیں بن رہی ہے یا ہر ادارہ آزاد ہے کہ اپنا دفاع خود کرے۔ ایک اے پی سی ہونا تھی وہ نہیں ہوئی، عمران خان کہتے رہ گئے کہ کچھ بڑے بیٹھ کر سوچیں کیا کرنا ہے اور کون کہاں کھڑا ہے مگر وہ بھی نہ ہو تو دور سے اب نظر یہ آرہا ہے کہ کسی نے کچھ نہیں کرنا۔ فوج خود اپنا پلان بنائے مگر وہ تو آرٹیکل6 کے زمرے میں آسکتا ہے کیونکہ کوئی فوجی پلان جب بن جاتا ہے تو پھر منتخب یا غیرمنتخب حکومت کا، مرکزی یا صوبائی حکومت کا پھر کوئی کردار نہیں ہوتا پھر جنگل میں جو کرنا ہوتا ہے وہ شیر نے کرنا ہو گا تو فوج بھی ابھی جنگل کا شیر بننے کو تیار نہیں اسی لئے ڈی آئی خان میں سب ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہے مگر کوئی دشمن کو نہیں روک سکا۔
اب اگر دوسرا ایسا بڑا حملہ ہوتا ہے تو پھر کیا ہو گا اگر سب کو اطلاع ہونے کے باوجود کوئی کچھ نہ کرسکا تو کسی نے شب خون مارا تو سارے سوتے ہی رہ جائیں گے لہٰذا حکومت کو فیصلہ اب فوری کرنا ہو گا کہ کیا وہ ، فوج اور ایجنسیاں اور صوبائی حکومتیں اور بڑی سیاسی پارٹیاں مل کر ایک واضح موٴقف پر اتفاق کرسکتی ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں تو پھر کسی کو تو شیر بننا پڑے گا اور حالات کو اپنے ہاتھ میں لینا پڑے گا۔ اب یہ کام وزیر اعظم بھی کر سکتے ہیں اور وہ اپنے پہلے قوم سے خطاب میں اعلان کر سکتے ہیں کہ پاکستان یا مرکزی حکومت طالبان کے ساتھ سیز فائر کا اعلان کرتی ہے، عام معافی دی جاتی ہے جن علاقوں میں طالبان کا قبضہ ہے وہاں سے پاکستانی فوج واپس بلائی جاتی ہے اور طالبان کو ان کے کنٹرول میں علاقوں کو ملک کا ایک صوبہ یا فاٹا کی طرح اسپیشل درجہ دے کر ان کی حکومت تسلیم کی جاتی ہے اور وہ مرکز سے بات کریں اور ان کی کیا خواہشات یا مطالبات ہیں تاکہ یہ بموں اور خودکش حملوں کا سلسلہ بند ہو اپنے علاقوں میں طالبان امریکہ اور افغانستان سے خود معاملات طے کر لیں اور اگر امریکہ کو واپسی کا راستہ دینا چاہیں تو دیں ورنہ ان سے جہاں تک لڑ سکتے ہوں لڑیں یعنی اسلام آباد طالبان کو ایک طرح کی آزادی دیدے اور تسلیم کرلے۔ اگر وزیر اعظم یہ نہیں کر سکتے تو وہ فوج کو حکم دیں کہ پوری قوت کے ساتھ پورے ملک کی حمایت کے ساتھ آپریشن کریں اور ان کا صفایا کریں اگر فوج ان کی بات نہیں مانتی تو قوم کو بتائیں کہ کون ہے جو ایک عوامی منتخب حکومت کی باتیں نہیں سن رہا اور اس کو نشان عبرت بنائیں اب اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو پھر کہہ دیں کہ اسٹیبلشمنٹ جو چاہے وہ کرے اور حکومت اس کے پیچھے چلے گی۔ یہ بھی ممکن نہیں ہو تو اعلان کریں کہ یہ مسئلہ ان سے حل نہیں ہو سکتا کسی دوسری جماعت کو آگے لے آئیں اور یہ بھی نہ کر سکے تو پھر انتظار کریں کیونکہ اگلے حملے کے بعد جنگل میں دو شیر نہیں ہو سکتے کسی کو اصلی شیر اور جنگل کا بادشاہ بننا ہو گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں