آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کئی پاکستانی اور اکثر امریکی تجزیہ نگار سوچ میں ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ میاں نواز شریف کے ساتھ ان کے دورہ واشنگٹن میں کیسا سلوک کیا گیا کہ ہر بڑی میٹنگ سے باہر نکل کر انہوں نے سب سے پہلے یہ سوال اٹھایا کہ ہمیں اپنی حرکتوں پر غور کرنا چاہئے اور اپنے بگڑے ہوئے گھر کو ٹھیک کرنے کی پہلے ضرورت ہے۔ پھر ہم دوسروں سے شکایت بھی کرسکتے ہیں اور مدد بھی مانگ سکتے ہیں۔ میں چاروں دن جب میاں صاحب امریکیوں سے مل رہے تھے غور سے ان کی باتوں کو سنتا رہا اور ان سے ملنے والوں سے پوچھتا رہا اکثر لوگ تو کسی خوف اور ڈر کی وجہ سے چپ رہے حتیٰ کہ سرتاج عزیز اور طارق کاظمی تو بالکل جیسے سوئچ آف کرکے بیٹھے رہے مگر کچھ لوگ پھر بھی نجی محفلوں میں بتاتے رہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ میاں صاحب کی باتیں سن کر اور ان لوگوں کی اندر کی کہانیاں سن کر اندازہ ہوا کہ امریکی زیادہ تر میاں صاحب کو ایک طرح سے لیکچر ہی دیتے رہے اور جہاں میاں صاحب نے کبھی پرزور بحث کرنے کی کوشش کی وہاں فوراً ان کو اس طرح مدلل جواب دیا گیا کہ وہ آگے کوئی بات نہ کر سکے۔ مثلاً ڈرون حملوں پر جب بات آئی اور یہ خاص کر ان ملاقاتوں میں جہاں صدر اوباما تو موجود نہیں تھے لیکن باقی تمام بڑے بڑے حضرات یعنی سوسن رائس یا CIA کے سربراہ یا جان کیری میاں صاحب سے ہم کلام تھے میاں صاحب کو بتا دیا گیا

کہ خود آپ کے لوگ اور ایسے لوگ جو اب بھی اہم عہدوں اور سول یا فوجی قیادت میں ہیں ہم سے باتیں کرتے رہے ہیں۔ ہر جگہ میاں صاحب آخر کار یہی سوچنے پر مجبور کر دیئے جاتے تھے کہ آپ پہلے اپنے لوگوں سے پوچھیں اور پھر ہم سے بات کریں۔ جھلا کر میاں صاحب یہ بیان دینے پر مجبور ہوئے اور ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی دفعہ کہ ہم کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہئے۔ امریکی بڑے ڈپلومیٹ بھی ہیں اور چالاک بھی۔ جو بات وہ خود کرکے میاں صاحب کو لوگوں کی نظروں میں ایک مذاق نہیں بنانا چاہتے تھے وہ باتیں انہوں نے اپنے میڈیا والوں اور کئی ایسے پاکستانی جو پاکستان میں حکومت تو کرنا چاہتے ہیں اور جب نکالے جاتے ہیں تو امریکہ آکر پاکستان کی برائیوں میں کتابیں لکھتے ہیں اور لیکچر دیتے ہیں ان سے کرا دیتے تھے۔
کئی بیان آئے، انٹرویو دیئے گئے اور آخر میں باب وڈورڈ کی وہ خبر بھی شائع کرا دی گئی جن میں ثبوت تھے کہ ڈرون حملے خود پاکستانی فوجی اور سویلین حکام کی صلاح اور مرضی سے ہو رہے ہیں۔ یہاں تک لکھا گیا کہ ایک پاکستانی سفیر کو تو ہر حملے اور اس کے ٹارگٹ کے بارے میں اطلاع دی جاتی تھی۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ڈرون حملے 2007ء کے آخر سے لے کر 2011 تک بڑی شدت کے ساتھ ہوئے اور فوجی اور سیاسی قیادت کو بس معلوم تھا یعنی زرداری صاحب، حسین حقانی صاحب، جنرل کیانی، جنرل پاشا اور تمام اہم لوگ مل کر یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور ان کے ایک شو پیس وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اس کام پر مامور تھے کہ وہ روز مذمتی بیان دے دیں اور اندر سے کام جاری رہے۔ اسی طرح جب میاں صاحب کو یہ کہانیاں سنائی گئیں کہ پنجاب میں لشکر طیبہ، جماعت دعوۃ اور طالبان کیا کر رہے ہیں تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ یہ سب حالات دیکھ کر اور سن کر میاں صاحب اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کی پیٹھ میں چھرے اور چاقو تو ان کے اپنے لوگ ہی گھونپ رہے ہیں وہ امریکیوں سے کیا شکایت کریں۔
اندر کی کہانی بتاتے ہوئے لوگوں نے انکشاف کیا کہ میاں صاحب کو اتنی پریشانی رہی کہ وہ کوئی بات دل سے کرنے کو تیار نہیں تھے کہ کہیں ان کا غصہ اور جذبات بے قابو نہ ہو جائیں اور وہ کہیں اپنے ہی لوگوں کے خلاف برس نہ پڑیں لہٰذا یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر بیان وہ لکھ کر دیں گے اور یہاں تک احتیاط کی گئی کہ پاکستانی کمیونٹی سے بھی وہ بات لکھ کر ہی کر رہے تھے مگر ایک ایسے مسئلے پر جس پر ان کو کوئی فوجی اور اپنے دوسرے طاقتور اداروں سے تصادم کا خطرہ نہیں تھا یعنی غیر ممالک میں بسنے والے پاکستانی لوگ وہ کچھ دل کی باتیں کر گئے۔ مگر اصلی موضوعات پر جو مضمون انہیں لکھ کر دیا گیا وہ وہی دہراتے رہے حالانکہ عجیب ہی نہیں مضحکہ خیز لگا کہ اپنی صدر اوباما سے بات چیت کے بارے میں بھی وہ پہلے سے ہی لکھ لائے تھے کہ میڈیا سے کیا کہا ہے۔ وہ تو اوباما نے انہیں قیمہ دال کی بات چھیڑ کر ایک لائن فالتو بولنے کا موقع دے دیا اور میاں صاحب نے فوراً ان کو دال قیمے کی دعوت دے دی۔ اتنی پابندیوں میں جکڑے ہوئے میاں صاحب جب پاکستان پہنچے تو اہم بیان جو انہوں نے دیا وہ اس خط میں یہ اقبال جرم تھا کہ ’’برسوں کی آمریت اور تباہ حال گورننس کی وجہ سے ملک میں ریاست کی حاکمیت بالکل ختم ہو چکی ہے۔ نہ صرف قبائلی علاقوں میں بلکہ شہری علاقوں میں بھی ایسے محفوظ خطے بن گئے ہیں جہاں قانون کا کوئی عمل دخل نہیں رہا‘‘۔ اس بیان کے بعد اب میاں صاحب کے پاس کیا آپشن رہ جاتے ہیں۔ امریکی لیکچر سن کر اور یہ قبول کر کے کہ ان کی حکومت کا پورے ملک تو کیا شہروں اور قصبوں پر بھی کوئی کنٹرول نہیں وہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔ کس کی کس سے شکایت کر رہے ہیں اور کس قدم کی تیاری کر رہے ہیں۔
لگتا تو یوں ہے کہ میاں صاحب جواز بنا رہے ہیں کہ پہلے فوج میں ایسے لوگوں کو لگایا جائے جو ان کی بات بغیر کسی چوں چرا کے سنیں اور پھر ایک ایسی جھاڑو پھیری جائے جو سب کو ٹھیک کر دے اور لوگوں میں حکومت اور قانون کا خوف دوبارہ بٹھا دے۔ جب میاں صاحب اپنے سیاسی لیڈروں کو خط لکھ رہے تھے یہ خبر آئی کہ ایران اور پاکستان کے بارڈر پر جھڑپ ہوئی اور 14 ایرانی ہلاک ہوگئے۔ چند ہی گھنٹے بعد یہ خبر بھی آگئی کہ ایرانی حکام نے ان لوگوں کو پکڑ لیا اور 16 کو سرعام پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ میاں صاحب یہ خبر سن کر ٹھنڈی آہیں بھر کر رہے گئے کیونکہ وہ چاہتے تو ایسا ہی کرنا ہیں مگر ان کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے لگتے ہیں اور وہ اس مجبوری کی حالت میں نہ کسی کو پکڑ سکتے ہیں نہ سزا دے سکتے ہیں۔ مگر غلطی کس کی ہے یہ میاں صاحب خود اپنے گریبان میں دیکھیں تو شاید کچھ جواب مل جائے۔ انہوں نے تیسری دفعہ اقتدار میں آنے کے بعد اس طرح شروعات کی ہے جیسے وہ پہلی دفعہ حکومت کر رہے ہیں اور لوگوں کو خوش کرکے اور عوام کو بیوقوف بنا کر دوبارہ اور تیسری بار پھر الیکشن کے ذریعے اور ووٹ لے کر حکومت میں آئیں گے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ میاں صاحب اس دور حکومت کو بونس اور اللہ کی خاص مہرمانی سمجھ کر لوگوں کا اعتماد اور ان کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اپنے طور طریقے بدل دیتے۔ چوروں، ڈاکوئوں کو پکڑتے اور عبرت کا نشان بناتے نہ کہ ان کی تعریفیں کرکے تالیاں بجاتے۔ میاں صاحب نے گھر کے اندر تو اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی اور جب امریکی شاطروں نے انہیں کہا کہ بھائی آپ جاکر اپنا House in Orderکریں تو اب شکایتیں کر رہے ہیں مگر خالی باتوں سے کچھ نہیں ہوتا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں