آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
راقم آسٹریلیا کی نیشنل یونیورسٹی کینبرا سے انٹرنیشنل پالیٹکس میں ماسٹرز کررہا تھا تو کورسز آف اسٹڈیز میں وہاں ایک کورس صحافت سے متعلق بھی تھا جو پروفیسر میک ہارن لیا کرتے تھے۔ دنیا کے مختلف خطوں اور ملکوں کے صحافتی رجحانات پر اتھارٹی سمجھے جانے والے پروفیسر ہارن نے اپنے ایک لیکچر میں کہا تھا کہ ’’صحافی کہیں کا بھی بالعموم جذبات کی لہر پر سوار ہوتا ہے اور جنگی فنون کے مظاہرہ پر ہر دم آمادہ۔ مگر وہ کہتے ہیں نا، کہ حق شیطان کا بھی نہیں مارنا چاہئے‘‘۔ سو انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ کوئی اچھا کام کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جائے اور کہیں گڑبڑ ہو تو نشاندہی کے ساتھ ساتھ اصلاح احوال کی تدبیر بھی سمجھائی جائے کیونکہ تدبیر کے بغیر تنقید غیر پیشہ ورانہ فعل ہے تو آج کا کالم اپنے استاد محترم کی اس نصیحت کے نام کررہا ہوں۔ جب سے نئی سرکار آئی ہے، سرنیہوڑے کچھ نہ کچھ بہتر کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ داخلی محاذ کے مسائل و معاملات خاصے گمبھیر ہیں، ہتھیلی پر سرسوں جمنے والی کوئی بات نہیں بقول شخصے گو مسائل ہمالہ جیسے ہیں مگر سرکانے کیلئے دھکا ضرور لگایا جارہا ہے۔ اس امید پر کہ بالآخر کامران ٹھہریں گے البتہ خارجی محاذ پر حکومت کی کارکردگی حوصلہ افزا ہے اور محنت کے اثرات محسوس ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ انڈیا، امریکہ اور

افغانستان کے حوالے سے سمت بتدریج درست ہورہی ہے۔ کیس اسٹڈی کے طور پر ہم انڈیا پر بات کریں گے۔
جنہیں دنیا گھومنے کا موقع ملا ہے گواہی دیں گے کہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ،اسکنڈے نیویا اور دیگر ممالک سمیت جہاں جنوبی ایشیا والے لاکھوں کی تعداد میں بستے ہیں پاکستانی اور ہندوستانی محبت پیار سے مل جل کر رہتے ہوئے دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ ان کا تعلق دو متحارب ملکوں سے ہے جو تین عدد خوفناک قسم کی جنگیں لڑچکے ہیں، جن کے درمیان ویزے کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ میزبان ممالک کے لوگ پاکستانیوں اور ہندوستانیوں کے اس طرز عمل پر حیران ہوتے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بین الاقوامی فورمز پر ہمارے سفارتکار اور مندوب ایک دوسرے کے بخیئے ادھیڑتے دکھائی دیتے ہیں اور فراغت کے اوقات میں سب سے زیادہ گپ شپ بھی انہی کے درمیان ہوتی ہے۔ فی الحقیقت دونوں طرف سے خلق خدا کی قیمت پر بدترین سیاست ہورہی ہے۔ ہمارے ہاں کی اسٹیبلشمنٹ کا تذکرہ تو بہت ہوتا ہے، مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ سرحد پار کی اسٹیبلشمنٹ ہمارے سے بھی کہیں زیادہ تگڑی ہے اور کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ بھارتی سیاست کی لگام اسی کے ہاتھ میں ہے۔ پاکستان دشمنی میں بھارتی میڈیا بھی کسی سے پیچھے نہیں، جبکہ ہمارا میڈیا بالعموم صلح صفائی اور امن و آشتی کی بات کرتا ہے جو کچھ غلط بھی نہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی قیادت بالخصوص میاں نواز شریف کو جب بھی موقع ملا بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور سرحد کے دونوں جانب اس سوچ کے مالک بکثرت موجود ہیں کہ جنوبی ایشیا کے ان دونوں ہمسایوں کے درمیان، اگر کسی معنی خیز سلجھائو کی صورت بنی تو وہ صرف اور صرف میاں نواز شریف کے عہد میں ہوگی۔ ایک لابی کا تو خیال ہے کہ اگر میاں صاحب بطور وزیراعظم نومبر 1990ء سے شروع ہونے والی پہلی ٹرم مکمل کرلیتے، تو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات مثبت سمت میں بہت آگے تک جا چکے ہوتے مگر بدقسمتی سے اس کی نوبت نہ آسکی اور انہیں بیچ میں ہی چلتا کیا گیا۔ فروری 1997ء سے شروع ہونے والی دوسری ٹرم تو خاص طور پر اہم تھی۔ اس بار بھارت میں ان کے ہم منصب آئی کے گجرال تھے۔ دونوں کی کیمسٹری حیران کن حد تک ملتی تھی۔ دوستی کی حدوں کو چھوتا ہوا ایک طرح کا لگائو اور قرب جس کی جڑیں ہم زبانی میں تھیں۔ ان دنوں گجرال صاحب کے ’’گجرال ڈاکٹرائن‘‘ نے بہت شہرت پائی تھی۔ جس کا لب لباب یہ تھا کہ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو بہتر بنایا جائے اور ایک طویل سفارتی کشاکشی کے بعد 1998ء میں دونوں ممالک مربوط مذاکرات پر آمادہ ہوگئے تھے۔ باقاعدہ نظام الاوقات بھی طے پاگیا تھا، انہی اقدامات کے جلو میں فروری 1999ء کے تیسرے ہفتے مشہور زمانہ لاہور سربراہی کانفرنس ہوئی تھی۔ جب وزیراعظم نواز شریف کی دعوت پر ان کے بھارتی ہم منصب جناب واجپائی بس میں بیٹھ کر لاہور تشریف لائے تھے۔ ہر لحاظ سے یہ ایک کامیاب وزٹ تھا اور قرآئن بتاتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے مابین اس سے زیادہ قربت کے لمحات کبھی نہیں آئے۔ ہر موضوع پر کھل کر بات ہوئی۔ واجپائی جی کی کویتا ’’آب جنگ نہیں ہونے دیں گے‘‘ دو آتشہ کا کام دے رہی تھی جو صرف مینار پاکستان بھی تشریف لے گئے اور وہاں دھری مہمانوں کی کتاب میں لکھا کہ انڈیا کی سلامتی اور خوشحالی کا دار و مدار پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی پر ہے۔ وزٹ کی اہم ترین دستاویز ’’لاہور ڈیکلریشن‘‘ میں وہ سب کچھ تھا، جو معروضی حالات میں پاکستان اور بھارت جیسے ہمسایوں کے مابین طے پانے والی دستاویز میں ہوسکتا تھا پھر یکا یک کارگل ہوگیا اور یہ سب ریت کی دیوار کی بیٹھ گیا۔ حالات و واقعات کی ترتیب بالاخر 12 اکتوبر 1999ء کے سانحہ پر منتج ہوئی۔ پاکستان کے عام انتخابات کے بعد میاں صاحب تیسری بار وزیراعظم بنے تو دو طرفہ تعلقات کے محاذ پر پھر سے ہلچل ہوئی تھی۔ روایتی تہنیتی پیغامات اور فون روابط کے جلو میں اہم پیشرفت یہ ہوئی کہ مئی کے آخری ہفتے بھارتی وزیراعظم کے خصوصی معاون ایس کے لامبا میاں صاحب کیلئے منموہن سنگھ کا خیرسگالی کا پیغام لیکر آئے تھے۔ جس میں میاں صاحب کی اس خواہش کا بالخصوص خیر مقدم کیا گیا تھا کہ ’’بھارت کے ساتھ تعلقات کا سلسلہ وہیں سے جوڑیں گے جہاں 1999ء میں ٹوٹا تھا۔‘‘ مگر پاکستان منتظر ہی رہا اور سرحد پار سے کوئی خیر خبر نہ آئی۔ تاہم دیدہ، نادیدہ روابط جاری رہے۔ عقبی دروازے کھلے رہے اور پیغام رسانی ہوتی رہی پھر میاں شہباز شریف بھارتی پنجاب ہو آئے۔ جہاں ان کا بھرپور سواگت ہوا۔ گو بعض حلقوں کو ان کا یہ فعل ناگوار گزرا مگر سفارتی حلقوں میں اس کی بھرپور پذیرائی ہوگی اور یہ اسلام آباد کی ان کاوشوں کا نتیجہ تھا کہ کارگل کے بعد پہلی بار دونوں جانب کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز واہگہ میں ملے اور سب سے بڑا بریک تھرو بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید کا بیان ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے سوا چارہ نہیں۔ پڑوسی بدلے نہیں جاسکتے اور امن سب کی ضرورت ہے۔ تاہم کچھ طاقتیں ایسی ضرور ہیں جو ہمارے درمیان امن نہیں چاہتیں۔ ’’بھارتی قیادت کی طرف سے اس قسم کی سوچ کا اظہار خوش آئند ہی نہیں پاکستانی سفارت کاری کی نمایاں کامیابی بھی ہے، جس کا سہرا سیاسی قیادت کے سر ہے اور جسے دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے مگر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید بدستور جاری ہے اور ایسے میں وہ بھول جاتے ہیں کہ 2014ء بھارت میں عام انتخابات کا سال ہے اور پورا ملک اس بخار میں مبتلا ہوچکا۔ ووٹروں کو رجھانے اور لبھانے کیلئے نت نئے نعرے تخلیق ہورہے ہیں۔ بھارت میں پاکستان دشمنی کا نعرہ اب بھی بک رہا ہے جسے بی جے پی اور کانگریس دونوں کیش کرانے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ متوقع وزیراعظم نریندرمودی تو خاص طور پر پاکستان کے خلاف زہر افشانی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ صحیح صورتحال انتخابات کے بعد سامنے آئے گی۔ سو معروضی حالات میں دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے پاکستان کی حکمت عملی بہترین آپشن تھا اور پاکستانی قیادت نے اپنے کارڈ بلاشبہ مہارت کے ساتھ کھیلے ہیں اور دنیا بھر میں ان کے پیس افینسو کا نوٹس لیا گیا ہے۔