• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حسن شبر
حسن شبر | 27 جنوری ، 2024

بیلٹ پیپر اور بیلٹ باکس کی کہانی؟

پاکستان میں الیکشن کے دن شہری ایک کاغذ کے ٹکڑے پر نشان لگا کر اسے ایک ڈبے میں ڈال کر اپنی سیاسی پسند کا اظہار کرتے ہیں۔

اس پورے عمل کو مکمل کرنے کے لیے جس کاغذ اور ڈبے کو استعمال کیا جاتا ہے اسے دنیا بھر میں بیلٹ پیپر اور بیلٹ باکس کہا جاتا ہے۔

بیلٹ کے لفظ کے بارے میں غالب گمان ہے کہ یہ اطالوی زبان سے آیا ہے۔

ان دونوں چیزوں کا کئی ممالک میں صدیوں سے استمعال کیا جارہا ہے اور الیکشن کے دن یہ حکومتوں کی طرف سے عوام کو مہیا کی جاتی ہیں جس کے ذریعے شہری اپنی سوچ اور پسند کا اظہار کرتے ہیں۔

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ میں پہلی مرتبہ 15 اگست 1872ء کو پوٹن فریکٹ میں خفیہ رائے شماری کی گئی تھی جس میں بیلٹ پیپر اور بیلٹ باکس استعمال ہوئے تھے۔

دنیا بھر میں انتخابات کے موقع پر ایک شہری یا ووٹر ایک ہی بیلٹ استعمال کرتا ہے اور اس عمل میں اپنے ساتھ وہ کسی دوسرے فرد کو شریک نہیں کر سکتا۔

دنیا کے مختلف ملکوں میں بیلٹ پیپر اور بیلٹ باکس کی تیاری یا اس کی قسم سے متعلق کسی خاص قوانین کے شواہد نہیں ملتے اور یہی دیکھا گیا ہے کہ مختلف ملکوں میں یہ دونوں چیزیں الگ الگ رنگ اور سائز کی ہوتی ہیں۔

یہ باکسز ووٹرز کی تعداد کو مدنظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں پھر الیکشن کا وقت ختم ہونے کے بعد انہیں مقررہ وقت پر کھولا جاتا ہے، ان کا وزن ایسا ہوتا ہے کہ انہیں آسانی سے ایک سے دوسرے مقام پر منتقل کیا جاسکے۔

بعض ممالک میں ان باکسز پر لگائی جانے والی مہر یا تالے کی شکل، قسم اور اس کی تیاری کے مواد کے بارے میں بھی قواعد و ضوابط موجود ہیں۔

بیلٹ باکس کی ابتدائی شکل بنانے کا کام مٹّی سے شروع ہوا پھر انہیں لوہے سے بنایا جانے لگا اور اب بہت سے ممالک، جن میں پاکستان بھی شامل ہے یہاں اب بیلٹ باکس پلاسٹک سے بنے ہوتے ہیں۔

بعض ممالک ایسے بھی ہیں جہاں اب بیلٹ پیپر یا باکس کا استعمال نہیں ہوتا کیونکہ وہاں اب الیکٹرانک طر یقے سے شہری اپنے پسندیدہ امیدواروں کو چنتے ہیں۔