آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 11؍صفر المظفّر 1440ھ 21؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اب تک جتنی حکومتیں آئی ہیں انہوں نے آئین کے مطابق کار ریاست نہیں چلایا۔ اس میں کسی بھی حکومت کو خواہ وہ منتخب حکومت ہو یا فوجی حکومت ہو اس میں کس کو استثنیٰ نہیں ہے وہ اپنی سہولتوں اور مفادات کو دیکھ کر کاروبار مملکت چلانے کا چلن اور روایت پر چلتی آئی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان بحرانوں کے گرداب میں پھنسا رہاہے اگر آئین کی پاسداری کی جاتی تو پاکستان ایک فلاحی اور ترقی یافتہ ملک بن چکا ہوتا۔ نہ یہاں انسانی حقوق کے مسائل ہوتے اور نہ کرپشن سے پیدا ہونے والی لعنت ، پاکستان کے جزا و سزا کے نظام میں اتنی خامیاں ہیں کہ جس کی بدولت مجرم کو سزا ہی نہیں مل پاتی۔
میں نے حال ہی میں اپنے کسی کالم میں یہ لکھا تھا کہ پاکستان صرف اس علاقے کا ہی ایک اہم اور اسٹرٹیجک ملک نہیں ہے بلکہ اس کا محل وقوع ایسا ہے کہ ہر دنیا کا اہم ترین ملک ہے لیکن پاکستان کو اس اہمیت کے مطابق قیادت میسر نہیں آئی ستم ظریفی یہ ہے کہ برسراقتدار سیاسی پارٹیاں ایسے قوانین اسمبلیوں سے پاس کرادیتی ہیں کہ جس کی پاسداری ان کے لئے مشکل ترین مسئلہ بن جاتی ہے۔ اٹھارویں ترمیم پر عملدرآمد کا نہ ہونا اس کی بڑی مثال ہے۔ یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ پہلے بغیر سوچے سمجھے قدم اٹھالیا جاتا ہے اور اس کے دور رس نتائج پر نظر نہیں رکھی جاتی ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ

امور مملکت چلانا مشکل ہوجاتا ہے۔ ہمارے یہاں مصیبت یہ ہے کہ انتظامیہ ہو ، عدلیہ ہو، مقننہ ہو وہ ا پنی حدود سے تجاوز کرکے دوسروں کے حدود میں دخل اندازی کررہے ہوتے ہیں جس کا نتیجہ خوشگوار تو نہیں ہوسکتا۔
ابھی کچھ دنوں کی بات ہے کہ امریکا کے صدر اوباما جب وہ ایران کے قریب ہونے کیلئے کوشاں تھے بلکہ دونوں قریب آچکے تھے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایٹم بم دھوکے سے بنایا۔ حیرت کی بات ہے کہ پاکستان کی حکومت نے کسی سیاسی پارٹی نے یا کسی ادارے نے اس پر اعتراض و احتجاج نہیں کیا حالانکہ شدید احتجاج کرنا چاہئے تھا لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ ریمارکس کسی ہما شما نے نہیں دیئے ہیں یہ امریکا کے صدر نے دیئے ہیں اس کے پیچھے یقینی طور پر کچھ مقاصد ہیں اور کیا یہ وزارت خارجہ کے جغادریوں کی عقلوں تک رسائی نہیں رکھتے۔
ایک اور انتہائی خطرناک صورت حال سامنے لائی جارہی ہے کہ اسلامی شدت پسند،کیلاش وادی کے پرامن باسیوں کو موت کی دھمکیاں دے رہے ہیں کہ یا تو وہ مسلمان ہوجائیں یا مرنے کو تیار ہوجائیں۔ اس علاقے میں اسمٰعیلی برادری بھی خوفزدہ ہے کیونکہ ان کو بھی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ امریکی میڈیا اور مغربی میڈیا اس خبر کو موثر طریقے سے پھیلا رہا ہے۔ اقلیتوں کے بارے میں پہلے سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ پاکستان میں غیرمحفوظ ہیں اور اب ان دھمکیوں میں طالبان کا نام لیا جارہا ہے اور طالبان کے نام پر پر تشدد وارداتوں کی بدولت بہت بدنام ہوچکا ہے۔ حقیقت یہ کہ اسلام امن و راستی کا دین ہے۔ لیکن گزشتہ دنوں جس طرح کے خوفناک واقعات ہوئے جس میں سرکاری اور نیم فوجی اہلکاروں کو ذبح کیا گیا اس کا بہت ہی غلط تاثر دنیا میں ہوا۔ وہ جی ایچ کیو پر حملہ ہو یا کمانڈو میس پر حملہ ہو یا فرنٹیئر کور کے نوجوانوں کے سر قلم کرنے کا واقعہ ہو۔ امریکی میڈیا اور فوجی میڈیا یہ رنگ دے رہا ہے کہ پاکستان میں نہ حکومت ہے، نہ حکومت کی رٹ ہے اور نہ پاکستان کی فوج اس میں کوئی موثر قدم اٹھا پا رہی ہے۔
ان تمام چیزوں کا تجزیہ کیجئے کہ معاملات کہاں لے جائے جارہے ہیں یہ تاثر پیدا ہورہا ہے کہ سول حکومت فیل ہوگئی ہے اس کی پورے ملک میں کہیں رٹ نہیں ہے۔ حکومتیں کیوں ناکام ہوجاتی ہیں اس لئے کہ امور مملکت کو نمٹاتے ہوئے ذہن سے کام نہیں لیتی ہیں ، ایک روبوٹ کی طرح کام کرتی ہیں۔ ہر حکمراں یہ سوچتا ہے ہمارا اقتدار نہ جائے بھلے ملک کو نقصان پہنچ جائے حالانکہ نتیجے میں اقتدار بھی چلا جاتا ہے۔
ایک امریکی اخبار نے خبر شائع کی بلکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس خبر کو CIA نے FLASH کرایا اور پھر یہ خبر ساری دنیا میں پھیل گئی بلکہ پھیلائی گئی۔ خبر یہ تھی کہ کراچی کے ایک تہائی علاقے پر طالبان کا کنٹرول ہے اور ان علاقوں کے نام بھی دیئے گئے۔ بہت سے لوگ اس صورت حال سے آگاہ تھے لیکن نہ جانے کیوں لوگ ملک اور اپنی سلامتی سے اس قدر لاتعلق ہوگئے ہیں کہ وہ اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کرتے اس کی ایک وجہ خوف ہے جس نے پورے ملک کو دبوچ رکھا ہے۔ اس سارے معاملے میں منتخب حکومت کا ردعمل نہ ہونے کے برابر رہا ہے، اس سے یہ تاثر ابھرا کہ فوج جو شمالی وزیرستان میں کارروائی کررہی ہے وہ حکومت کے ایما پر نہیں کررہی ہے بلکہ وہ اپنی اسٹرٹیجی سے مجبور ہو کر کررہی ہے اور اس سلسلے میں بہت کچھ کہا بھی گیا۔ کراچی کے ایک تہائی علاقوں پر طالبان کے کنٹرول کے بارے میں سندھ اسمبلی میں بھی یہ کہا گیا کہ کراچی کے بعض علاقوں میں ایسا ہے اور اس کا اقرار سندھ کے وزیراعلیٰ نے بھی کیا۔
خدا کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کیجئے، سازش کو سمجھئے، ملک کی سلامتی مقدم ہے۔ میں آپ اور حکومتیں مقدم نہیں ہیں۔ دنیا میں یہ بات پھیلائی جارہی ہے کہ پاکستان اور اس کی قوم طالبان سے اور دہشت گردوں سے نہیں نمٹ سکتی وہ جوہری پروگرام کی حفاظت کیا کرے گی۔ اگر امریکہ یہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے، تو وہ یقینی طور پر کچھ الٹ کرنا چاہتا ہے اس معاملے میں امریکہ پر بھروسہ نہ کیا جائے وہ اسامہ بن لادن کو حفاظتی حصار کے اندر گھس کر مار سکتا ہے تو وہ کچھ بھی کرسکتا ہے، امریکہ معاملے کو اسی طرف لے جارہا ہے کہ دنیا یہ کہہ اٹھے کہ پاکستان کا جوہری اسلحہ طالبان کے ہاتھوں میں جاسکتا ہے اس لئے وہ جوہری پروگرام کے خلاف خطرناک اسٹرٹیجی بناسکتے ہیں۔ اب وہ تیزی سے ایران کے قریب جارہے ہیں انہیں پاکستان کی ضرورت نہیں ہے۔ آج عرب ملکوں کی گھبراہٹ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔
25؍ اگست 2007ء کا میرا کالم پڑھ لیجئے جس کا عنوان ہے ’’تاریکیوں میں روشنی کی جستجو‘‘ جو صورت حال اس وقت ہے اس وقت تو نہیں تھی لیکن اگر امریکی اسٹرٹیجی کی کڑیاں ملاتے جائیں تو سمیٹنا مشکل نہ تھا۔ مغربی ممالک کا میڈیا اور امریکی میڈیا گزشتہ دو تین سال سے یہ پروپیگنڈہ کررہا ہے کہ پاکستان کی اندرونی سلامتی خطرے میں ہے۔ حکومت کی رٹ کمزور ہے وہ بلوچستان میں اور صوبہ سرحد میں اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں انتظام و انصرام سے معذور ہے۔ میں نے 22؍ مارچ 2002ء کو بھی اپنے کالم میں جس کا عنوان تھا ’’ملک کی اندرونی سلامتی‘‘ لکھا تھا کہ ملک کے اندرونی استحکام اور نظم و ضبط پر توجہ دیں۔ معاشرہ دہشت گردی، قتل و غارت گری اور لاقانونیت کا متحمل نہیں ہوسکتا ، لوگ کب تک خوف اور بے یقینی کے عالم میں زندہ رہ سکتے ہیں ۔ امریکی میڈیا حکومت کے ایما پر ساری دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ پاکستان کا جوہری اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جانے کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ وہ دشمن بڑا خطرناک ہے جس نے اپنے چہرے پر کئی چہرے سجا رکھے ہیں اور دوست بن کر دشمنی پر آمادہ ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں