امریکی صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد گزشتہ دنوں کانگریس سے اپنے پہلے خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کا کابل ایئرپورٹ حملے میں ملوث داعش دہشت گرد کی گرفتاری اور امریکہ حوالگی کا کریڈٹ پاکستان کو دینے اور شکر گزار ہونے کو پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔ امریکہ کے حوالے کیا جانے والا داعش دہشت گرد شریف اللہ 26اگست 2021کو کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے خود کش حملے میں ملوث تھا جس میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے دوران 13امریکی فوجی اور 170 سے زائد افغان شہری ہلاک ہوئے تھے اور اس حملے کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) نے قبول کی تھی۔واضح رہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کے رہائشی داعش دہشت گرد شریف اللہ کو امریکہ حوالگی سے 10 روز قبل سی آئی اے کی خفیہ اطلاعات پر آئی ایس آئی اور سی آئی اے کی مشترکہ کارروائی میں پاک افغان سرحد کے قریب سے گرفتار کیا گیا تھا۔ داعش سربراہ شہاب المہاجر کا قریبی معاون تصور کیا جانے والا شریف اللہ کابل ایئرپورٹ پر حملے سے قبل افغانستان میں 21 سے زائد دہشت گرد حملوں میں ملوث تھا اور اسے ستمبر 2019 میں کابل سے گرفتار کیا گیا تھا مگر 2021 میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد وہ جیل سے فرار ہوگیا تھا۔ شریف اللہ کو 26 اگست 2021 کو کابل ایئر پورٹ پر ہونے والے خود کش حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا تھا اور وہ حملے کے بعد سے روپوش تھا۔
داعش دہشت گرد شریف اللہ کی بروقت امریکہ حوالگی کو پاکستان کے ایک ’’ماسٹر اسٹروک‘‘ اور پاک امریکہ تعلقات میں اہم پیشرفت قرار دیا جارہا ہے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی امید ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے داعش دہشت گرد کی امریکہ حوالگی پر ڈونلڈ ٹرمپ کے اظہار تشکر کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ پاکستان ہمیشہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے جسکے نتیجے میں پاکستان کے 80 ہزار سے زائد بہادر فوجیوں اور شہریوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اپنے پہلے دور صدارت میں ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ نے 15 برسوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر کی امداد احمقانہ انداز میں دی لیکن پاکستان نے بدلے میں ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا، پاکستان نے ان دہشت گردوں کو پناہ دی جنہیں ہم افغانستان میں پکڑنا چاہتے تھے تاہم حالیہ پیشرفت کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ میں پاکستان کیلئے مثبت تبدیلی اور افغانستان کیلئے سخت رویہ دیکھنے میں آیا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان حکومت سے افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی ہتھیاروں اور جنگی ساز و سامان کی واپسی کا مطالبہ دہرایا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق امریکہ اور اتحادی افواج کے افغانستان میں چھوڑے گئے فوجی ساز و سامان اور جدید ہتھیاروں کی مالیت 7.5 ارب ڈالر سے زائد ہے جو اس وقت افغانستان میں دہشت گردوں کے زیر استعمال اور پاکستان کی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ ان جدید امریکی ہتھیاروں سے نہ صرف افغان دہشت گردوں کی استطاعت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ یہ غیر ملکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے میں استعمال ہورہے ہیں اور افغانستان، امریکی ہتھیاروں کو فروخت کرنے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے جہاں کھلے عام امریکی ہتھیار بازاروں میں دستیاب ہیں۔
ایسے میں جب ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے دوسرے ممالک کے خلاف سخت لہجہ اور رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں، ان کا داعش دہشت گرد کی امریکہ حوالگی پر پاکستان کی تعریف اور اظہار تشکر کرنا یقیناًپاکستان کی عالمی سطح پر بڑی کامیابی ہے۔ امید کی جارہی تھی کہ امریکہ بدلے میں پاکستان کیلئے نرم گوشہ اختیار کرے گا مگر گزشتہ دنوں امریکہ کی جانب سے پاکستان کیلئے ٹریول ایڈوائزری جاری کرنے، امریکیوں کو دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر پاکستان کے سفر سے اجتناب کرنے اور پاکستانیوں کی امریکہ داخلے پر ممکنہ پابندی جیسی خبروں نے مایوسی کی لہر دوڑا دی ہے۔ ایسی صورتحال میں جب پاکستان، ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہے، داعش کے اہم کمانڈر کی گرفتاری اور امریکہ حوالگی سے یہ بات خارج از امکان نہیں کہ مستقبل میں پاکستان کو داعش کی طرف سے بھی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان سے اظہار تشکر کرنے پر حکومت کی خوشی قابل دید ہے مگر کوئی بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں ٹرمپ کی جانب سے ’’ڈو مور‘‘ (Do More) کا مطالبہ سامنے آئے اور وہ داعش دہشت گرد کے بعد اسامہ بن لادن کیخلاف ایبٹ آباد آپریشن میں اہم کردار ادا کرنیوالے ڈاکٹر شکیل آفریدی جو اس وقت پاکستان کی جیل میں اپنی سزا بھگت رہا ہے، کی حوالگی کا مطالبہ بھی کریں جس کیلئے حکومت پاکستان کو تیار رہنا چاہئے۔